Om Therapy – The greatest treasure of humanity (in Urdu)

پرشن: مانوتا کے شبدکوش میں سبسے مُولیوان شبد کؤن سا ہے؟

اُتّر: او3م ()۔

پرشن: اَچّھا! ہِندُاوں کا پوِتر نام؟

اُتّر: اِس نام میں ہِندُو، مُسلِم، یا اِسائی جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ بلکِ او3م تو کِسی نا کِسی رُوپ میں سبھی مُکھے ّسںسکرتِیوں کا پرمُکھ بھاگ ہے۔ یہ تو اَچّھائی، شکتِ، اِیشور بھکتِ اؤر آدر کا پرتیک ہے۔ اُداہرن کے لِئے اَگر ہِندُو اَپنے سب منتروں اؤر بھجنوں میں اِسکو شامِل کرتے ہیں تو اِیسائی اؤر یہُودی بھی اِسکے جیسے ہی ایک شبد “آمین” کا پریوگ دھارمِک سہمتِ دِکھانے کے لِئے کرتے ہیں۔ ہمارے مُسلِم دوست اِسکو “آمین” کہ کر یاد کرتے ہیں۔ بؤدّھ اِسے “اوں منِپدمے ہُوں” کہ کر پریوگ کرتے ہیں۔ سِکھ مت بھی “اِک اوںکار” اَرتھات “ایک او3م” کے گُن گاتا ہے۔

اَںگریجی کا شبد “omni”، جِسکے اَرتھ اَنںت اؤر کبھی ختم ن ہونے والے تتّوّں پر لگائے جاتے ہیں (جیسے omnipresent، omnipotent)، بھی واستو میں اِس او3م شبد سے ہی بنا ہے۔ اِتنے سے یہ سِدّھ ہے کِ او3م کِسی مت، مجہب یا سمپرداے سے ن ہوکر پُوری اِںسانِیت کا ہے۔ ٹھیک اُسی ترہ جیسے کِ ہوا، پانی، سُورے، اِیشور، وید آدِ سب پُوری اِںسانِیت کے لِئے ہیں ن کِ کیول کِسی ایک سمپرداے کے لِئے۔

پرشن: او3م وید میں کہاں مِلتا ہے؟

اُتّر: یجُروید [2/13، 40/15،17]، گوید [1/3/7] آدِ ستھانوں پر۔ اِسکے اَلاوا گیتا اؤر اُپنِشدوں میں او3م کا بہُت گُنگان ہُآ ہے۔ ماںڈُوکے اُپنِشد تو اِسکی مہِما کو ہی سمرپِت ہے۔

پرشن: او3م کا اَرتھ کیا ہے؟

اُتّر: ویدِک ساہِتے اِس بات پر ایکمت ہے کِ او3م اِیشور کا مُکھے نام ہے۔ یوگ درشن [1/27،28] میں یہ سپشٹ ہے۔ یہ او3م شبد تین اَکشروں سے مِلکر بنا ہے- اَ، اُ، م۔ پرتیّک اَکشر اِیشور کے اَلگ اَلگ ناموں کو اَپنے میں سمیٹے ہُئے ہے۔ جیسے “اَ” سے ویاپک، سرودیشیے، اؤر اُپاسنا کرنے یوگے ہے۔ “اُ” سے بُدّھِمان، سُوکشم، سب اَچّھائیّوں کا مُول، اؤر نِیم کرنے والا ہے۔ “م” سے اَنںت، اَمر، جنانوان، اؤر پالن کرنے والا ہے۔ یے تو بہُت تھوڑے سے اُداہرن ہیں جو او3م کے پرتیّک اَکشر سے سمجھے جا سکتے ہیں۔ واستو میں اَنںت اِیشور کے اَنگِنت نام کیول اِس او3م شبد میں ہی آ سکتے ہیں، اؤر کِسی میں نہیں۔

