ویدوں کا دین کیا ہے ؟

This article has been translated by Aatish (آتش).

Original post in English is available at http://agniveer.com/what-is-vedic-religion/

اگنویر نے بہت واضح طور پر اس دعوی پر زور دیا ہےکہ اس کا مشن ویدک دین کو ساری انسانیت کا دین بنانے کے لۓ ہے۔ جی ہاں، ھم ایک تبلیغی مھم پر ہیں۔ ھم چاھتے ہیں کہ اس زمین پر ہر انسان ویدک مذھب کی بیعت کا اعلان کریں۔ ہمیں یفین ہےکہ دنیا کی نجات اس شرط پر استوار ہے کہ سب لوگ ویدک دین اپنا لیں۔ ھم یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ ویدک مذھب کہ علاوہ خداوند کو دوسرا کوئ مذھب فبول نہیں۔ لہذا جہان اور آخرت میں مسرت حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے وید پر فدا ہونا۔

مندرجہ بالا ایک قسم کا تبلیغی پروپگنڈا نظر آتا ہے، ہے نہ؟ یہ تو واقعی ان تمام کٹر عیسای اور اسلامی مشنریوں کی تقریریں اور مضامین سے تقریبا ملتا جلتا ہے۔ اگر الفاظ جیسے “قرآن”، “انجیل”، “عیسایت” یا “اسلام” کو “ویدک” کی جگہ منتقل کریں تو یہ بالکل وہی بات ہے جو دنیا کہ ذاکر نایکیں اور پوپوں کہ سلسلہ صدیوں سے کہتے آ رہے ہیں۔ تو پھر اگنویر بھی ایک نیا جنونی اور متعصب فرقہ تو نہیں، جنکا اصرار ہے کہ فقط انکا فلسفہ درست ہے، اور دیگر عقیدتی نظاموں کی بدگوی کر رہا ہو؟ اس متعصب عیسای کی طرح جو فریب یا مجبوری کا فائدہ اٹھا کہ بائبل کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے، یا اس نفرت بھرے مسلمان کی طرح جو قرآن کی ترویج کہ لۓ زور زبردستی یا تلوار کی سفارش بھی کرتا ہے، شاید اگنویر بھی ویدوں کے گسترش کے لۓ کوشاں ہے – الہیت کا ایک اور دعویدار – اپنے گروہ کے تقویت کے لۓ جد و جہد کر رہا ہے۔

البتہ اگنویر یہ استدلال پیش کر سکتا ہے کہ کیوں صرف عیسای اور مسلم کٹرپنتھیوں کو یہ خصوصی حقوق حاصل ہوں کہ وہ اپنے کتابوں کو بہترین اعلان کریں۔ جب یہ اپنے کتابوں کو فروغ دینے کے لۓ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں تو پھر اگنویر کے کار ںمایاں پر ہنگامہ کیوں؟ اور اگر اگنویر کہ عقیدت کو بند ذہنی کہا جاۓ کہ فقط وید ہی انسانیت کا اصلی دین ہے، تو پھر جہان کہ تمام دوسرے مذاہب کو بھی اس الزام میں شریک ہونا چاہیے۔

در اصل یہ بہت ہی مضبوت دلیل ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اسی دلیل کو بہانہ بنا کر کتنے ہی چھوٹے بڑے مذاہب اور فرقہ ابھر چکے ہیں اور آج دنیا میں موجود ہیں، اور ہر دوسرے دن کوئ نیا نظریہ اور فرقہ آتا رہتا ہے۔

بہر حال اس دلیل پر تکرار یا اگنویر کے موقف کا دفاع کرنا اس مضمون کا مقصد نہیں۔ اس کے بجاے یہ مضمون ویدوں کے معانی اور دین کا دقیقی وضاحت کریگا، اور یہ نمایاں ہو جاے گا کہ اگنویر ان ارواح بزرگ کی طویل سلسلہ میں پہلا شخص نہیں جنہیں اس دھرتی ماں نے جنم دیا، اور جو ویدوں کے لۓ جیتے ہیں اور انکی شیرین حقیقت پر مرتے ہیں۔ یہ مضمون یہ بھی سکھاے گا کے ویدوں کی سوگند اٹھانا دوسرے کتابوں جیسے تائبل، قرآن یا دیگر “الہی” کتاب پر حلف برداری کی طرح نہیں۔

