UPI - agniveerupi@sbi, agniveer.eazypay@icici
PayPal - [email protected]

Agniveer® is serving Dharma since 2008. This initiative is NO WAY associated with the defence forces scheme launched by Indian Govt in 2022

UPI
agniveerupi@sbi,
agniveer.eazypay@icici

Agniveer® is serving Dharma since 2008. This initiative is NO WAY associated with the defence forces scheme launched by Indian Govt in 2022

Home Blog Page 50

ڈا جاکِر نائیک کے جھُوٹھ کا بھںڈاپھوڑ Zakir Naik's Fraud exposed

ڈا جاکِر نائیک ہجاروں کی بھیڑ میں اِسلام اؤر باکی مجاہِب (دھرموں) پر اَکسر بولتے دیکھے جاتے ہیں۔ وے کھُد اِس بات کو بڑے پھکھر سے پیش کرتے ہیں کِ وو اِسلام اؤر باکی مجہبوں کے تالِب اِ اِلم (وِدیارتھی) ہیں۔ ویسے کبھی کبھی وو کھُد کو اِس اِس بات میں آلِم بھی کہتے ہیں! اَسل میں بھی جب جاکِر بھائی کُران، ہدیسوں اؤر دُوسری کِتابوں کے ہوالے (پرمان) بِنا کِسی کِتاب کی مدد سے کیول اَپنی سنسنیکھیج یادّاشت سے دیتے ہیں تو مؤکے پر ہی ہزاروں کو اَپنا مُرید بنا لیتے ہیں۔ ہم کھُد جاکِر بھائی کی اَدھِکتر باتوں سے اِتیپھاک (سہمتِ) نہیں رکھتے تھے لیکِن اِسلام کے لِئے جاکِر بھائی کی کوشِشیں کابِل ئے تاریف جرُور سمجھتے تھے۔ ہم اَب تک یہی سوچ رہے تھے کِ جاکِر بھائی اِسلام کی کھِدمت میں جی جان سے ہاجِر ہیں۔ اِسکے لِئے اُنہوںنے ن جانے کُران، ہدیس، سیرت، وید، پُران، اُپنِشد، بھگود گیتا، منُسمرتِ، مہابھارت، تؤریت، بائیبل، دھمم پد، گُرُگرںتھ ساہِب، اؤر ن جانے کیا کُچھ ن سِرپھ پڑھ ڈالا ہے بلکِ یاد بھی کر لِیا ہے۔ دُنِیا کی ہر مجہبی کِتاب میں مُہمّد (سللo) کو ڈھُوںڈھنے کا داوا بھی کِیا ہے۔ اِسکے لِئے اُنہوںنے یے ساری کِتابیں کِتنی باریکی سے پڑھی ہوںگی یہ سوچنا کوئی مُشکِل کام نہیں۔ پُوری دُنِیا میں اِسلام کا جھںڈا بُلںد کرنے کی گرج (آوشیکتا) سے سدا اِدھر اُدھر تکریریں (بھاشن) کرتے ہُئے بھی اِتنا سب پڑھ ڈالا، یہ اَپنے آپ میں ایک سنسنی پیدا کرنے والی بات ہے۔ ہم یہی سوچتے ہُئے اَلّاہ سے دُآ کر رہے تھے کِ جاکِر بھائی جیسی کابِلِیت ہمیں بھی بکھشیں تاکِ ہم بھی اَپنے مجہب کی کھِدمت اِسی ترہ کر سکیں!

ہم یے سب سوچتے ہُئے دِن ہی بِتا رہے تھے کِ اَچانک ہم ایک کِتاب سے رُوبرُو ہُئے۔ اِس کا نام تھا “Muhammad in World scriptures” متلب “دُنِیاوی کِتابوں میں مُہمّد” متلب (وِشو کی پُستکوں میں مُہمّد)۔ اِسکے لِکھنے والے جناب مؤلانا اَبدُل ہک وِدیارتھی ہیں، جِنہوںنے اِسے 1936 میں لِکھا تھا۔ جب اِسے پڑھا تو ہم کُچھ دیر کے لِئے ہیران رہ گئے۔ جاکِر بھائی کے سارے داوے لپھز در لپھز (شبدشہ) اِس کِتاب میں مِلنے لگے۔ جب اِسے پُورا پڑھا تو ہماری ہیرانی کا ٹھِکانا ن رہا جب ہمنے دیکھا کِ مُہمّد (سللo) کے دُنِیا کی اؤر مجہبی کِتابوں میں ہونے کے بارے میں جاکِر بھائی کا سارا کام اِس کِتاب کی جیوں کی تیوں نقل ہی ہے! اِسّے بڑھکر یہ کِ جاکِر بھائی نے کہیں بھی اَپنی کِسی کِتاب، تقریر، یا لیکھ میں اِن ہجرت اَبدُل ہک کا نام بھی نہیں لِیا، اُنکا شُکرِیا اَدا کرنا تو بہُت دُور رہا۔ اِس ترہ چوری سے کِسی کی چیج پر ہک جتا کر اَپنے نام سے پیش کرنے کی سجا شرِیت میں کیا ہے، یہ تو ہم آگے لِکھیںگے۔ لیکِن اَبھی اِس ماملے کی سبسے ہیرتںگیج اؤر پُوری مُسلِم اُمّت کا دِل دہلا دینے والی اِتّلا دی جانی باکی ہے۔

ڈا جاکِر نائیک نے جِس مؤلانا کی کِتاب سے یے باتیں چُرائی ہیں، وو کوئی ایسا ویسا مومِن نہیں ہے۔ وو ایک ایسے پھِرکے (ورگ) سے ہے جِسے مُسلمانوں کا کوئی پھِرکا مُسلمان نہیں سمجھتا۔ یہاں تک کِ اُنہیں کاپھِروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے اؤر سب مُسلِم مُلکوں میں اُس پر پابںدی ہے۔ جی ہاں! یہ پھِرکا کادِیانی مُسلمانوں (؟) کا ہے جِسے اَہمدی بھی کہا جاتا ہے۔ تو بات یہ ہے کِ مؤلانا اَبدُل ہک، جِسکی کِتاب سے جاکِر بھائی نے چوری کی ہے، وو ایک کادِیانی/اَہمدی مُسلمان ہے، جِسکو کھُد جاکِر بھائی بھی مُسلمان نہیں سمجھتے! جاکِر بھائی کھُلے تؤر پر کادِیانِیوں کو کاپھِر بولتے ہیں۔ مِسال کے تؤر پر اِس لِںک کو دیکھیں

http://www.youtube. com/watch? v=8TUek3ZthYA

اِسّے پہلے ہم آگے کُچھ لِکھیں، بتاتے چلیں کِ مُسلمان دوست کیوں کادِیانِیوں سے نپھرت کرتے ہیں۔ اَسل میں کادِیانی پھِرکا مُہمّد ساہب کو آکھِری پیگمبر نہیں سمجھتا۔ یہ پھِرکا اُنّیسویں سدی کے ایک آدمی مِرزا گُلام اَہمد کادِیانی نے چلایا تھا جِسنے آم مُسلمانوں کی مُکھالپھت (وِرودھ) کرتے ہُئے کھُد کو مسیہا کہا تھا اؤر ساتھ ہی یہ بھی داوا کِیا کِ اُس پر بھی اَلّاہ کے اِلہام اُترتے ہیں جیسے مُہمّد (سللo) پر اُترا کرتے تھے۔ تو اِس ترہ کادِیانی مُہمّد (سللo) کو آکھِری پیگمبر نہیں مانتے۔ یہی نہیں، کادِیانی پھِرکے کے لوگ یہ بھروسا رکھتے ہیں کِ رام، کرشن، بُدّھ، گُرُ نانک وگیرہ بھی اَلّاہ کے پیگمبر تھے۔ اِسکے ساتھ ہی یہ پھِرکا کلکِ اَوتار (اَلّاہ کا اِںسان بنکے دھرتی پر آنا) کو آکھِری نبی بتاتا ہے۔ مِرجا گُلام اَہمد کادِیانی کو اَپنی نبُوّت پر اِتنا بھروسا تھا کِ اُسنے اُن لوگوں کو دوجکھ کی دھمکی دی جو اُسمیں اِیمان نہیں لایے۔

اَب یہاں بات آتی ہے کِ جاکِر بھائی نے ایسے آدمی کی کِتابوں سے چوری کرکے مُسلمانوں کو گُمراہ کِیا جو مُہمّد کو آکھِری رسُول نہیں مانتا تھا، جو گیر کادِیانِیوں کے لِئے سدا رہنے والی دوزکھ مانتا تھا، جو اَلّاہ کا اِںسان بنکر دھرتی پر آنا مانتا تھا، جو رام، کرشن، بُدّھ، نانک وگیرہ کو بھی مُہمّد کی ترہ ہی پیگمبر مانتا تھا۔ ایک سیدھے سادھے مُسلمان کے ساتھ اِسّے بڑا پھریب اؤر کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ جاکِر نائیک اَپنے اِس کارنامے سے جِن جِن بُری باتوں کے سرتاج بنے ہیں، وے ہیں-