پرشن: بھلا کبھی اَکشر بھی کوئی اَرتھ دے سکتے ہیں؟ اِس ترہ ہر ایک اَکشر کے منمانے اَرتھ کرنا بُدّھِمانوں کا کام نہیں۔

اُتّر: جو آپ “شبد-اَرتھ” سمبندھ کو وِچارتے تو ایسا کبھی نہیں کہتے۔ واستو میں ہریک دھونِ ہمارے من میں کُچھ بھاو اُتپنن کرتی ہے۔ سرشٹِ کی شُرُآت میں جب اِیشور نےشِیوں کے ہردیوں میں وید پرکاشِت کِیے تو ہریک شبد سے سمبںدھِت اُنکے نِشچِت اَرتھشِیوں نے دھیان اَوستھا میں پراپت کِیے۔شِیوں کے اَنُسار او3م شبد کے تین اَکشروں سے بھِنن بھِنن اَرتھ نِکلتے ہیں، جِنمیں سے کُچھ اُوپر دِئے گئے ہیں۔

ایک آوشیک نِویدن:

اُوپر دِئے گئے شبد-اَرتھ سمبندھ کا جنان ہی واستو میں وید منتروں کے اَرتھ میں سہایک ہوتا ہے اؤر اِس جنان کے لِئے منُشے کو یوگی اَرتھات اِیشور کو جانّے اؤر اَنُبھو کرنے والا ہونا چاہِئے۔ پرنتُ دُربھاگے سے وید پر اَدھِکتر اُن لوگوں نے کلم چلائی ہے جو یوگ تو دُور، یم نِیموں کی پرِبھاشا بھی نہیں جانتے تھے۔ سب پشچِمی وید بھاشیکار اِسی شرینی میں آتے ہیں۔ تو اَب پرشن یہ ہے کِ جب تک ساکشات اِیشور کا پرتیکش نا ہو تب تک وید کیسے سمجھیں؟ تو اِسکا اُتّر ہے کِشِیوں کے لیکھ اؤر اَپنی بُدّھِ سے ستے اَستے کا نِرنے کرنا ہی سب بُدّھِمانوں کو اَتیںت اُچِت ہے۔شِیوں کے گرنتھ جیسے اُپنِشد، درشن، براہمن گرنتھ، نِرُکت، نِگھںٹُ، ستیارتھ پرکاش، بھاشے بھُومِکا، اِتیادِ کی سہایتا سے وید منتروں پر وِچار کرکے اَپنے سِدّھاںت بنانے چاہِیّں۔ اؤر اِسمیں یہ بھی ہے کِ پڈھنے کے ساتھ ساتھ یم نِیموں کا کڑائی سے پالن بہُت جرُوری ہے۔ واستو میں ویدوں کا سچّا سورُپ تو سمادھِ اَوستھا میں ہی سپشٹ ہوتا ہے، جو کِ یم نِیموں کے اَبھیاس سے آتی ہے۔

ویاکرن ماتر پڈھنے سے ویدوں کے اَرتھ کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ وید سمجھنے کے لِئے آتما کی شُدّھتا سبسے آوشیک ہے۔ اُداہرن کے لِئے سںسکرت میں “گو” شبد کا واستوِک اَرتھ ہے “گتِمان”۔ اِسّے اِس شبد کے بہُت سے اَرتھ جیسے پرتھوی، نکشتر آدِ دیکھنے میں آتے ہیں۔ پرنتُ مُورکھ اؤر ہٹھی لوگ ہر ستھان پر اِسکا اَرتھ گاے ہی کرتے ہیں اؤر مںتر کے واستوِک اَرتھ سے دُور ہو جاتے ہیں۔ واستو میں کِسی شبد کے واستوِک اَرتھ کے لِئے اُسکے مُول کو جانّا جرُوری ہے، اؤر مُول وِنا سمادھِ کے جانا نہیں جا سکتا۔ پرنتُ اِسکا یہ اَرتھ نہیں کِ ہم وید کا اَبھیاس ہی ن کریں۔ کِنتُ اَپنے سرو سامرتھے سے کرموں میں شُدّھتا سے آتما میں شُدّھتا دھارن کرکے وید کا اَبھیاس کرنا سبکو کرتّوے ہے۔