اور ہم یہ چنوتی سامنے رکھتے ہیں کہ اسے پڑھنے کے تعد آپکے دل و ضمیر کی آواز آپ پر ویدک دھرم لاگو کریگی، اگر ہنوز آپ نے اختیار نہ کیا ہو۔ اصل میں تقریبا ہر شخص پہلے سے ہی ویدک طریقہ کا پیروکار ہے، چاہے وہ اتنے واضح الفاظ میں اسکا اعتراف کرے یا نہ۔ تو پھر یہ مضمون صرف یہ درخواست پیش کر رہا ہے کہ آپ فعالانہ طور پر اپنے سچے خودی کے ساتھ آشنا اور ہم آہنگ ہو جایں، اور ناقابل تردید کو مزید انکار نہ کریں۔

  دین کیا ہے؟

معقول ہے کہ ہم شروعات دین کی تعریف سے کریں۔ عام طور پہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مذہب کے معنی ایک خاص برادری سے ہے جسکی کافی بڑی آبادی ہے، اور جنکے عقیدوں کا نظام زندگی، موت، آخرت، معبود اور متعلقہ موضوعات کے معاملات پر مشتمل ایک مخصوص مجموعہ ہے۔ اگر یہی دین کی تعریف ہے، تو پھر ویدک دھرم دین کے علاوہ کچھ بھی کہلاۓ لیکن دین نہ کہلاۓ۔

لیکن اگر انگریزی لفظ “ریلیجن” پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ یہ لطین کے دو حرفوں پر مشتمل ہے – “ری” یعنی دوبارہ، اور “لیگارے” یعنی وصال۔ لہذا اصول ہستی میں دوبارہ شامل ہونا یا منسلک ہونے کا ذریعہ عمل “دین” کہلاتا ہے۔ اب اس لفظ کے معنی سنسکرت کے “یوگ” کے بہت نزدیک پہنچ چکا ہے! اب دکھانا باقی ہے کہ اگر یہی دین کا صحیح مطلب ہے، تو ویدوں کا مذہت یقینا ایک مذہب حقیقی ہے۔ ہم دین کے دوسرے معنی کے حامیوں کو اپنے دعوے کی توضیح کرنے پر کسی اور جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔ انکے اصرار پر ہم کوئ بیان نہیں کریں گے۔ یہ مضمون فقط ویدک دھرم کو سمجھنے تک محدود ہے – اور ضمنا آپکی سوچ کو ویدوں کا ایک فعالانہ اور حوصلہ مند پیروکار میں تبدیل کرنا ہے۔

(نوٹ کریے – لسانیات کے کارشناس اس بحث میں پڑ سکتے ہیں کے “ریلیجن” لفظ کے اور بھی ریشے، ماخذ اور تعبیر ہو سکتے ہیں۔ بہت خوب لیکن اس سے ہمیں کوئ مطلب نہیں۔ ہماری وفاداری الفاظ سے نہیں، انکے جوہر سے ہے۔ اگر آپکا من کرے آپ مختلف الفاظ کو اسی ایک تصور کی نمائندگی کے لۓ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمنے “ریلیجن” لفظ استعمال کیا ہے کیوںکہ یہ سب سے زیادہ مقبول ہے، اور اس مدعے کو سمجھنے کے لۓ آسان۔ جن لوگوں کو بھارت کے ثقافت سے جان پہچان ہے، وہ سمجھ سکتے ہیں کہ “دھرم” اس تصور کے لۓ بہترین لفظ ہے۔ دھرم ایک فطری خصوصیت ہے۔ ہم کہیں اور دھرم کا ذکر کریں گے۔)

 ویدک دین سے آپکا کیا مطلب؟

آؤ ہم چند مقبول غلط فہمیوں کے ساتھ شروع کریں۔

جواب 1 – ویدک مذہب ہندو مذہب کا مترادف ہے۔

جواب 2 – ویدک مذہب یعنی 4 ویدوں کو مقدس اور کسی دیوتا یا خدا کی طرف سے نازل شدہ ماننا ہے، بالکل اسی طرح جیسے مسلمان قرآن کو الہی مان کر غور کرتے ہیں اور مصیحی بائبل کو مقدس سمجھتے ہیں۔   