1۔ لپھز در لپھز (شبدشہ) کِسی کی کِتاب سے بِنا پُوچھے چوری کرنا اؤر اُسکا شُکرِیا اَدا کرنا تو دُور، اُسکا نام بھی نہیں لینا۔

2۔ ایک کادِیانی (کاپھِر) کی باتوں کو مُسلمانوں کے بیچ اِسلام کہ کر پیش کرنا یانی مُسلمانوں کو دھوکھا دینا۔

3۔ اؤر اِس سارے کام کی واہواہی کھُد لُوٹنا جبکِ یہ کِسی اؤر کا کام تھا اؤر کھُد کو مجہبی ماملوں کا آلِم کہکر مُسلمانوں کو گُمراہ کرنا۔

4۔ اَپنے چاہنے والوں کو کادِیانِیوں کے سامنے جلیل ہونے کی وجہ بنّا۔

5۔ ویدوں میں مُہمّد کا داوا ہونے پر بھی ویدوں کو اِلہامی نا مانّا۔

اِن سب باتوں سے اِس بات کا شک ہوتا ہے کِ کہیں جاکِر بھائی مُسلمان کے بھیش میں کادِیانی تو نہیں؟ کیوںکِ کادِیانِیوں کو اُوپر سے گلت کہکر سیدھے سادھے مُسلمانوں کی بھیڑ جُٹاکر جاکِر بھائی جب کادِیانی کِتابوں کی باتوں کو ہی پھیلانے میں لگے ہیں تو اِسکا اؤر کیا متلب نِکلتا ہے؟ ہم جاکِر بھائی سے پُوچھنا چاہتے ہیں کِ اُنہوںنے اَپنے چاہنے والے ایک سچّے مُسلمان کے لِئے کیا راستا چھوڑا ہے؟ یہی کِ یا تو جاکِر بھائی کی ترہ کادِیانِیوں کے شُکرگُجار ہوں اؤر اُنکے کرجدار ہو جاّیں یا پھِر اِسلام کو داگ لگانے والے جاکِر بھائی سے ہی تؤبا کر لیں!

جِس کِسی کو بھی جاکِر بھائی کے اِس پھریب کو اَپنی آںکھوں سے دیکھنا ہے وو اِس لِںک پر جائے۔

http://www.scribd.com/doc/24693331/Zakir-Naik-s-Qadiyani-source-for-research

ڈا جاکِر نائیک کے اِن مسلوں پر لیکھ آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں تاکِ اُوپر دِئے لِںک سے مِلا کر دیکھ سکیں۔

http://www.irf.net/index.php؟option=com_content&view=article&id=145&Itemid=128

کادِیانِیوں کے بارے میں جانّے کے لِئے آپ یہاں جا سکتے ہیں۔

<http://en.wikipedia۔org/wiki/Prophethood_%28Ahmadiyya%29>

wikipedia۔org/wiki/Ahmadiyya_Muslim_Community>

اَب نیچے ہم ایک کادِیانی آلِم جاہِد اَزیز کا لِکھا ایک لیکھ (اَسل لیکھ اَںگریجی میں تھا، یہاں اُسے ہِںدی/اُردُو میں دِیا ہے) دیتے ہیں جِسمیں اُنہوںنے جاکِر نائیک اؤر مؤلانا اَبدُل ہک کے کاموں کو ایک ساتھ دِکھا کر یہ سابِت کِیا ہے کِ جاکِر نائیک نے کِس ترہ اَبدُل ہک کی کِتابوں سے ہُوبہُو باتیں چُرائی ہیں۔

1۔ جاکِر نائیک کے لیکھ میں بہُت سی بھوِشیوانِیاں دی گیی ہیں۔ اِسمیں تین بھوِشے پُران سے دی گیی ہیں۔ اِنمیں سے پہلی ہے-

“ایک ملیچ (گیر مُلکی اؤر گیر جبان اِستیمال کرنے والا) رُوہانی (اَدھیاتمِک) راستا دِکھانے والا اَپنے ساتھِیوں کے ساتھ آایگا۔ اُسکا نام موہمّد ہوگا۔ّ۔ّ۔”

یہی بھوِشیوانی مؤلانا اَبدُل ہک کی کِتاب کی بھی پہلی بھوِشیوانی ہے۔ مؤلانا اَبدُل اؤر جاکِر نائیک کے لیکھ ہُوبہُو ایک ہیں۔ بس اَںتر ہے کِ اَبدُل ہک نے “ملیچّھ” لِکھا ہے جبکِ جاکِر نے “ملیچ”! اؤر مؤلانا اَبدُل ہک کی کِتاب میں اِتنا فالتُو لِکھا ہے کِ “او پیارے اَلّاہ کے اَکس (پرتِبِمب)، سبسے بڑے، میں تُمہارا گُلام ہُوں، مُجھے اَپنے پیروں میں جگہ دے دو”

2

۔ اِن بھوِشیوانِیوں کو لِکھ کر جاکِر نائیک نے لیکھ میں نیچے چھہ نُکتے (باتیں/points) لِکھے ہیں جبکِ مؤلانا نے دس۔ ہم دیکھتے ہیں کِ جاکِر کے شُرُو کے تین نُکتے اؤر مؤلانا کے شُرُوآتی تین نُکتے ایک ہی ہیں۔ اؤر جاکِر کے نُکتے 4، 5، 6 مؤلانا کے 10، 7، 6 کی نقل ہیں۔ یہاں تک کِ لپھز بھی ایک سے ہی ہیں۔

مِسال (اُداہرن) کے تؤر پر دونوں کا تیسرا نُکتا اِس ترہ شُرُو ہوتا ہے

– “Special mention is made of the companions of the Prophet”

3۔ اِن چھہ نُکتوں کے باد جاکِر نائیک کے لیکھ میں دو باتیں لِکھی ہیں۔ پہلی اِس بات کے جواب میں ہے کِ راجا بھوج تو اِیسا سے 11 سدی پہلے ہُآ تھا۔ یہ بات اؤر اِس پر جواب جو جاکِر کے لیکھ میں ہے وہ ہُوبہُو وہی ہے جو مؤلانا کی کِتاب میں، کِ بھوج نام کا کیول ایک اَکیلا راجا نہیں ہُآ۔ جاکِر کا لیکھ کہتا ہے-

“The Egyptian Monarchs were called as Pharaoh and the Roman Kings were known as Caesar

، similarly the Indian Rajas were given the title of Bhoj۔

جبکِ مؤلانا نے لِکھا ہے-

“Just as the Egyptian monarchs were known as Pharaohs and the Roman kings were called Kaisers

، similarly، the Indian rajas were given the epithet of Bhoj”

4۔ دُوسری بات جو جاکِر کے لیکھ میں مسیہا کے گںگا میں نہلایے جانے سے جُڈی ہے، وہ ہے-

“The Prophet did not physically take a bath in the Panchgavya and the water of Ganges

۔ Since the water of Ganges is considered holy، taking bath in the Ganges is an idiom، which means washing away sins or immunity from all sorts of sins۔ Here the prophecy implies that Prophet Muhammad (pbuh) was sinless، i۔e۔ Maasoom”

بِلکُل یہی بات مؤلانا کی کِتاب میں کُچھ یُوں مِلتی ہے-

“Another point which requires elucidation is the Prophet’s taking bath in ‘Panchgavya’ and the water of the Ganges

۔ This did not، of course، actually happen as it was only a vision; so we give it the interpretation that the Prophet will be purged of and made immune from all sorts of sins۔

5۔ جاکِر کے لیکھ میں بھوِشے پُران سے دُوسری بھوِشیوانی وہی ہے جو مؤلانا کی دُوسری۔ جاکِر نے لِکھا ہے-

“The Malecha have spoiled the well-known land of the Arabs

۔ Arya Dharma is not to be found in the country۔

اِس پُوری بھوِشیوانی، جو کِ اُوپر لِکھی گیی باتوں کی دس گُنی ہے، پُوری کی پُوری مؤلانا کی کِتاب سے میل کھاتی ہے۔

6

۔ اِس بھوِشیوانی پر جاکِر کے لیکھ میں دس نُکتے (points) ہیں وہیں مؤلانا کی کِتاب میں بارہ۔ نائیک کے پہلے دو نُکتے مؤلانا کے پہلے دو نُکتے ہی ہیں۔ جاکِر کے تین سے دس تک کے نُکتے مؤلانا کے پاںچ سے بارہ تک کے نُکتے ہی ہیں۔

7

۔ جاکِر کے لیکھ میں بھوِشے پُران کی تیسری اؤر آکھِری بھوِشیوانی کُچھ اِس ترہ شُرُو ہوتی ہے– “Corruption and persecution are found in seven sacred cities of Kashi، etc”

مؤلانا کی کِتاب میں بھی اَگلی بھوِشیوانی یہی ہے اؤر کریب کریب اِنہیں اَلپھاز میں۔