پرشن: او3م کے پرتیّک اَکشر سے اَلگ اَلگ اَرتھ کی کلپنا ہمکو ٹھیک نہیں جان پڑتی۔ کِسی اُداہرن سے اِسکو اؤر سپشٹ کیجِیے۔

اُتّر: یہ شبد اَرتھ سمبندھ یوگابھیاس سے سپشٹ ہوتا جاتا ہے۔ پرنتُ کُچھ اُداہرن تو پرتیکش ہی ہیں۔ جیسے “م” سے اِیشور کے پالن آدِ گُن پرکاشِت ہوتے ہیں۔ پالن آدِ گُن مُکھے رُوپ سے ماتا سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ اَب وِچارنا چاہِئے کِ سب سںسکرتِیوں میں ماتا کے لِئے کیا شبد پریوگ ہوتے ہیں۔ سںسکرت میں ماتا، ہِںدی میں ماں، اُردُو میں اَمّی، ّاَںگریجی میں مدر، ممّی، مام آدِ، فارسی میں مادر، چینی بھاشا میں ماکُن اِتیادِ۔ سو اِتنے سے ہی سپشٹ ہو جاتا ہے کِ پالن کرنے والے ماترتو گُن سے “م” کا اؤر سبھی سںسکرتِیوں سے وید کا کِتنا اَدھِک سمبندھ ہے۔ ایک چھوٹا بچّا بھی سبسے پہلے اِس “م” کو ہی سیکھتا ہے اؤر اِسی سے اَپنے بھاو ویکت کرتا ہے۔ اِسی سے پتا چلتا ہے کِ اِیشور کی سرشٹِ اؤر اُسکی وِدیا وید میں کِتنا گہرا سمبندھ ہے۔

پرشن: اَچّھا! مانا کِ او3م کا اَرتھ بہُت اَچّھا ہے، کِنتُ اِسکا اُچّارن کیوں کرنا؟

اُتّر: اِسکے کئی شاریرِک، مانسِک، اؤر آتمِک لابھ ہیں۔ یہاں تک کِ یدِ آپکو اَرتھ بھی مالُوم نہیں تو بھی اِسکے اُچّارن سے شاریرِک لابھ تو ہوگا ہی۔ یہ سوچنا کِ او3م کِسی ایک دھرم کِ نِشانی ہے، ٹھیک بات نہیں۔ اَپِتُ یہ تو تب سے چلا آتا ہے جب کوئی اَلگ دھرم ہی نہیں بنا تھا! او3م کو جھُٹھلانا اؤر اِسکا پریوگ ن کرنا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہکر ہوا، پانی، کھانا آدِ لینا چھوڑ دے کِ یے تو اُسکے مجہب کے آنے سے پہلے بھی ہوتے تھے! سو یہ بات ٹھیک نہیں۔ او3م کے اَندر ایسی کوئی بات نہیں ہے کِ کِسی کے بھگوان/اَلّاہ کا اَنادر ہو جایے۔ اِسّے اِسکے اُچّارن کرنے میں کوئی دِکّت نہیں۔

او3م اِس برہمانڈ میں اُسی ترہ بھر رہا ہے کِ جیسے آکاش۔ او3م کا اُچّارن کرنے سے جو آنںد اؤر شانتِ اَنُبھو ہوتی ہے، ویسی شانتِ کِسی اؤر شبد کے اُچّارن سے نہیں آتی۔ یہی کارن ہے کِ سب جگہ بہُت لوکپرِے ہونے والی آسن پرانایام کی ککشاّوں میں او3م کے اُچّارن کا بہُت مہتّو ہے۔ بہُت مانسِک تناو اؤر اَوساد سے گرسِت لوگوں پر کُچھ ہی دِنوں میں اِسکا جادُو سا پربھاو ہوتا ہے۔ یہی کارن ہے کِ آجکل ڈاکٹر آدِ بھی اَپنے مریجوں کو آسن پرانایام کی شِکشا دیتے ہیں۔