جوات 3 – ویدک مذہب یعکی 4 ویدوں پر تقلیدی عمل کرنا، ٹھیک اسی طرح جیسے مسلمان قرآن کے ہر خط پر عمل کرنا چاہتا ہے، یا مصیحی بائبل کے ہر خط پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جواب 4 – ویدک مذہب یعنی آریہ سماج کی پیروی کرنا۔

جواب 5- ویدک مذہب یعنی “سندھیا” اور “ہون” کے رسموں کے ذریعہ صبح و شام پرستش کرنا۔

اور صحیح جواب یہ ہے

“رد باطل کا ایک مسلسل عمل کے ذریعہ حق کی پذیرائ سب سے زیادہ مخلص انداز میں اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ہر لمحہ کرتے رہنا، یہ ویدک دین ہے۔”

اسے یجر وید 5۔1 میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے –

“اے قوت عالی، کہ اس جہان پر حاکم ہو! تم بغیر کسی انحراف کے ان تغییر ناپذیر قوانین کے مطابق کام کرتے ہو، جو ہمیشہ اور ہرسو یکساں لاگو ہیں۔ میں تم سے وہ حوصلہ اور وحی طلب کرتا ہوں جس سے میں ان اصول پر بنا کوئ وسواس کے زندگی بھر عمل کرتا رہوں۔ اس طرح میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی پوری کوشش، بہترین صلاحیت اور خالص نیت کے ساتھ میں جھوٹ اور باطل کو خارج کر کے سچ کا کھوج مسلسل کرتا رہوں گا۔ میرا یہ عظیم فیصلہ کامیابی تک پہنچے۔”

یہ پورے ویدک فلسفہ کا خلاصہ ہے۔ یہ نقطہ آغاز ہے۔ باقی سب کچھ ثانوی یا فرعی ہے۔ اگر یہ بنیادی روح موجود ہے، تو بندہ ویدک مذہب کا پیروکار ہے۔ اور اگر یہ رویہ موجود نہیں اور باقی سب کچھ فروغ پذیر ہے، تو پھر وہ ابھی ویدک مذہت تک نہیں پہنچا۔

توجہ فرمائے کہ باطل کو مسترد کرنے کی یہ روح تمام بنی نوع انسان میں ایک بنیادی خاصیب کی حیثیت سے پائ جاتی ہے۔ اس صلاحیت کہ بغیر ہماری بقا ممکن نہ ہوتا۔ یہ ہمیں چلنا، بولنا، حصول تعالیم، نئ دریافتیں نکالنا، اور زندگی میں ترقی اور پیشرفتی کے حصول کے لۓ ہماری حوصلہ افزائ کرتا ہے۔ چاہے ہم اس حقیقت سے آگاہ ہو یا نہ، چاہے اسے کھل کر قبول کرتے ہیں یا نہیں، ہم سب اصل میں جی رہے ہیں تو اس ویدک مذہب یا ویدک دھرم کے پیروی کرنے سے زندہ ہیں۔ دھرم ایک فطری خصوصیت یا گن ہے۔ ایک گروہی عقیدت یا نظام کے بر عکس، دھرم کو کبھی نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دھرم قدرتی اور فطری ہے، جنم سے۔ لہذا حق طلبی ہم سب کا ذاتی خصوصیت ہے اور ہمارے جینے کی حقیقت سے اس بات کا مفہوم ہوتا ہے کہ ہم ویدک دھرم کے اشاروں پر قدم اٹھاتے چل رہے ہیں۔

  تو پھر ویدک مذہب کو تسلیم کرنے سے ہمارا مطلب محض یہ ہے کے اس بات کو انکار کرنے سے باز آیں جو پہلے سے ہی کرتے آ رہے ہو۔ بس چلّاتے مت رہو کہ آپ گہری نیند میں ہو جب آپکی چیخیں ظاہر ثبوت ہے کہ آپ بے شک بیدار ہیں۔ بجاۓ انکے، صبح سویرے کی سورج کے حیات بخش کرنوں کا پرجوش استقبال کیجیۓ، اس طاقت، توانائ اور حال جشن کے ساتھ جو آپکے اندر پنہان ہے۔