8۔ آگے جاکِر نے اَتھروّید کی تین بھوِشیوانِیاں دی ہیں۔ مؤلانا کی کِتاب میں بھی اَگلی باری اِنہیں کی ہے۔ اِن بھوِشیوانِیوں کے بارے میں جاکِر کے لیکھ میں اُٹھایے گئے سارے نُکتے مؤلانا کی کِتاب میں ہیں اؤر ٹھیک اُسی کرم میں جِس کرم میں جاکِر کے نُکتے ہیں۔

9۔ اِسّے آگے جاکِر کے لیکھ میں ایک بھوِشیوانی سںسکرت کے ایک لپھز “سُشروا” کے بارے میں ہے جو ہُوبہُو مؤلانا کی کِتاب میں دِیا ہے۔

10۔ اِسکے آگے اؤر آکھِری بھوِشیوانی سںسکرت کے ایک لپھز “اَہمِد” کے بارے میں ہے جو بِلکُل اِنہیں اَلپھاز میں مؤلانا نے لِکھی ہے۔

اؤر اِس پر جاکِر نائیک کا لیکھ ختم ہوتا ہے اؤر ساتھ ہی مؤلانا کا “ہِندُو کِتابوں میں پیگمبر” لیکھ بھی۔ اِسّے ساف جاہِر ہے کِ جاکِر نائیک کا لیکھ مؤلانا کی کِتاب کے کُچھ ہِسّوں کا ہی چھوٹا رُوپ ہے جو بِلکُل اُسی کرم میں ہے جِس کرم میں مؤلانا کی کِتاب کے وو ہِسّے۔ اِسمیں شک نہیں کِ باد کا کوئی لِکھنے والا پہلے والے کے کام سے مدد لے سکتا ہے، پر اَگر وو اِسّے بہُت پھایدا اُٹھا رہا ہے تو اُسکو چاہِئے کِ وہ اِس بات کو تسلیم (سویکار) کرے کِ اُسنے مدد لی ہے اؤر مدد کرنے والے کا شُکرِیا اَدا کرے۔

مؤلانا اَبدُل ہک کا کام اِسلام کے اُس پیگام پر ٹِکا ہے جِسمیں کہا گیا ہے کِ اَلّاہ نے مُہمّد (سلل

o) سے پہلے ہر مُلک میں اَپنے نبی بھیجے۔ مُسلِم آلِموں نے اِس بات کو کیول اِسرائیلی پیگمبروں تک ہی رکھا۔

ہجرت مِرجا گُلام اَہمد نے اِس بات پر جور دِیا اؤر کہا کِ ہِندُو مجہب کے بڑے لوگ جرُور اَلّاہ کے بھیجے نبی تھے اؤر اُنکی کِتابیں شُرُو میں اَلّاہ کا اِلہام تھیں۔ اِسی کو لیکر مؤلانا اَبدُل ہک نے ہِندُو کِتابوں سے مُہمّد (سلل

o) کی بھوِشیوانِیوں کو کھوج نِکالا۔ یہی وجہ تھی کِ مؤلانا نے لِکھا

“The coming prophet will attest the truth of the Aryan faith”

متلب، آنے والا نبی، آرے دھرم (وید کا مجہب) کے سچّائی کی سیل ہوگا۔

جبکِ، ڈا جاکِر نائیک نے کِسی اؤر جگہ پر یہ کہا ہے کِ وید اِلہام نہیں بھی ہو سکتے۔ دیکھِیے ایک سوال، کِ “کیا وید اؤر باکی ہِندُو کِتابیں اَلّاہ کا اِلہام مانی جا سکتی ہیں”، کے جواب میں جاکِر کیا جواب دیتے ہیں-

“کُران یا سہی ہدیس میں کہیں بھی ہِںدُستان میں بھیجے گئے اِلہام کے بارے میں کُچھ نہیں مِلتا۔ کیوںکِ ویدوں کا یا اؤر کِسی ہِندُو کِتابوں کا نام کُران یا سہی ہدیس میں نہیں مِلتا اِسلِئے یہ داوے سے نہیں کہا جا سکتا کِ وے اَلّاہ کا اِلہام تھے۔ وو اَلّاہ کا اِلہام ہو بھی سکتے ہیں اؤر نہیں بھی۔”

اَگر ایسا ہے کِ اُنمیں سے کُچھ بھی اَلّاہ کا اِلہام نہیں تھا تو اِن کِتابوں میں نبی کے آنے کی بھوِشیوانی کیسے مِلتی ہے؟ اَگر وے اِلہام نہیں بھی ہو سکتے ہیں، تو یہ بھی مُمکِن ہے کِ اُنکے جو ہِسّے ڈا جاکِر نائیک نے اَپنے لیکھ میں دِئے ہیں وو بھی اَلّاہ کی ترپھ سے مُہمّد (سلل

o) کے بارے میں بھوِشیوانِیاں ن ہوں۔

مجیدار بات یہ ہے کِ اِس لیکھ میں ڈا نائیک نے مؤلانا اَبدُل ہک کے یے اَلپھاز بھی نقل کر دِئے کِ “آنے والا نبی آرے دھرم (ویدوں کے مجہب) کے سچّائی کی سیل ہوگا” یانی پیگمبر مُہمّد (سلل

o) بھی آرے دھرم کی کِتابوں (وید) کو اَلّاہ کا اِلہام ہی سمجھیںگے۔ لگتا ہے کِ ڈا نائیک کو پتا ہی نہیں چلا کِ اُنکے یے اَلپھاز اُوپر ہی دِئے گئے اُنکے اَلپھاجوں کو کاٹتے ہیں۔

اَگنِویر: ویسے یہ لیکھ ختم کرنے سے پہلے بتاتے چلیں کِ اِسلامی شرِیت، جِسکے جاکِر بھائی سکھت ہِمایتی ہیں، چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹنے کا ہُکم دیتی ہے! ساتھ ہی اَپنے اِیمان کو چھوڑ دینے والا (مُسلِم سے گیر مُسلِم ہو جانے والا) واجِبُلکتل (مار ڈالنے کے کابِل) ہے۔ اَب دیکھنا یہ ہے کِ جاکِر بھائی اؤر اُنکے چاہنے والے، یہ سابِت ہو جانے پر کِ اُنہوںنے چوری کی ہے اؤر ساتھ ہی کاپھِروں کی کِتابوں سے چیجیں اُٹھاکر اُنکو اِسلام کے نام پر پیش کِیا ہے، اُنکے ساتھ کیسا برتاو چاہتے ہیں؟ کیا ہی اَچّھا ہو اَگر جاکِر بھائی یہیں سے شرِیت لاگُو کرنے کا ہؤںسلا دِکھاّیں اؤر سابِت کریں کِ وے کوئی کادِیانی نہیں لیکِن شرِیت میں یکین کرنے والے سچّے مومِن ہیں!