پرشن: او3م کے اُچّارن کے شاریرِک لابھ کیا ہیں؟

اُتّر: کُچھ لابھ نیچے دِئے جاتے ہیں

1۔ اَنیک بار او3م کا اُچّارن کرنے سے پُورا شریر تناورہِت ہو جاتا ہے۔

2۔ اَگر آپکو گھبراہٹ یا اَدھیرتا ہوتی ہے تو او3م کے اُچّارن سے اُتّم کُچھ بھی نہیں!

3۔ یہ شریر کے وِشیلے تتّوّں کو دُور کرتا ہے، اَرتھات تناو کے کارن پیدا ہونے والے درویوں پر نِیںترن کرتا ہے۔

4۔ یہ ہردے اؤر کھُون کے پرواہ کو سںتُلِت رکھتا ہے۔

5۔ اِسّے پاچن شکتِ تیج ہوتی ہے۔

6۔ اِسّے شریر میں پھِر سے یُواوستھا والی سپھُورتِ کا سںچار ہوتا ہے۔

7۔ تھکان سے بچانے کے لِئے اِسّے اُتّم اُپاے کُچھ اؤر نہیں۔

8۔ نیںد ن آنے کی سمسیا اِسّے کُچھ ہی سمے میں دُور ہو جاتی ہے۔ رات کو سوتے سمے نیںد آنے تک من میں اِسکو کرنے سے نِشچِت نیںد آایگی۔

9 کُچھ وِشیش پرانایام کے ساتھ اِسے کرنے سے پھیپھڑوں میں مجبُوتی آتی ہے۔

اِتیادِ اِتیادِ!

پرشن: او3م کے اُچّارن سے مانسِک لابھ کیا ہیں؟

اُتّر: او3م کے اُچّارن کا اَبھیاس جیون بدل ڈالتا ہے

1۔ جیون جینے کی شکتِ اؤر دُنِیا کی چُنؤتِیوں کا سامنا کرنے کا اَپُورو ساہس مِلتا ہے۔

2۔ اِسے کرنے والے نِراشا اؤر گُسّے کو جانتے ہی نہیں!

3۔ پرکرتِ کے ساتھ بیہتر تالمیل اؤر نِیںترن ہوتا ہے۔ پرِستھِتِیوں کو پہلے ہی بھاںپنے کی شکتِ اُتپنن ہوتی ہے۔

4۔ آپکے اُتّم ویوہار سے دُوسروں کے ساتھ سمبندھ اُتّم ہوتے ہیں۔ شترُ بھی مِتر ہو جاتے ہیں۔

5۔ جیون جینے کا اُدّیشے پتا چلتا ہے جو کِ اَدھِکاںش لوگوں سے اوجھل رہتا ہے۔

6۔ اِسے کرنے والا ویکتِ جوش کے ساتھ جیون بِتاتا ہے اؤر مرتیُ کو بھی اِیشور کی ویوستھا سمجھ کر ہںس کر سویکار کرتا ہے۔

7۔ جیون میں پھِر کِسی بات کا ڈر ہی نہیں رہتا۔

8۔ آتمہتیا جیسے کایرتا کے وِچار آس پاس بھی نہیں پھٹکتے۔ بلکِ جو آتمہتیا کرنا چاہتے ہیں، وے ایک بار او3م کے اُچّارن کا اَبھیاس 4 دِن تک کر لیں۔ اُسکے باد کھُد نِرنے کر لیں کِ جیون جینے کے لِئے ہے کِ چھوڑنے کے لِئے!