 حق اور باطل کیا ہوتا ہے؟

اس سے پہلے کہ ہم اس موضوع کی گہرائوں میں غوطہ لگایں، اجازت چاہینگے کہ اس بات کو واضح طور پر سمجھ لیں کہ حق اور باطل سے کیا مطلب ہے۔ یہ ضروری ہے کیوںکہ سارے فرقے حق اور سچائ کے خصوصی کاپی رائٹ کے مالک ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ کچھ مذاہب اس بات کے اتنے غیرتمند ہوتے ہیں کہ اگر انسان انکے گروہ میں ایک بار شامل ہو جاۓ اور بعد میں اس سچ کو ترک کر دینے کا ارادہ کر لے، تو لوگ اس کے لۓ موت کا سفارش بھی کرتے ہیں۔ مجھے ایسے رویہ سے معضی کا ایک خطرناک فلم کی یاد آتی ہے جس میں ایک دماغی طور پر مریض بھوتنی انسانوں کو اپنا شکار بنا کے بےچاروں کو صرف دو اختیار دیتی تھی – یا وہ خود انکے جسم و جان و عقل کا مالک بنیگی، یا انکو قتل کر ڈالیگی!

ویدک حق میں زیادہ صداقت ہے۔ یہ لفظ “وید” اس ریشہ سے پایا جاتا ہے جس کا مطلب ہے معرفت یا گیان اور پہچان۔ تو پھر ویدک حق کا یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے ہر بات پر معتقد ہو جایں صرف اس لۓ کہ میں نے سچائ کا کوئ لائسنس رکھنے کا دعوی کیا ہے۔ آپ کسی بات پر صرف اس لۓ ایمان مت لاؤ کہ کسی کتاب یا نبی یا اوتار یا کرشماتی سخنور یا مشہور شخصیت یا ٹی وی چینل نے دعوی کیا ہے۔

ویدک حق کا مطلب محض یہ ہے کہ کسی بھی وجود کی اصلیت کو پہچان کر اس اصلیت کے مطابق عمل کریں۔

ویدک حق کا مطلب ہے کہ کسی بات کو صرف تبھی قبول کریں جس وقت صاف دکھائ دے کہ وہ بات منطقی ہو، منظم ہو، خود تضاد کا حامل نہ ہو، اور سب سے اہم یہ کہ وہ آپکے اندر کی آواز سے ہم آہنگ ہو۔ سچائ کے اس امتحان کے بغیر اگر آپنے کسی بھی بات کو اپنا لیا تو وہ باطل ہوگا۔

مثال کے طور پر اگر میں نے یہ دعوی کیا کہ میں ایک پیغمبر ہوں، اور صرف تبھی آپکو اس دنیا کی مصیبتوں سے چھٹکارا ملیگا اور جنت حاصل ہوگا جب آپ ہماری ہر اندھی بات کو قبول کر لیںگے جو اگنویر وبسائٹ پر لکھ دیا، تو پھر آپکو میرے اس دعوے کی جانچ پڑتال مختلف طریقوں سے کرنا چاہیے۔ مثلا:

ا۔ اگر کسی اور نے بھی ایسا ہی کچھ دعوی کیا ہو تو پھر کیا؟ میں کس طرح اس نتیجہ پہ پہنچ سکتا ہوں کہ کون صادق اور کون فریبی ہے؟

ب۔ کیا اگنویر کے وبسائٹ پر لکھے ہوۓ ساری باتیں کامل طور پر صحیح ہیں؟ کیا انکی سچائ وقت یا جغرافیہ سے متاثر تو نہیں؟

پ۔ انکا کیا ہوگا جو اگنویر کے بننے سے پہلے مر چکے ہیں؟ انکو اس حق کامل سے محروم کیوں ہونا پڑا؟

ت۔ کیا اگنویر کے وبسائٹ پر کچھ بھی ایسا ہے جو غلط ہے؟

ٹ۔ اگر اگنویر کی پیروی کرنا بہشت کا واحد دروازہ ہے، تو پھر مجھے ایک علحدہ دماغ کیوں بخشا گیا جس سے میں تفکر اور تجزیہ کر سکوں؟

۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ۔

شاید آپ اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ جبکہ اگنویر کے وبسائٹ بہت سے قیمتی اور مفید معلومات پر مشتمل ہے، لیکن اگنویر کو ایک پیغمبر خدا ماننا قبل از وقت ہوگا۔ تو پھر ویدک دھرم کے ایک ہوشیار پیروکار کے طور پر اگنویر وبسائٹ پر جو کچھ بھی اچھا ہے اسے قبول کر لینگے، اور باقی سارے دعووں کو مسترد کر دینگے۔ اور اگر آپ بہترین ذہانت والے انسان ہیں تو آپ شاید اگنویر وبسائٹ کو مکمل طور پر مسترد کرینگے اور دیگر ذرائع سے علم حاصل کرنے کی کوشش کرینگے اگر یہ منطقی طور پے ثابت کیا جاۓ کہ دوسرے ذرائع آپکے لۓ زیادہ مناسب ہیں۔