डॉ जाकिर नाइक का भंडाफोड़

डॉ जाकिर नाइक हजारों की भीड़ में इस्लाम और बाकी मजाहिब (धर्मों) पर अक्सर बोलते देखे जाते हैं. वे खुद इस बात को बड़े फख्र से पेश करते हैं कि वो इस्लाम और बाकी मजहबों के तालिब इ इल्म (विद्यार्थी) हैं. वैसे कभी कभी वो खुद को इस इस बात में आलिम भी कहते हैं! असल में भी जब जाकिर भाई कुरान, हदीसों और दूसरी किताबों के हवाले (प्रमाण) बिना किसी किताब की मदद से केवल अपनी सनसनीखेज याददाश्त से देते हैं तो मौके पर ही हज़ारों को अपना मुरीद बना लेते हैं. हम खुद जाकिर भाई की अधिकतर बातों से इतेफाक (सहमति) नहीं रखते थे लेकिन इस्लाम के लिए जाकिर भाई की कोशिशें काबिल ए तारीफ़ जरूर समझते थे. हम अब तक यही सोच रहे थे कि जाकिर भाई इस्लाम की खिदमत में जी जान से हाजिर हैं. इसके लिए उन्होंने न जाने कुरान, हदीस, सीरत, वेद, पुराण, उपनिषद्, भगवद गीता, मनुस्मृति, महाभारत, तौरेत, बाईबल, धम्म पद, गुरुग्रंथ साहिब, और न जाने क्या कुछ न सिर्फ पढ़ डाला है बल्कि याद भी कर लिया है. दुनिया की हर मजहबी किताब में मुहम्मद (सल्लo) को ढूँढने का दावा भी किया है. इसके लिए उन्होंने ये सारी किताबें कितनी बारीकी से पढ़ी होंगी यह सोचना कोई मुश्किल काम नहीं. पूरी दुनिया में इस्लाम का झंडा बुलंद करने की गरज (आवश्यकता) से सदा इधर उधर तकरीरें (भाषण) करते हुए भी इतना सब पढ़ डाला, यह अपने आप में एक सनसनी पैदा करने वाली बात है. हम यही सोचते हुए अल्लाह से दुआ कर रहे थे कि जाकिर भाई जैसी काबिलियत हमें भी बख्शें ताकि हम भी अपने मजहब की खिदमत इसी तरह कर सकें!
हम ये सब सोचते हुए दिन ही बिता रहे थे कि अचानक हम एक किताब से रूबरू हुए. इस का नाम था “Muhammad in World scriptures” मतलब “दुनियावी किताबों में मुहम्मद” मतलब (विश्व की पुस्तकों में मुहम्मद). इसके लिखने वाले जनाब मौलाना अब्दुल हक विद्यार्थी हैं, जिन्होंने इसे १९३६ में लिखा था. जब इसे पढ़ा तो हम कुछ देर के लिए हैरान रह गए. हमें झटका सा लगा.
जाकिर भाई के सारे दावे लफ्ज़ दर लफ्ज़ (शब्दशः) इस किताब में मिलने लगे. जब इसे पूरा पढ़ा तो हमारी हैरानी का ठिकाना न रहा जब हमने देखा कि मुहम्मद (सल्लo) के दुनिया की और मजहबी किताबों में होने के बारे में जाकिर भाई का सारा काम इस किताब की ज्यों की त्यों नक़ल ही है! इससे बढ़कर यह कि जाकिर भाई ने कहीं भी अपनी किसी किताब, तक़रीर, या लेख में इन हजरत अब्दुल हक का नाम भी नहीं लिया, उनका शुक्रिया अदा करना तो बहुत दूर रहा. इस तरह चोरी से किसी की चीज पर हक जता कर अपने नाम से पेश करने की सजा शरियत में क्या है, यह तो हम आगे लिखेंगे. लेकिन अभी इस मामले की सबसे हैरतंगेज और पूरी मुस्लिम उम्मत का दिल दहला देने वाली इत्तला दी जानी बाकी है.
डॉ जाकिर नाइक ने जिस मौलाना की किताब से ये बातें चुराई हैं, वो कोई ऐसा वैसा मोमिन नहीं है. वो एक ऐसे फिरके (वर्ग) से है जिसे मुसलमानों का कोई फिरका मुसलमान नहीं समझता. यहाँ तक कि उन्हें काफिरों से भी बदतर समझा जाता है और सब मुस्लिम मुल्कों में उस पर पाबंदी है. जी हाँ! यह फिरका कादियानी मुसलमानों (?) का है जिसे अहमदी भी कहा जाता है. तो बात यह है कि मौलाना अब्दुल हक, जिसकी किताब से जाकिर भाई ने चोरी की है, वो एक कादियानी/अहमदी मुसलमान है, जिसको खुद जाकिर भाई भी मुसलमान नहीं समझते! जाकिर भाई खुले तौर पर कादियानियों को काफिर बोलते हैं. मिसाल के तौर पर इस लिंक को देखें
http://www.youtube.com/watch?v=8TUek3ZthYA
इससे पहले हम आगे कुछ लिखें, बताते चलें कि मुसलमान दोस्त क्यों कादियानियों से नफरत करते हैं. असल में कादियानी फिरका मुहम्मद साहब को आखिरी पैगम्बर नहीं समझता. यह फिरका उन्नीसवीं सदी के एक आदमी मिर्ज़ा गुलाम अहमद कादियानी  ने चलाया था जिसने आम मुसलमानों की मुखालफत (विरोध) करते हुए खुद को मसीहा कहा था और साथ ही यह भी दावा किया कि उस पर भी अल्लाह के इल्हाम उतरते हैं जैसे मुहम्मद (सल्लo) पर उतरा करते थे. तो इस तरह कादियानी मुहम्मद (सल्लo) को आखिरी पैगम्बर नहीं मानते. यही नहीं, कादियानी फिरके के लोग यह भरोसा रखते हैं कि राम, कृष्ण, बुद्ध, गुरु नानक वगैरह भी अल्लाह के पैगम्बर थे. इसके साथ ही यह फिरका कल्कि अवतार (अल्लाह का इंसान बनके धरती पर आना) को आखिरी नबी बताता है. मिर्जा गुलाम अहमद कादियानी को अपनी नबुव्वत पर इतना भरोसा था कि उसने उन लोगों को दोजख की धमकी दी जो उसमें ईमान नहीं लाये.
अब यहाँ बात आती है कि जाकिर भाई ने ऐसे आदमी की किताबों से चोरी करके मुसलमानों को गुमराह किया जो मुहम्मद को आखिरी रसूल नहीं मानता था, जो गैर कादियानियों के लिए सदा रहने वाली दोज़ख मानता था, जो अल्लाह का इंसान बनकर धरती पर आना मानता था, जो राम, कृष्ण, बुद्ध, नानक वगैरह को भी मुहम्मद की तरह ही पैगम्बर मानता था. मौलाना अब्दुल हक़ विद्यार्थी ने यह किताब लिखी ही कादियानी फिरके के सिद्धांतो को फ़ैलाने के लिए. इस कादियानी किताब से पहले आज तक किसी ने दावा नहीं किया था मुहम्मद के वेद, पुराण, धम्मपद आदि किताबो में होने का.
कादियानों के लिए तो यह बिलकुल ठीक ही है. क्योंकि इसी प्रकार वे राम, कृष्ण, बुद्ध को भी पैगम्बर साबित करते हैं. फिर उसी तरह मुहम्मद और फिर मिर्ज़ा गुलाम को भी उसी पैगम्बरी परंपरा का दूत दिखाते हैं. कादियानी फिरके के आलावा कोई और मुसलमान इस को नहीं मानता. और इसी कारण आज दुनिया के अधिकांश मुसलमान मुल्कों में कादियानी फिरके को सरकारी तौर पर भी काफिर माना जाता है. आज दुनिया का कोई आम मुसलमान काफिर कहलाना मंजूर कर सकता है लेकिन कादियानी नहीं. इसलिए एक सीधे साधे मुसलमान के साथ इससे बड़ा फरेब और कोई हो ही नहीं सकता. जाकिर नाइक अपने इस कारनामे से जिन जिन बुरी बातों के सरताज बने हैं, वे हैं-
[mybooktable book=”essence-vedas-first-book-world” display=”summary” buybutton_shadowbox=”false”]
१. लफ्ज़ दर लफ्ज़ (शब्दशः) किसी की किताब से बिना पूछे चोरी करना और उसका शुक्रिया अदा करना तो दूर, उसका नाम भी नहीं लेना.
२. एक कादियानी (काफिर) की बातों को मुसलमानों के बीच इस्लाम कह कर पेश करना यानी मुसलमानों को धोखा देना.
३. और इस सारे काम की वाहवाही खुद लूटना जबकि यह किसी और का काम था और खुद को मजहबी मामलों का आलिम कहकर मुसलमानों को गुमराह करना.
४. अपने चाहने वालों को कादियानियों के सामने जलील होने की वजह बनना.
५. वेदों में मुहम्मद का दावा होने पर भी वेदों को इल्हामी ना मानना.
६. बड़ी चालाकी से कादियानी सिद्धान्तों को मुसलमानों में चुप चाप बढ़ावा देना ताकि किसी को कोई शक न हो.
इन सब बातों से इस बात का शक होता है कि कहीं जाकिर भाई मुसलमान के भेष में कादियानी तो नहीं? क्योंकि कादियानियों को ऊपर से गलत कहकर सीधे साधे मुसलमानों की भीड़ जुटाकर जाकिर भाई जब कादियानी किताबों की खासमखास बातों को ही फैलाने में लगे हैं तो इसका और क्या मतलब निकलता है? हम जाकिर भाई से पूछना चाहते हैं कि उन्होंने अपने चाहने वाले एक सच्चे मुसलमान के लिए क्या रास्ता छोड़ा है? यही कि या तो जाकिर भाई की तरह कादियानियों के शुक्रगुजार हों और उनके कर्जदार हो जाएँ या फिर इस्लाम को दाग लगाने वाले जाकिर भाई से ही तौबा कर लें!
जिस किसी को भी जाकिर भाई के इस फरेब को अपनी आँखों से देखना है वो इस लिंक पर जाए. http://www.scribd.com/doc/24693331/Zakir-Naik-s-Qadiyani-source-for-research
डॉ जाकिर नाइक के इन मसलों पर लेख आप यहाँ पढ़ सकते हैं ताकि ऊपर दिए लिंक से मिला कर देख सकें. http://www.irf.net/index.php?option=com_content&view=article&id=145&Itemid=128
कादियानियों के बारे में जानने के लिए आप यहाँ जा सकते हैं. इस से आप जानेंगे के जिन बातों को जाकिर फैला रहे हैं, उनके कारण किस तरह कादियानी काफिर बने और इन बातों को फ़ैलाने के पीछे कादियानी मकसद क्या है.
http://en.wikipedia.org/wiki/Prophethood_%28Ahmadiyya%29
http://en.wikipedia.org/wiki/Ahmadiyya_Muslim_Community
अब नीचे हम एक कादियानी आलिम जाहिद अज़ीज़ का लिखा एक लेख (असल लेख अंग्रेजी में था, यहाँ उसे हिंदी/उर्दू में दिया है) देते हैं जिसमें उन्होंने जाकिर नाइक और मौलाना अब्दुल हक के कामों को एक साथ दिखा कर यह साबित किया है कि जाकिर नाइक ने किस तरह अब्दुल हक की किताबों से हूबहू बातें चुराई हैं.
१. जाकिर नाइक के लेख में बहुत सी भविष्यवाणियाँ दी गयी हैं. इसमें तीन भविष्य पुराण से दी गयी हैं. इनमें से पहली है-
“एक मलेच (गैर मुल्की और गैर जबान इस्तेमाल करने वाला) रूहानी (अध्यात्मिक) रास्ता दिखाने वाला अपने साथियों के साथ आएगा. उसका नाम मोहम्मद होगा…..”
यही भविष्यवाणी मौलाना अब्दुल हक की किताब की भी पहली भविष्यवाणी है. मौलाना अब्दुल और जाकिर नाइक के लेख हूबहू एक हैं. बस अंतर है कि अब्दुल हक ने “मलेच्छ” लिखा है जबकि जाकिर ने “मलेच”! और मौलाना अब्दुल हक की किताब में इतना फ़ालतू लिखा है कि “ओ प्यारे अल्लाह के अक्स (प्रतिबिम्ब), सबसे बड़े, मैं तुम्हारा गुलाम हूँ, मुझे अपने पैरों में जगह दे दो”
२. इन भविष्यवाणियों को लिख कर जाकिर नाइक ने लेख में नीचे छह नुक्ते (बातें/points) लिखे हैं जबकि मौलाना ने दस. हम देखते हैं कि जाकिर के शुरू के तीन नुक्ते और मौलाना के शुरूआती तीन नुक्ते एक ही हैं. और जाकिर के नुक्ते ४, ५, ६ मौलाना के १०, ७, ६ की नक़ल हैं. यहाँ तक कि लफ्ज़ भी एक से ही हैं.
मिसाल (उदाहरण) के तौर पर दोनों का तीसरा नुक्ता इस तरह शुरू होता है- “Special mention is made of the companions of the Prophet”