پرشن: او3م کے اُچّارن کے آدھیاتمِک (رُوہانی) لابھ کیا ہیں؟

اُتّر: او3م کے سورُپ میں دھیان لگانا سبسے بڑا کام ہے۔ اِسّے اَدھِک لابھ کرنے والا کام تو سںسار میں دُوسرا ہے ہی نہیں!

1۔ اِسے کرنے سے اِیشور/اَلّاہ سے سمبندھ جُڑتا ہے اؤر لمبے سمے تک اَبھیاس کرنے سے اِیشور/اَلّاہ کو اَنُبھو (مہسُوس) کرنے کی تاکت پیدا ہوتی ہے۔

2۔ اِسّے جیون کے اُدّیشے سپشٹ ہوتے ہیں اؤر یہ پتا چلتا ہے کِ کیسے اِیشور سدا ہمارے ساتھ بیٹھا ہمیں پریرِت کر رہا ہے۔

3۔ اِس دُنِیا کی اَںدھی دؤڑ میں کھو چُکے کھُد کو پھِر سے پہچان مِلتی ہے۔ اِسے جانّے کے باد آدمی دُنِیا میں دؤڑنے کے لِئے نہیں دؤڑتا کِنتُ اَپنے لکشے کے پانے کے لِئے دؤڑتا ہے۔

4۔ اِسکے اَبھیاس سے دُنِیا کا کوئی ڈر آسپاس بھی نہیں پھٹک سکتا۔ مرتیُ کا ڈر بھی ایسے ویکتِ سے ڈرتا ہے کیوںکِ کال کا بھی کال جو اِیشور ہے، وو سب کالوں میں میری رکشا میرے کرمانُسار کر رہا ہے، ایسا سوچ کر ویکتِ ڈر سے سدا کے لِئے دُور ہو جاتا ہے۔ جیسے مہایوگی شریکرشن مہابھارت کے یُدّھ کے واتاورن میں بھی نِیمپُوروک اِیشور کا دھیان کِیا کرتے تھے۔ یہ بل و نِڈرتا اِیشور سے اُنکی نِکٹتا کا ہی پرمان ہے۔

5۔ اِسکے اَبھیاس سے وہ کرم پھل ویوستھا سپشٹ ہو جاتی ہے کِ جِسکو اِیشور نے ہمارے بھلے کے لِئے ہی دھارن کر رکھا ہے۔ جب پوِتر او3م کے اُچّارن سے ہردے نِرمل ہوتا ہے تب یہ پتا چلتا ہے کِ ہمیں مِلنے والا سُکھ اَگر ہمارے لِئے بھوجن کے سمان سُکھدایی ہے تو دُہکھ کڑوا ہوتے ہُئے بھی اؤشدھِ کے سمان سُکھدایی ہے جو آتما کے روگوں کو نشٹ کر دوبارا اِسے سوستھ کر دیتا ہے۔ اِس ترہ اِیشور کے دںڈ میں بھی اُسکی دیا کا جب بودھ جب ہوتا ہے تو اُس پرم دیالُ جگت ماتا کو دیکھنے اؤر پانے کی اِچّھا پربل ہو جاتی ہے اؤر پھِر آدمی اُسے پائے بِنا چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ اِس ترہ ویکتِ مُکتِ کے راستوں پر پہلا کدم دھرتا ہے!