لیکن ویدک دھرم کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپکو ہر چیز کا شبہ ہو اور کسی بات کو صرف تبھی قبول کریں جب براہ راست اسکی تصدیق کر سکتے ہو۔ اگر کوئ صرف تب چیزوں پر ایمان لانے لگے جب انکی براہ راست احساس اعضاء کی طرف سے تصدیق ہو، تو وہ زیادہ دیر زندہ بھی نہ رہ سکے گا۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے پوری قابلیت کو استعمال کریں جو ہمیں انسان بناتی ہیں، جیسے منطق، ورائی ادراج، اندازہ لگانے کی دانش، تشریحات، انسداد تجزیہ، اور فیصلہ وغیرہ!

مثال کے طور پر اگر آپ باقائدگی سے گاڑی چلاتے ہو تو یہ آپکے وقت کا بھاری نقصان ہوگا اگر ہر سفر کے پہلے آپ 6 گھنٹے گاڑی کی حانچ میں مصروف رہیں، تا کہ پتا لگایں کہ خراب نہ ہوا ہو۔ اسکے بجاۓ بہتر ہوگا کہ آپ اس گاڑی کی کارکردگی کا رکارڈ کا جائزہ کر لیں، باقائدگی سے دیکھ بھال کیا کریں، اور ہر بار سفر کا لطف اٹھائے! ورنا یہ شک اور شبہ ایک قسم کا پاگلپن کہلایا جاۓ گا۔

ویدک مذہب چاہتا ہے کہ ہم کامیاب ترین کمپنیوں کے ہوشیار مینجروں کی طرح نہ سادہ دل ہوں اور نہ شک کی پاگلپن میں مبتلا ہوں۔ یعنی ایسا کوئ شخص جو فعالانہ کسی چیز کو حاصل کرتے رہے جو معضی میں مفید ثابت ہوا ہو، یا گویا حال میں بھی اپنے بہترین جانچ کے مطابق فائدہ مند دکھائ دے، لیکن پس اگر یہ ثابت ہو جاۓ کہ معضی کی تشخیص و تعین غلط تھا یا دوسری جگہ بہتر مفادات کے امکان دستیاب ہیں، تو پہلی چیز کو رد کرنے کو آمادہ رہے۔

یہ ویدک دین کی سچائ ہے۔ اسکی خلاف ورزی باطل ہے۔

مختصر یہ کہ  ویدک مذہب کا مطلب ہے کہ ہم پر ہمیشہ علم اور حکمت کارفرما رہے۔

ویدک دین کے ضمنی نتائج

مندرجہ بالا اصول ویدک مذہب کے بنیادی اصول مسلمہ ہے۔ ایک بار اگر یہ اصول اپنا لۓ جاۓ تو باقی نتائج قدرتی طور پر حاصل کیۓ جاتے ہیں۔ یہ علم ریاضی کے بنیادی اصول کی طرح ہے۔ ایک بار جب وہ اپنے مرکزی مقام پر بٹھاۓ جاۓ پس تدریجا حصاب، الجبر، مثالثات، حصاب جامعہ وغیرہ کے علوم خود بخود تعمیر ہوتے رہتے ہیں۔

نظریاتی طور پر دنیا کا کوئ بھی شخص ریاضی کے تمام شاخوں کا انکشاف اور انتظام تنہا کر سکتا ہے۔ لیکن ایسا عمل طولانی اور تھکاؤ ہو جاۓگا۔ اسی لۓ عقلمند لوگ اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں تا کہ وہ جلد ہی ان علوم کی تحصیل فرمایں جنکو خود دریافت کرنے میں شاید 1000 جنم بیت جاۓ۔ لیکن کسی فلمی سوال جواب کے ماہروں کے بر عکس، ریاضی کے فارمولے کو صرف رٹنے سے کوئ ماہر نہیں کہلاتا۔ شاید فعالیت کے خاطر یہ رٹنا مفید ہو، لیکن فارمولے رٹنا ریاضی کا مقصد تو نہیں ہے۔ ریاضی دان وہی ہے جو سمجھ سکتا ہے کہ ان اصول کے وجہ سے (پ + ب)^2 = (ب^2 + پ^2 + 2٭ب٭پ) ملتا ہے۔ اس کے علاوہ آپکو اس ریاضی کے کتاب میں کسی بھی پیچیدہ اشتقاق کی تردید کی آزادی بھی ہے اگر آپکو یقین ہو جاۓ کہ وہ غلطی سے شایع ہوا ہو یا کچھ اور سبب ہو۔