३. इन छह नुक्तों के बाद जाकिर नाइक के लेख में दो बातें लिखी हैं. पहली इस बात के जवाब में है कि राजा भोज तो ईसा से ११ सदी पहले हुआ था. यह बात और इस पर जवाब जो जाकिर के लेख में है वह हूबहू वही है जो मौलाना की किताब में, कि भोज नाम का केवल एक अकेला राजा नहीं हुआ. जाकिर का लेख कहता है-
The Egyptian Monarchs were called as Pharaoh and the Roman Kings were known as Caesar, similarly the Indian Rajas were given the title of Bhoj.
जबकि मौलाना ने लिखा है-
“Just as the Egyptian monarchs were known as Pharaohs and the Roman kings were called Kaisers, similarly, the Indian rajas were given the epithet of Bhoj”
४. दूसरी  बात जो जाकिर के लेख में मसीहा के गंगा में नहलाये जाने से जुडी है, वह है-
The Prophet did not physically take a bath in the Panchgavya and the water of Ganges. Since the water of Ganges is considered holy, taking bath in the Ganges is an idiom, which means washing away sins or immunity from all sorts of sins. Here the prophecy implies that Prophet Muhammad (pbuh) was sinless, i.e. Maasoom
बिलकुल यही बात मौलाना की किताब में कुछ यूं मिलती है-
Another point which requires elucidation is the Prophet’s taking bath in ‘Panchgavya’ and the water of the Ganges. This did not, of course, actually happen as it was only a vision; so we give it the interpretation that the Prophet will be purged of and made immune from all sorts of sins.
५. जाकिर के लेख में भविष्य पुराण से दूसरी भविष्यवाणी वही है जो मौलाना की दूसरी. जाकिर ने लिखा है-
[mybooktable book=”glory-women-hinduism” display=”summary” buybutton_shadowbox=”false”]
The Malecha have spoiled the well-known land of the Arabs. Arya Dharma is not to be found in the country.
इस पूरी भविष्यवाणी, जो कि ऊपर लिखी गयी बातों की दस गुनी है, पूरी की पूरी मौलाना की किताब से मेल खाती है.
६. इस भविष्यवाणी पर जाकिर के लेख में दस नुक्ते (points) हैं वहीँ मौलाना की किताब में बारह. नाइक के पहले दो नुक्ते मौलाना के पहले दो नुक्ते ही हैं. जाकिर के तीन से दस तक के नुक्ते मौलाना के पांच से बारह तक के नुक्ते ही हैं.
७. जाकिर के लेख में भविष्य पुराण की तीसरी और आखिरी भविष्यवाणी कुछ इस तरह शुरू होती है- “Corruption and persecution are found in seven sacred cities of Kashi, etc
मौलाना की किताब में भी अगली भविष्यवाणी यही है और करीब करीब इन्हीं अल्फाज़ में.
८. आगे जाकिर ने अथर्ववेद की तीन भविष्यवाणियाँ दी हैं. मौलाना की किताब में भी अगली बारी इन्हीं की है. इन भविष्यवाणियों के बारे में जाकिर के लेख में उठाये गए सारे नुक्ते मौलाना की किताब में हैं और ठीक उसी क्रम में जिस क्रम में जाकिर के नुक्ते हैं.
९. इससे आगे जाकिर के लेख में एक भविष्यवाणी संस्कृत के एक लफ्ज़ “सुश्रवा” के बारे में है जो हूबहू मौलाना की किताब में दिया है.
१०. इसके आगे और आखिरी भविष्यवाणी संस्कृत के एक लफ्ज़ “अहमिद” के बारे में है जो बिलकुल इन्हीं अल्फाज़ में मौलाना ने लिखी है.
और इस पर जाकिर नाइक का लेख ख़त्म होता है और साथ ही मौलाना का “हिन्दू किताबों में पैगम्बर” लेख भी. इससे साफ़ जाहिर है कि जाकिर नाइक का लेख मौलाना की किताब के कुछ हिस्सों का ही छोटा रूप है जो बिलकुल उसी क्रम में है जिस क्रम में मौलाना की किताब के वो हिस्से. इसमें शक नहीं कि बाद का कोई लिखने वाला पहले वाले के काम से मदद ले सकता है, पर अगर वो इससे बहुत फायदा उठा रहा है तो उसको चाहिए कि वह इस बात को तस्लीम (स्वीकार) करे कि उसने मदद ली है और मदद करने वाले का शुक्रिया अदा करे.
मौलाना अब्दुल हक का काम इस्लाम के उस पैगाम पर टिका है जिसमें कहा गया है कि अल्लाह ने मुहम्मद (सल्लo) से पहले हर मुल्क में अपने नबी भेजे. मुस्लिम आलिमों ने इस बात को केवल इस्राइली पैगम्बरों तक ही रखा.
हजरत मिर्जा गुलाम अहमद ने इस बात पर जोर दिया और कहा कि हिन्दू मजहब के बड़े लोग जरूर अल्लाह के भेजे नबी थे और उनकी किताबें शुरू में अल्लाह का इल्हाम थीं. इसी को लेकर मौलाना अब्दुल हक ने हिन्दू किताबों से मुहम्मद (सल्लo) की भविष्यवाणियों को खोज निकाला. यही वजह थी कि मौलाना ने लिखा-
The coming prophet will attest the truth of the Aryan faith
मतलब, आने वाला नबी, आर्य धर्म (वेद का मजहब) के सच्चाई की सील होगा.

जबकि, डॉ जाकिर नाइक ने किसी और जगह पर यह कहा है कि वेद इल्हाम नहीं भी हो सकते. देखिये एक सवाल, कि “क्या वेद और बाकी हिन्दू किताबें अल्लाह का इल्हाम मानी जा सकती हैं”, के जवाब में जाकिर क्या जवाब देते हैं-
“कुरान या सही हदीस में कहीं भी हिंदुस्तान में भेजे गए इल्हाम के बारे में कुछ नहीं मिलता. क्योंकि वेदों का या और किसी हिन्दू किताबों का नाम कुरान या सही हदीस में नहीं मिलता इसलिए यह दावे से नहीं कहा जा सकता कि वे अल्लाह का इल्हाम थे. वो अल्लाह का इल्हाम हो भी सकते हैं और नहीं भी.”
अगर ऐसा है कि उनमें से कुछ भी अल्लाह का इल्हाम नहीं था तो इन किताबों में नबी के आने की भविष्यवाणी कैसे मिलती है? अगर वे इल्हाम नहीं भी हो सकते हैं, तो यह भी मुमकिन है कि उनके जो हिस्से डॉ जाकिर नाइक ने अपने लेख में दिए हैं वो भी अल्लाह की तरफ से मुहम्मद (सल्लo) के बारे में भविष्यवाणियाँ न हों.
मजेदार बात यह है कि इस लेख में डॉ नाइक ने मौलाना अब्दुल हक के ये अल्फाज़ भी नक़ल कर दिए कि “आने वाला नबी आर्य धर्म (वेदों के मजहब) के सच्चाई की सील होगा” यानी पैगम्बर मुहम्मद (सल्लo) भी आर्य धर्म की किताबों (वेद) को अल्लाह का इल्हाम ही समझेंगे. लगता है कि डॉ नाइक को पता ही नहीं चला कि उनके ये अल्फाज़ ऊपर ही दिए गए उनके अल्फाजों को काटते हैं.