پرشن: اُوپر دِئے لابھ پانے کے لِئے ہمیں کرنا چاہِئے؟

اُتّر: یم نِیموں کا اَبھیاس اِسکا سبسے بڑا سادھن ہے۔ یم و نِیم سںکشیپ سے نیچے دِئے جاتے ہیں

یم

1۔ اَہِںسا (کِسی سجّن اؤر بیگُناہ کو من، وچن یا کرم سے دُہکھ ن دینا)

2۔ ستے (جو من میں سوچا ہو وہی وانی سے بولنا اؤر وہی اَپنے کرم میں کرنا)

3۔ اَستیے (کِسی کی کوئی چیج وِنا پُوچھے ن لینا)

4۔ برہمچرے (اَپنی اِچّھاّوں پر نِیںترن رکھنا وِشیشکر اَپنی یؤن اِچّھاّوں پر پُورن نِیںترن)

5۔ اَپرِگرہ (ساںسارِک وستُ بھوگ و دھن آدِ میں لِپت ن ہونا)

نِیم

1۔ شؤچ (من، وانی و شریر کی شُدّھتا)

2۔ سںتوش (پُورے پریاس کرتے ہُئے سدا پرسنن رہنا، وِپریت پرِستھِتِیوں سے دُکھی ن ہونا)

3۔ تپ (سُکھ، دُہکھ، ہانِ، لابھ، سردی، گرمی، بھُوکھ، پیاس، ڈر آدِ کی وجہ سے کبھی بھی دھرم کو ن چھوڑنا)

4۔ سوادھیاے (اَچّھے جنان، وِجنان کی پراپتِ کے لِئے پریاس کرنا)

5۔ اِیشور پرنِدھان (اَپنے سب کام ایسے کرنا جیسے کِ اِیشور سدا دیکھ رہا ہے اؤر پھِر کام کرکے اُسکے پھل کی چِںتا اِیشور پر ہی چھوڑ دینا)

پرشن: کیا یم نِیم کے پالن کرنے کے اَلاوا سُبہ شام دھیان کرنا چاہِئے اؤر اُسکی کیا وِدھِ ہے؟

اُتّر: جرُور۔ یم نِیم تو آتما رُپی برتن کی سپھائی کے لِئے ہے تاکِ اُسمیں اِیشور اَپنے پریم کا بھوجن دے سکے۔ وہ بھوجن سُبہ شام ایکاگر من کے ساتھ اِیشور سے ماںگنا چاہِئے۔ او3م کا اُچّارن اِسی بھوجن ماںگنے کی پرکرِیا ہے۔ اَب کیا کرنا چاہِئے وہ نیچے لِکھتے ہیں

1۔ کِسی جگہ جہاں شُدّھ ہوا ہو، وہاں اَچّھی جگہ پر کمر سیدھی کر کے بیٹھ جاّیں۔ آںکھ بںد کرکے تھوڑی دیر گہرے ساںس دھیرے دھیرے لیجِیے اؤر چھوڑِیے جِسّے شریر میں کوئی تناو ن رہے۔

2۔ دِن میں 4 بار او3م کا اُچّارن بہُت اُپیوگی ہے۔ پہلا سُبہ سوکر اُٹھتے ہی، دُوسرا شؤچ و سنان کے باد، تیسرا سُوریاست کے سمے شام کو اؤر چؤتھا رات سونے سے ایکدم پہلے۔ اِسکے اَلاوا جب کبھی کھالی بیٹھے کِسی کی پرتیکشا یا یاترا کر رہے ہوں تو بھی اِسے کر سکتے ہیں۔

3۔ دھیرے دھیرے اُچّارن کی لمبائی بڑھا سکتے ہیں، پر اُتنی ہی جِتنی اَپنے سامرتھے میں ہو۔

4۔ کم سے کم ایک سمے میں 5 بار جرُور اُچّارن کریں۔ مُںہ سے بولنے کے بجاے من میں بھی اُچّارن کر سکتے ہیں۔

5۔ اَپنے ہر بار کے اُچّارن میں اِیشور کو پانے کی اِچّھا اؤر اُسکے لِئے پریاس کرنے کا وادا من ہی من اِیشور سے کرنا چاہِئے۔