اور یہ کرنے کا طریقہ ویدک مذہب ہے – ماخذ کے ہر قدم کو سچائ کے لۓ امتحان کریں، اور پھر آگے بڑھیں۔ جلد ہی آپکو صرف بنیادی حصاب تو کیا، عالی درجہ کا حصاب جامعہ میں بھی مہارت حاصل ہو جاے گا !

   باقی سب کچھ جو عام طور پر ویدوں یا ویدک مذہب سے منسلک سمجھا جاتا ہے، صرف انکی توسیع ہے۔ ان چیزوں کو قبول کرنے کو آپ مجبور نہیں ہیں۔ یہ ریلٹوٹی اور موشن کے تھیؤری جیسے ہیں۔ کسی بھی وقت آپ انکا بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان میں اندھا وشواس کریں۔ چاہو تو انکا مقابلہ یا تردید بھی کر سکتے ہو اگر آپنے ایمانداری اور بہترین صلاحیت کے ساتھ تفکر کے بعد اسے حق سمجھا۔ اس وقت بھی آپ ویدک دھرم کے پیروکار کہلایگے۔

اس توسیع کے مختلف سطح ہیں۔ ان میں سے کچھ نہایت واضح اور بدیہی ہیں۔ بعضی کے لۓ مزید تجزیہ اور خود شناسی کی ضرورت ہے۔ اور کچھ ایسے ہیں جو تحقیق کی سطح پر ہیں اور ان موضوعات پر ماہرین کے درمیان اختلافات ہونا ممکن ہے۔ یہ تعلیمی لہاذ سے کلاس 1 سے لیکر پی ایچ ڈی کے نصاب کی طرح ہے۔ اس توسیع کے کچھ مثال:

1۔ حق خوشیوں کی طرف لیۓ جاتا ہے۔ باطل مصیبتوں کا سبب ہے۔

2۔ باطل کے ذریعہ خوشی حاصل کرنے کی ہر کوشش آخرکار مصیبتوں میں الجھ جاتا ہے، جسکے مزید جرمانے بھی ہوتے ہیں۔

3۔ اس جہان کے لۓ مستعدی سے خوشیاں حاصل کرنی چاہیے۔ خوشیوں کو بانٹنے سے انکا مزید اضافہ ہوتا ہے۔

4۔ کرم کا قانون ناقابل تغییر ہے، اور ہر لمحہ کام کر رہا ہے۔ آپکے خیالات آپکے حقیقت کی تشکیل فرماتے ہیں۔

5۔ روح امر ہے اور کرم کے قانون کے مطابق اپنے اعمال کے ثمر کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ ایک عالی ترین قوت ان ناقابل تغییر قوانین کے ذریعہ اس جہان کی حکومت کر رہا ہے۔

6۔ چار وید ہستی کے مرموز سچائوں کے کلیدی کوڈ پر مشتمل ہیں۔

7۔ آدمی کو چاہیے کہ جامع طور پر ترقی کی کوشش کریں، نہ یکطرفہ اضافہ۔ کیونکہ صلاحیتوں کے کئ عباد اور پہلو ہوتے ہیں۔ ایک اسکول کی طرح جس میں سینکڑوں مضامین سکھاۓ جاتے ہیں۔

 (ویدک مذہب کے کچھ ممتاز توسیعات کے تفصیل کے لۓ، جو کہ فعلا بنیادی اصول کے درجہ کی اہمیت رکھتے ہیں، اس صفحہ کو ملاحظہ فرمایں –

http://agniveer.com/1634/religion-vedas/

دوسرے کم لطیف توسیعات کے تفصیلات کے لۓ اس صفحہ پر تمام مضامین پڑھ لیجیۓ، اور خود کو جوش اور حوصلہ سے بھر لو!)