अग्निवीर: वैसे यह लेख ख़त्म करने से पहले बताते चलें कि इस्लामी शरियत, जिसके जाकिर भाई सख्त हिमायती हैं, चोरी करने वाले के हाथ काटने का हुक्म देती है! साथ ही अपने ईमान को छोड़ देने वाला (मुस्लिम से गैर मुस्लिम हो जाने वाला) वाजिबुल्कत्ल (मार डालने के काबिल) है. अब देखना यह है कि जाकिर भाई और उनके चाहने वाले, यह साबित हो जाने पर कि उन्होंने चोरी की है और साथ ही काफिरों की किताबों से चीजें उठाकर उनको इस्लाम के नाम पर पेश किया है, उनके साथ कैसा बर्ताव चाहते हैं? क्या ही अच्छा हो अगर जाकिर भाई यहीं से शरियत लागू करने का हौंसला दिखाएँ और साबित करें कि वे कोई कादियानी नहीं लेकिन शरियत में यकीन करने वाले सच्चे मोमिन हैं!
This article is also available in English at http://agniveer.com/645/naikexposed/

प्रयाण

करना है प्रयाण मुझे अभी युद्ध क्षेत्र को
है शत्रु जहाँ युद्ध की है दुन्दुभी बजा रहा
कर भेड़िए इकट्ठे बढ़ा चला है भीड़ में
दिखा के सैन्य भेड़ियों का सिंह को डरा रहा
कहता है सर्वश्रेष्ठ हूँ कि सैन्य है बढ़ा हुआ
हैं लाख मेरी तरफ अकेला तू खड़ा हुआ
है सूचना इसे क्या सिंह एक हो तो क्या
घातक है लाख भेड़ियों से सिंह सोया हुआ
घसीटेंगे तेरे सैन्य से तुझको ही धरा पर
तू चढ़ जा आसमान में आ जा या जमीं पर
झुंडों से घिरा काँपेगा करता हुआ थरथर
जिस दिन दहाड़ेंगे हम इस नींद से उठ कर
कहना है आज हर किसी वैरी से ये हमें
ये धर्म सिंहों का है जो है प्राण सम हमें
देखा जो इसकी ओर यदि गिद्ध दृष्टि से
टुकड़ों में गिना जाएगा इतिहास पृष्ठों में
राणा नहीं तो राणा का भाला तो अभी है
कटार म्यान में हैं पर पानी तो अभी है
अब तक तो हो गया जो होना था अनाचार
आरम्भ है ये युद्ध का प्रतिशोध अभी है
जागो अभी! सुनो मेरे सोते हुए सिंहों
मैं जा रहा हूँ रण को मिल पाऊं ना कहीं
उठ जाओ दहाड़ो और अम्बर को गुंजा दो
सबसे ही ये गूंजेगा किसी एक से नहीं
आर्य मुसाफिर
[mybooktable book=”agnisankalp” display=”summary” buybutton_shadowbox=”false”]

ویدوں میں پیگمبر مُہمّد- جاکِر نائیک Zakir Naik claims Prophet in Vedas

0

اَکسر اِسلام کے کادِیانی پھِرکے کے بڑے بڑے مؤلانا اؤر آج کی مُسلِم دُنِیا کے جانے پہچانے ڈا جاکِر نائیک اَپنی تکریروں (بھاشن) اؤر کِتابوں میں اَکسر یے کہتے مِلتے ہیں کِ ہِندُو کِتابوں جیسے وید اؤر پُرانوں میں مُہمّد پیگمبر کے آنے کی بھوِشیوانی ہے۔ پاٹھک جاکِر نائیک کی ویبسائیٹ پر یہاں http://www.irf.net/index.php?option=com_content&view=article&id=201&Itemid=131

اُنکے داوے کو پڑھ سکتے ہیں۔ ہم اِس لیکھ میں یہ جانّے کی کوشِش کریںگے کِ وید میں پیگمبر مُہمّد کے ہونے کا یہ داوا کِتنا پُکھتا ہے اؤر کِتنا دھوکھے سے مُسلمان بنانے کی ناپاک ساجِش۔

پُران اؤر دُوسری کِتابوں کے داوے آگے کے لیکھ میں دِئے جایّںگے۔ اِسّے پہلے کِ ہم جاکِر نائیک کے ہوالوں (پرمان) اؤر منتک (ترک) پر اَپنی راے دیں، ہم کُچھ اَلپھاز (شبد) وید کے بارے میں کہیںگے۔

آج تک کی وید کی تاریکھ (اِتِہاس) میں کِسی وید کے مانّے والے نے وید میں مُہمّد تو کیا کِسی پیگمبر کا نام نہیں پایا۔ جِتنے
ऋشِ (وے پاکدِل اِںسان جِنہوںنے وید کے رُوہانی متلب اَپنے پاک دِل میں اِیشور/اَلّاہ کی مدد سے سمجھے اؤر دُنِیا میں پھیلائے) اَب تک ہُئے، سب نے وید میں کِسی کِسم کی تاریکھ (اِتِہاس) ہونے سے ساف اِنکار کِیا ہے۔ اِسّے کِسی آدمی کے چرچے وید میں مِلنا نامُمکِن ہے۔ اِسکے اُلٹ وید تو ہر جگہ، ہر وقت، اؤر ہر سُورت ئے ہال (دیش کال اؤر پرِستھِتِ) میں ایک سا سبکے لِئے ہے۔ وید میں جرُور کُچھ نام مِلتے ہیں، جیسے کرشن۔ لیکِن اِسکا یے متلب نہیں کِ وید لال کرشن آڈوانی کی بھوِشیوانی کرتے ہیں! اِسکا تو یہی متلب ہُآ کِ لوگوں نے وید میں سے کُچھ اَلپھاز (شبد) اَپنے نام کے لِئے چُن لِئے۔ جیسے کوئی مُہمّد نام کا آدمی آج کہے کِ کُران تو اُسکے بارے میں ہے اؤر اُس پر ہی اُترتی ہے تو اِس پر اُسکے دِماگ پر اَفسوس ہی جتایا جا سکتا ہے!

کھیر، اِس لیکھ میں ہم یہ بہس بھی نہیں کریںگے کِ وید میں اِتِہاس اؤر بھوِشیوانی ہیں کِ نہیں! ہم یہاں یہ سابِت کریںگے کِ اَگر وید میں مُہمّد پیگمبر کی کہانی سچّی ہے تو وے ایک پیگمبر ن ہوکر ہزاروں جِںدگِیوں کو خ اک کرنے والے ایک دہشتگرد تھے، اؤر ساتھ ہی یہ بھی کِ اُنکو گاے کا مارا جانا گوارا نہیں تھا!

تو ہمارا کہنا جاکِر نائیک سے یے ہے کِ یا تو وید میں مُہمّد کو مانّا چھوڑ دو اؤر اَگر نہیں تو مُہمّد پیگمبر کو ایک کاتِل دہشتگرد قُبُول کرو جِسنے مکّا کے سارے اِںسانوں کا کتل کر ڈالا، جیسا کِ ہم آگے دِکھاّیںگے! اِتنا ہی نہیں، گاے کا گوشت سب مُسلمانوں پر ہرام ٹھہرتا ہے کیوںکِ پیگمبر گاے کو بچانے والے تھے اؤر اُسکا مرنا اُنکو گوارا نہیں تھا!

یہ بات ایسی ہی ہے جیسے مُہمّد کو بھوِشے پُران میں سابِت کرکے جاکِر بھائی نے مُہمّد کو ایک بھُوت
(ghost) اؤر راکشس (demon) جو کِ شیتان کے برابر ہیں، قُبُول کِیا ہے جو کِ ترِپُراسُر نام کے راکشس کا اَگلا جنم تھا! اِسّے جاکِر بھائی ن سِرپھ مُہمّد پیگمبر کو ایک شیتان اؤر راکشس بتاتے ہیں بلکِ تناسُکھ (پُنرجنم) میں بھی یکین کرتے ہیں!