6۔ ہر بار اُٹھنے سے پہلے یہ پرتِجنا کرنی کِ اَگلی بار بیٹھُوںگا تو اِس بار سے شریشٹھ چرِتر کا ویکتِ ہوکر بیٹھُوںگا۔ اَرتھات ہر بار اُٹھنے کے باد اَپنے جیون کا ہر کام اَپنی اِس پرتِجنا کو پُورا کرتے ہُئے کرنا۔ کبھی اِیشور کو دی ہُئی پرتِجنا نہیں توڑنا۔

جرُوری بات: اِیشور ہی سبکا پالک، ماتا اؤر پِتا ہے۔ اِسلِئے کوئی آدمی اِیشور کا دھیان کرتے ہُئے کِسی گُرُ، پیر، بابا آدِ کا دھیان ن کرے۔ کیوںکِ سب بابا، گُرُ، پیر آدِ اَپنے بھکتوں کا ہی اُدّھار کرتے ہُئے دیکھتے ہیں اؤروں کا نہیں، اؤر اِسی سے وے سب پکشپاتی سِدّھ ہوتے ہیں۔ کِنتُ اِیشور سبکا پالک ہونے سے پکشپات آدِ دوشوں سے دُور ہے اؤر اِسلِئے کیول وہی دھیان کرنے اؤر بھجنے یوگے ہے، اؤر کوئی نہیں۔

پرشن: میں ایک مُسلمان ہُوں اؤر تُم تو ہمسے وِرودھ کرتے ہو۔ پھِر میں تُمہاری بات کیوں سُنُوں؟

اُتّر:

1۔ جیسے ہم پہلے لِکھ چُکے ہیں کِ او3م میں ہِندُو مُسلمان جیسی کوئی بات نہیں۔ کیا کوئی مُسلمان بھائی/بہن کیول اِسلِئے آم کھانے سے اِنکار کر سکتا/سکتی ہے کِ کُرآن میں اِسکا ورنن نہیں یا یہ اَرب دیش میں نہیں مِلتا؟ او3م تو ایک اِیشور/اَلّاہ کے گُنوں کو اَپنے میں سمیٹے ہُئے ہے تو پھِر دِکّت کیا ہے؟

2۔ ہم کئی بات میں مُسلمانوں سے اؤر وے کئی بات میں ہمسے سے اِکتلاپھ (وِرودھ) کر سکتے ہیں۔ لیکِن پھلسپھے پر اَلگ راے ہونا کوئی گلت بات تو نہیں۔ کیا آپ اَپنی اَمّی کے ہاتھ کی روٹی کیول اِسلِئے کھانی بںد کر دیتے ہو کِ وو کِسی ماملے میں آپسے جُدا راے رکھتی ہیں؟ یدِ نہیں تو اَپنے اؤر بھائیّوں کے سوالوں یا اِکتلاپھ سے آپ اُنہیں دُشمن کیوں سمجھتے ہو؟

3۔ جِس ترہ بیٹھ کر آپ نماج پڑھتے ہو، وہ تریکا ہمارے یوگ کی کِتابوں میں وجراسن نام سے لِکھا ہے۔ تو کیا آپ نماج بھی پڈھنا چھوڑ دیںگے؟ نہیں، جب ایسی بات نہیں تو پھِر او3م میں وِرودھ کیوں؟

4۔ چلو اَگر مان بھی لِیا کِ آپ ہمسے نپھرت کرتے ہیں تو بھی او3م سے نپھرت کیوں؟ کیا آپ ہوائی جہاج، ریلگاڑی، کار، کںپیُوٹر، ریشم، فون آدِ کا پریوگ نہیں کرتے جو اِیسائیّوں، ہِندُاوں، اؤر یہُودِیوں نے بنایی ہیں؟ یدِ ہاں تو او3م کا وِرودھ کیوں؟