نوٹ کیجیۓ کہ یہ سب توسیعات اور ضمنی نتائج ہیں۔ کسی بھی توسیع پر یقین نہ ہونے کے لۓ آپ سزاوار نہیں ٹھہراۓ جا سکتے، صرف اس لۓ کہ آپ اسے اپنے علم، تجربہ، عادات اور تصورات کی موجودہ حالات کی اثر سے ان پے یقین کرنے سے قائل نہیں ہیں۔ جرمانہ اور سزا صرف تب لاگو ہوتا ہے جب آپ جان بوجھ کر ان حقیقتوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آپکے لۓ اصل میں بدیہی اور واضح ہو چکے ہیں، اور جب آپ مزید علم اور معرفت، بہتر اعمال اور بہتر تفکر کی طرف اپنے فطری رجحان اور لگن کو انکار کرتے ہیں۔

لہذا آپ صرف اس وقت ویدک دھرم سے انحراف کرتے ہیں جب آپ جان بوجھ کر غلط یا باطل عمل پر ضد کرتے ہو اور اپنے ضمیر کی آواز کو نظر انداز کرتے ہو۔ ایک بدعنوان سیاستدان، ایک فریبی بازاری، جبری زنا کرنے والا، اور قاتل جیسے لوگ اسکے واضح مثالیں ہیں۔ جب ہم میں سے ہر کوئ ہوس، لالچ، خودغرضی، اور اعمال، الفاظ یا ذہن میں غصہ کا شکار ہو جاتا ہے، اگرچہ یہ اعمال دوسروں سے چھپے کیوں نہ ہوں، اس انحراف کا زیادہ صادق مثال ہے۔

ہر روز ہم اپنے زندگیوں میں ویدک مذہب کی پیروی مختلف درجات تک کرتے ہیں۔ ہر پہلو سے ہم 100 نمبر تو حاصل نہیں کرتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر اس سے بہت کم نمبر پاتے ہیں۔ لیکن یہ بات ہمیں کم ویدک نہیں بناتا۔ ہم ویدک اس حد تک ہیں جس حد تک ہمنے ارادہ کیا ہے کے گرنے کے ہر واقعہ کے بعد اٹھ کھڑے ہوں گے۔ گرنا گناہ نہیں ہے۔ ہم گرتے ہیں کیونکہ ہمارے معضی کے مجموعی اعمال، خیالات اور عادات نے ہمیں اس لغزش کا مستحق بنایا ہے۔

لیکن ہمیں کسی ایک کا انتخاب اس پل ہے – ہماری لغزش کو جاری رکھیں، یا اٹھ کھڑے ہو جایں۔

شاید آپ آج دنڈ کی ورزش (زمین پر دراز ہوکر ہاتھوں سے جسم کو اٹھانا بٹھانا) کرنے کے قابل نہیں ہو۔ لیکن آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ کوشش کرنے سے انکار کر سکتے ہیں اور مستقبل میں بھی طاقتور جسم سے محروم رہ جایںگے۔ یا پہلے آسان طریقہ سے گھٹنوں کو زمین پر بٹھاکر ورزش کی شروعات کرکے آہستہ آہستہ اپنے سپنوں سے بھی زیادہ مشٹنڈا اور طاقتور جسم حاصلکر لیں۔ دوسری راہ چنکر آپ ویدک مذہب کے پیروکار بن جایں گے۔

 

The 4 Vedas Complete (English)

The 4 Vedas Complete (English)

Buy Now
Print Friendly

More from Agniveer

Comments

  1. Noor e Haq says

    abcd ji, waise yeh mazmoon ko ghaur se paRhiye to samajh mein aa jayega ke yeh islam ya kisi mazhab ka khaatimah naheen chahta hai. aap chahe islami bane raho ya christian ya yahoodi — lekin deen ki haqeeqat jaano. yeh mazmoon sirf deen ke naam me firqawaari aur jarihiyat ke khilaaf hai.

    lekin yaad rakhiyega ke jis cheez ki shurooaat talwaar se hoti hai, uska khaatimah bhi talwaar se hota hai. yeh Isa Masih ne kaha hai. aur jo sanaatan hai, wohi sanaatan rahega.

    pichhli baar jab Swami Dayanand ji ne prachaar kiya thha, tab itne saare bahke hue musalmano ne inko tasleem kiya tha key baaqi punjabi musalmano ko laga ke yaum e qayamat aa chuka hai LOL. isiliye unko laga ke “Mahdi” ke aane ka vaqt aa gaya hai, aur dekho — mahdi qadiyani Ghulam Ahmad aa padhaare! waise bhi doosre islami qaaid log British zaalimon se chipak gaye.

    ab sochiye agar Swami Dayanand ke prakaash musalsal jaari rahe, phir kya hoga?