اَب ہم نیچے جاکِر بھائی کی ویبسائیٹ پر دِئے منتروں کے ترجُمے (اَنُواد) دیںگے اؤر پھِر اُس پر اُنکا نُکتا ئے نجر (درشٹِکون) بھی۔ اؤر اُسکے نیچے ہم اُنکی سوچ پر اَپنی راے دیںگے۔

1
۔ اَتھروّید میں مُہمّد (سللo)

جاکِر بھائی:

اَتھروّید کے 20 ویں کِتاب کے 127 ویں سُوکت کے کُچھ منتر کُںتاپ سُوکت کہلاتے ہیں۔ کُںتاپ کا متلب ہوتا ہے سب دُکھوں کو دُور کرنے والا۔ اِسلِئے جب اِسکو اَربی میں ترجُما (اَنُواد) کرتے ہیں تو اِسکا متلب “اِسلام” نِکلتا ہے۔

اَگنِویر:

1۔ اِس منتک (ترک) کے ہِساب سے تو دُنِیا کی ہر رُوہانی (آدھیاتمِک) اؤر ہؤںسلا اَپھجائی کرنے والی کِتاب کا متلب اِسلام ہوگا!

2۔ اِسّے یہ بھی پتا چلتا ہے کِ مُہمّد پیگمبر کے چلایے ہُئے دین اؤر اِسکا اَمن کا پیگام تو پہلے ہی ویدوں کی شکل میں مؤجُود تھا!

جاکِر بھائی کی یہ بات کابِل ئے تاریف ہے کِ اُنہوںنے اِسلام کی پیدائیش کو ویدوں سے نِکال کر یہ سابِت کر دِیا کِ وید ہی اَسل میں سب اَچّھائیّوں کی جڑ ہیں اؤر سبکو ویدوں کی ترپھ لؤٹنا چاہِئے!

جاکِر بھائی:

کُںتاپ کا متلب پیٹ میں چھُپے ہُئے پُرجے (اَںگ) بھی ہوتا ہے۔ لگتا ہے کِ یے مںتر کُںتاپ اِسلِئے کہلاتے ہیں کِ اِنکے اَسلی متلب چھِپے ہُئے تھے اؤر باد میں کھُلنے تھے۔ کُںتاپ کا ایک اؤر چھِپا ہُآ متلب اِس دھرتی کی ناپھ (نابھِ،
navel) یانی ایکدم بیچ کی جگہ سے ہے۔ مکّا اِس دھرتی کی ناپھ کہی جاتی ہے اؤر یے سب جگہوں کی ماں ہے۔ بہُت سی آسمانی کِتابوں میں مکّا کا جِکر اُس گھر کی ترہ ہُآ ہے جِسمیں اَلّاہ نے سبسے پہلے دُنِیا کو رُوہانی (آدھیاتمِک) تاکت بکھشی۔ کُران [3:96] میں آیا ہے-


مکّا پہلا اِبادت (پُوجا) کا گھر ہے جو اِںسانوں کے لِئے مُقرّر کِیا گیا جو سب وجُود (اَستِتّو) والوں کے لِئے کھُشِیوں اؤر ہِدایتوں سے بھرپُور ہے”

اِسلِئے کُںتاپ کا متلب مکّا ہے۔

اَگنِویر:

1
۔ جاکِر بھائی سے یہ گُجارِش ہے کِ کِسی لُگات (شبدکوش) میں کُںتاپ کا متلب “پیٹ کے چھِپے ہُئے پُرجے” دِکھا دیں!

2
۔ اَگر مان بھی لِیا جائے کِ جاکِر بھائی ایم بی بی ایس کی کھوج ٹھیک ہے تو اِن “چھِپے ہُئے پُرجوں” کا ناپھ (نابھِ) سے کیا تالُّک ہے؟ پیٹ میں آںت، لیور وگیرہ تو چھُپے ہوتے ہیں لیکِن کیول ناپھ ہی چھُپی نہیں ہوتی! تو پھِر کُںتاپ =چھُپا ہُآ کا متلب ناپھ=ن چھُپا ہُآ کیسے ہوگا؟

3
۔ ویسے گول دھرتی کا ‘بیچ’ اُسکے اَندر ہوتا ہے ن کِ اُسکی ستہ پر! تو جب مکّا بھی ستہ پر ہے تو وہ گول دھرتی کی نابھِ نہیں ہو سکتی، لیکِن چپٹی (flat) دھرتی کی جرُور ہو سکتی ہے! اَب پھیسلا جاکِر بھائی پر ہے کِ چپٹی دھرتی پر رہنا ہے کِ گول دھرتی پر! ویسے بتاتے چلیں کِ اِسلام دھرتی کو گول مانتا ہی نہیں۔ اِسی وجہ سے پُوری کُران میں ایک بھی آیت ایسی نہیں جِسمیں دھرتی کو گول مانا گیا ہے!

(اِسلام میں مکّا کو اِتنا اُوںچا درجا دِئے جانے کے پیچھے کُچھ تاریکھی وجُوہات (ایتِہاسِک کارن) ہیں۔ اِسلام کے وجُود سے پہلے بھی مکّا کی پُوجا ہوتی تھی اؤر وو لوگوں میں اِتنی گہرائی سے بیٹھی تھی کِ مُہمّد ساہب اِسکا وِرودھ کرکے اَپنا مجہب نہیں پھیلا سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کِ ساتویں آسمان پر بیٹھے اَلّاہ کی اِبادت کرنے کا داوا کرنے والے مُسلمان بھائی دِن میں پاںچ بار کابا کو سر جھُکاتے ہیں اؤر جِندگی میں ایک بار وہاں جاکر اُسکے چکّر کاٹنے سے جنّتنشیں ہونے کے سپنے دیکھتے ہیں! کابا کو چُومنا، اُسکے چکّر کاٹنا وگیرہ سب باتیں مکّا کے مُشرِک پہلے سے ہی کرتے تھے اؤر مُہمّد ساہب کو بھی اِسکو جاری رکھنا پڑا، بھلے ہی یے باتیں سچّے اَلّاہ کی اِبادت سے دُور ہیں۔)

4۔ جاکِر بھائی کا منتک (ترک) کہتا ہے

کُںتاپ = پیٹ کے چھِپے ہُئے پُرجے = ناپھ (نابھِ) = کیںدر = دھرتی کا کیںدر = مکّا

اِسلِئے، کُںتاپ = مکّا

تو اَب جاکِر بھائی کے اِس منتک سے دیکھتے ہیں کِ کیا ہوتا ہے

جہر = مؤت = پُورا آرام = اَمن چین (شاںتِ یا
peace ) = اِسلام (جاکِر ساہب کھُد ہی کہتے ہیں کی اِسلام کا متلب peace ہوتا ہے، اَپنے کاریکرم کا نام بھی Peace کانپھرینس رکھا ہے)

اِسلِئے، جہر = اِسلام

ہم اَپنے دانِشمںد (بُدّھِمان) بھائیّوں اؤر بہنوں سے پُوچھتے ہیں کِ جاکِر بھائی کے منتک اِسلام کا رُتبا (ستر) بڈھانے والے ہیں یا اُسکا مجاک بنانے والے؟

جاکِر بھائی:

کُچھ لوگوں نے اِس کُںتاپ سُوکت کے ترجُمے (اَنُواد) کِیے ہیں، جیسے ایم بلُومپھیلڈ، پروفیسر رالپھ گرِپھِتھ، پںڈِت راجارام، پںڈِت کھیم کرن وگیرہ۔

اَگنِویر:

1۔ اِن لوگوں میں سے پہلے دو تو اِیسائی مجہب پھیلانے کے مکسد سے کِتابیں لِکھنے والے اِیسائی تھے۔ وید کے ماملوں میں ایسے لوگوں کے منمانے متلب کوئی ماینے نہیں رکھتے۔

2
۔ ویسے اِن لوگوں نے کبھی بھی کِسی مںتر میں مکّا یا مُہمّد یا اِنسے جُڑی کِسی بات کا جِکر تک نہیں کِیا! کیول ایک لپھز “اُوںٹ” ہی تھا جو اِن لوگوں کے ترجُمے اؤر جاکِر بھائی کے ترجُمے میں ایک سا ہے! جاکِر بھائی نے سب منتروں میں جہاں کہیں بھی “اُوںٹ” آیا ہے وہاں جبردستی مکّا اؤر مُہمّد کو گھسیٹ لِیا ہے۔ یہ اَبھی آگے سابِت ہو جاّیگا۔ اِس لیکھ کو پڈھنے والے بھائی بہن اِن سب منتروں پر گرِپھِتھ کے ترجُمے کو http://www۔sacred-texts۔com/hin/av/av20127۔htm یہاں پر پڑھ سکتے ہیں اؤر کھُد پھیسلا کر سکتے ہیں کِ جاکِر بھائی سچ بول رہے ہیں کِ جھُوٹھ۔ ہم نیچے پںڈِت کھیم کرن کے کِیے ترجُمے (اَنُواد) کو دِکھا کر آپسے پُوچھیںگے کِ جاکِر بھائی سچ کے اُستاد ہیں کِ جھُوٹھ اؤر مکّاری کے! آپ اِس ترجُمے کو http://www۔aryasamajjamnagar۔org/atharvaveda_v2/atharvaveda۔htm یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

جاکِر بھائی:

کُںتاپ سُوکت متلب اَتھروّید [20/127/1-13] کی خاس باتیں ہیں-

منتر 1۔ وہ ناراشںس یا جِسکی تاریف کی جاتی ہے، مُہمّد ہے۔ وہ کؤرم یانی اَمن اؤر اُجڑے ہُاوں کا راجکُمار، جو 60090 دُشمنوں کے بیچ بھی ہِپھاجت سے ہے۔

منتر 2۔ وہ اُوںٹ پر سوار رہنے والا
ऋشِ ہے جِسکا رتھ (chariot) آسمانوں کو چھُوتا ہے۔

منتر 3۔ وہ مامہ
ऋشِ ہے جِسکو 100 سونے کی اَشرپھِیاں، 10 ہار، تین سؤ گھوڑے اؤر دس ہزار گاے دی گیی ہیں۔

منتر 4۔ او اِجّت دینے والے!