5۔ اؤر ویسے بھی، باتچیت اؤر سوال جواب تو اَلّاہ/اِیشور کو اؤر اُس کی اِس کاینات کو سمجھنے کا جرِیا ہیں۔ اَگر ایسا نہیں ہوتا تو اَلّاہ ہمارے اَندر یے کُوّت (شکتِ) ہی نہیں دیتا کِ ہم سوال کر سکیں۔ تو اِسلِئے یہ سمجھنا چاہِئے کِ بھائیّوں کا آپس میں سوال جواب کرنا تو اَلّاہ کی اِبادت کرنے جیسا ہی ہے کیوںکِ ایسا کرنا ہکپرستی (ستے کی کھوج) کی راہوں پر کدم بڈھانے جیسا ہے۔

6۔ تو کُچھ بھی ہو، گُسّا بھی کرو، ہم پر سوال بھی کرو، لیکِن جو سبکے پھایدے کی چیج ہے، اُس پر اَمل جرُور کرو۔ یہی کامیاب جِںدگی کا راج ہے۔

7۔ نماج کے باد تین بار او3م کا جاپ اُسکے متلب کے ساتھ کرکے دیکھیں اؤر 4 دِن باد کھُد پھیسلا کر لیں کِ جِندگی میں کُچھ بدلاو ہُآ کِ نہیں۔ اِسے آپ من میں بھی اِبادت کرتے وقت یاد کر سکتے ہیں کیوںکِ یہ تو اَلّاہ کا ہی نام ہے۔

پرشن: اَبھی بھی ایک سوال ہے۔ اِس بھاگدؤڑ بھری جِندگی میں کیول ایک شبد کا اُچّارن کرکے کیا ہو جاّیگا؟ بلکِ ایسا لگتا ہے کِ یہ تو جِندگی کی چُنؤتِیوں سے بھاگنے کا ایک تریکا ہے!

اُتّر: نہیں۔ ایسا تب ہوتا جب اِسے کرنے کے لِئے جںگل جانے کی شرت ہوتی! پر ایسا نہیں ہے۔ یُدّھ کے میدان میں تلوار کو نِرںتر دھار لگانی پڑتی ہے نہیں تو اِسکی مار کم ہو جاتی ہے۔ ٹھیک اِسی ترہ، اَگر ایک گھںٹے دھار لگا کر پُورے دِن کے شترُاوں پر وِجے پایی جائے تو یہ کوئی گھاٹے کا سؤدا تو نہیں! اؤر یہی تو سمے ہوتا ہے کِ جب ویکتِ اِیشور کو دِئے وادوں پر سوچ وِچار کرتا ہے اؤر توڑے گئے اَپنے وادوں پر کشما یاچنا کرکے آگے سے اُنہیں نا توڑنے کا درڈھ سںکلپ کرتا ہے۔ پُورے دِن وِپریت پرِستھِتِیوں سے جُوجھتا ہُآ اَگر لکشے سے تھوڈا بھٹک گیا ہو تو اِسی سمے پھِر سے وہ کھُد کو لکشے کی اور کیندرِت کرتا ہے اؤر پھِر اَگلے دِن اُسکی اور بڑھنے کے لِئے گھماسان کرتا ہے۔ اَتہ بھاوناپُورن ڈھںگ سے اِیشور کا دھیان سب چُنؤتِیوں کو پار کروانے والا سِدّھ ہوتا ہے۔

پرشن: اَبھی بھی کُچھ سںدیہ نہیں مِٹ رہے، کیا کرُوں؟

اُتّر: جِس ترہ ہوا کو دیکھنے کے بجاے سپرش سے پہچانا جاتا ہے اُسی ترہ کرنے یوگے بات کو بولکر اَدھِک سمجھایا نہیں جا سکتا۔ تو سویں کُچھ دِن اِسکا اَبھیاس کریں اؤر پھیسلا کر لیں!

Print Friendly

Comments

Please read "Comment Policy" and read or post only if you completely agree with it. Comments above 2000 characters will be moderated. You can share your views here and selected ones will be replied directly by founder Sri Sanjeev Agniveer.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

 characters available

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>