  2. shariq Nadeem says

    noor huq: jab tahir ul qadri ke speeches log sunte hain toh kai ghair mazhab logon ne islam qubool kya , aur kai kar rahe hain aur insha ALLAH karte rahenge,
    agniveer chupa bheediya hai jo hindustan mein aag lagana chahta hai.

    • Slave of Prophet says

      @shariq Nadeem
      Agniveer is kufr. Allah will punish him eternally in hell fire for not worshiping Allah.

    • says

      Shariq Nadeem Sahib, Shayad aapko maloom nahi ki Tahir ul Qadri ki taqareer sunkar Pakistani Fatwa Factory fatwe ugalne lagi thi aur wahabi-Sunni maulanaon ki aksariyat ne unko Kafir qaraar de diya! Are miyan Qadri Sahib ko Mulk chhod kar bhaagna pada aur Canada ki Shahriyat leni padi kyonki unki speech sunne wala Pakistan mein koi nahi bacha :) Aur aap farma rahe hain ki unki taqreer se gair deeni log bhi deen mein lout aate hain, kuchh ajeeb si baat nahi hai? Shukriya

    • Jin says

      @shariq Nadeem – What kind of moron you are? Iran, Afghanistan, pakistan all were once Hindus place. Look what conversion has done to them. Thousands of kids have died without reason at iran, afghanistan and now pakistan. Gaza is a true horror for the people, specially kids and women. Have you ever seen the picture of them? Is your zoker going to save those innocent lives? What kind of religion you are following and what kind of God is allowing such a heinous crime to their own people? Ever think about that? Religion of peace? Well you can have better sleep at night in India than iran, Afghanistan, Syria, Egypt or Pakistan. I must admit that our ancestors must have done bad Karma, that’s why we have to live with such a Zombie people who just believe in killing or conversion in the name of peace.

    • says

      shaariq ji,

      Tahir-ul-qadri apne zamane ka behtareen sukhanwar hai, jisne balaghah ke ilm se anpadh joloos ko taqreer se mahv karna seekha hai. yehi ilm in ulema ko sikhaee jaati hai. Angrezi mein ise kehte hain “mass hypnotism”.

      yahaan Agniveer pe ham anpadhon ki ginti se haqq ka faisla naheen karte.

  3. Puppu says

    Yah to inoh common chizon ki bat ki ha. Jo har insan ke ander maujood hoti ha. Isski islam isait yahudiat. Yahan tak ki jo lag kisi bhi mazhab ko nhi mante wo bhi ise tasleem karte han. Agar yah. Vaddism ha to phir manne ki had tak. Sab hindu han ki haqiqat is ke barkhelaf ha
    Pure mazmoon ne sirf ek hawala ved se diya gaya ha. Baqi apni traf se lagon ko bewqoof bnaya gaya ha.

    • says

      Puppu janab, yeh “common” baatein kuch “deeni” kitabon mein dar asal uncommon ho jaati hain, khusoosan un kitabon mein jo sachchaee ko sirf ek shakhs aur uske zindagi ke hadd tak mahdood karvate hain. sochiye zara. iske bar khilaaf, Hinduism to sachchaee ka ek ravaan darya hai, jo ke tareekh se pehle bhi zinda thha, aur mustaqbil mein bhi zinda rahega. jo mahdood “deeni” firqe talwar aur brainwashing ke bal par apne owj tak pahunch chuke hain, unka zawal bhi nishchit hai. bas inmein se kuch chup-chaap mit jayenge, aur unmein se ek do badi dhoom aur khoon-kharab ke saath mitne wale hain. Vedon ka “common” sachaee hi vahid darwaza hai asli irfaan ka, aur woh barqaraar rahega. namaste.

    • Aatish says

      Janab Ibrahim, tanqeed Ke liye shukriya. Vazahat chahta hoon. Quality ko kis lihaaz se behtar banaya ja Sakta hai?

Please read "Comment Policy" and read or post only if you completely agree with it. You can share your views here and selected ones will be replied directly by founder Sri Sanjeev Agniveer.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

 characters available

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>