اَگنِویر:

اَسلی ترجُما (پںڈِت کھیم کرن)

منتر 1۔ ناراشںس متلب لوگوں میں تاریف پانے والا ہی اَسلی تاریف کو پایّگا۔ او کؤرم (دھرتی پر راج کرنے والے)، ہم بہُت ترہ کے توہپھے اُن جاںباج (ویر) لوگوں سے پاتے ہیں جو دہشتگرد کاتِلوں کو ختم کرتے ہیں۔

منتر 2،3۔ اُسکے رتھ میں تیج چلنے والے بہُت سے اُوںٹ اؤر اُوںٹنی ہیں۔ وہ سؤ اَشرپھِیوں، دس ہاروں، تین سؤ گھوڑوں اؤر دس ہجار گایوں کو میہنتکشوں (اُدیمی منُشیوں) کو دینے والا ہے۔

منتر 4۔ اِس ترہ سے اَچّھی باتیں پھیلاتے رہو جیسے پںچھی سدا پیڑوں سے چِلّاتے رہتے ہیں۔

اَب تک جاکِر بھائی اؤر باکی کے ترجُماکاروں میں یہ اَںتر ہے کِ جاکِر بھائی نے کُچھ لپھز اَپنی ترپھ سے ڈالکر مُہمّد پیگمبر کے ویدوں میں ہونے کا راستا بنایا ہے جبکِ اؤروں کو جیسے یہ کھبر بھی نہیں کِ اَرب میں کوئی تاریف پانے لایک پیگمبر اَبھی اَبھی ہوکر گُجرا ہے! ہاں ایک بات جو دونوں ترجُموں میں ایک سی ہے اؤر وو ہے “اُوںٹ
“!

اَب دیکھیں کِ جاکِر بھائی آگے کیا کہتے ہیں!

جاکِر بھائی:

اِس سںسکرت کے لپھز ناراشںس کا متلب ہے “تاریپھ پایا ہُآ”، جو کِ اَربی کے لپھز “مُہمّد” کا ترجُما ہی ہے۔

اَگنِویر:

1
۔ اَربی بِسمِلّاہ یانی “بِسمِلّا ہِرّہمانِرّہیم” کو ہِںدی میں بدلنے پر “دیانںد کی جے” ایسا متلب نِکلتا ہے! اِسکا متلب یہ ہُآ کِ کُران دیانںد کی تاریف سے ہی شُرُو ہوتی ہے! تو پھِر ہمارے مُسلمان بھائیّوں کو کوئی تکلیپھ نہیں ہونی چاہِئے اَگر کل ہِندُو یہ کہنے لگیں کِ کُران میں دیانںد کے آنے کی بھوِشیوانی ہے!

2۔ اؤر ناراشںس سے مُہمّد تک کا سفر ایسا ہی ہے جیسا سفر جہر سے اِسلام تک تھا! جہر = مؤت = پُورا آرام = اَمن چین = اِسلام

اِسلِئے، جہر = اِسلام

جاکِر بھائی:

سںسکرت کے لپھز “کؤرم” کا متلب ہے “اَمن کو پھیلانے اؤر بڈھانے والا”۔ پیگمبر مُہمّد “اَمن کے راجکُمار” تھے اؤر اُنہوںنے اِںسانِیت اؤر بھائیچارے کا ہی پیگام دِیا۔ “کؤرم” کا متلب اُجڑا ہُآ بھی ہوتا ہے۔ مُہمّد ساہب بھی مکّا سے اُجاڑے گئے اؤر مدینے میں جانا پڑا۔

اَگنِویر:

1
۔ “کؤرم” کا متلب ہے “جو دھرتی پر اَمن سے راج کرتا ہے”۔ اَب دیکھیں، تاریکھ (اِتِہاس) گواہ ہے کِ پیگمبر مُہمّد کی جِںدگی کھُد کِتنی اَمن چین میں گُجری تھی! کِتنی اَمن کی لڑائیّاں اُنہوںنے لڑیں، کیسے مکّا پھتہ کِیا اؤر کِس اَمن کا پیگام کُران میں کاپھِروں کے لِئے دِیا ہے، یہ سب بتانے کی جرُورت نہیں!

2
۔ ویسے جِس ترہ مُہمّد ساہب مکّا سے اُجاڑے گئے، اُسی ترہ کرشن جی بھی متھُرا سے اُجاڑے گئے اؤر اُنہیں دوارِکا میں جانا پڑا۔ کرشن کے ماینے بھی “تاریپھ کِیے گئے” اؤر “شاںتِ دُوت” متلب اَمن کا پیگام دینے والے ہیں، پھِر تو یے منتر اُن پر بھی لاگُو ہوتا ہے!

3۔ اؤر کؤرم سے مُہمّد تک کا سفر بھی ایسا ہی ہے جیسا سفر جہر سے اِسلام تک تھا! جہر = مؤت = پُورا آرام = اَمن چین = اِسلام

اِسلِئے، جہر = اِسلام

جاکِر بھائی:

وہ 60090 دُشمنوں سے بچایا جاّیگا، جو کِ مکّا کی اُس وقت کی آبادی تھی۔

اَگنِویر:

ہمارا سوال ہے کِ کؤن سے آبادی ناپنے کی تکنیک سے جاکِر بھائی نے اَب سے چؤدہ سؤ سال پہلے کی مکّا کی آبادی کھوج نِکالی؟ کہیں یہ کوئی اِلہام تو نہیں؟

جاکِر بھائی:

وہ پیگمبر اُوںٹ کی سواری کریگا۔ اِسّے یہ جاہِر ہوتا ہے کِ یہ کوئی ہِندُستانی
ऋشِ نہیں ہو سکتا، کیوںکِ کِسی براہمن کو اُوںٹ کی سواری کرنا منُ کے اُسُولوں کے کھِلاپھ ہے۔ [منُسمرتِ 11/202]

اَگنِویر:

1۔ پںڈِت کھیم کرن کے ترجُمے کے ہِساب سے اُس رتھ میں بیس اُوںٹ اؤر اُوںٹنی ہوںگے۔ اَگر یہ بات ہے تو کؤن سی سیرت اؤر ہدیسوں میں لِکھا ہے کِ مُہمّد ساہب ایسے کِسی رتھ پر سوار بھی ہُئے تھے؟ اؤر کیا پُوری اِںسانی تاریکھ میں کیول پیگمبر مُہمّد ہی واہِد (اِکلؤتے) اِںسان تھے جو اُوںٹ کی سواری کرتے تھے؟ اَگر نہیں تو آپکو اِس منتر میں سِرپھ اُنکا نام ہی کیوں سُوجھا؟

2۔ منتر ایک راجا کے بارے میں ہے نا کِ براہمن کے بارے میں۔ تو اِسلِئے منُ کے اُسُول اِس منتر پر گھٹتے ہی نہیں کیوںکِ منُ کا شلوک براہمن کے لِئے ہی ہے!

جاکِر بھائی:

منتر میں
ऋشِ کا نام مامہ ہے۔ ہِندُستان میں کِسی ऋشِ یا پیگمبر کا نام یہ نہیں تھا…… کُچھ سںسکرت کی کِتابیں اِس پیگمبر کا نام موہمّد بتاتی ہیں…۔۔اَسل میں اِسّے مِلتا جُلتا لپھز اؤر متلب تو پیگمبر مُہمّد پر ہی گھٹتا ہے۔

اَگنِویر:

1
۔ منتر میں لپھز “مامہے” ہے ن کِ “مامہ”! جاکِر بھائی نے کِس کِتاب میں اِسکا متلب مُہمّد یا موہمّد دیکھا یہ بات بڑے پتے کی ہے کیوںکِ-

منتر میں “مامہے” لپھز ایک کرِیا
(verb) ہے نا کِ کوئی سںجنا/آدمی (noun)! اِس پُورے منتر میں کیول یہی ایک کرِیا (verb) ہے اؤر کوئی نہیں! اَگر اِس لپھز “مامہے” سے کِسی آدمی کا متلب لیںگے تو پُورے منتر کا کوئی ترجُما ہی نہیں بن سکتا کیوںکِ پھِر اِس منتر میں کوئی کرِیا (verb) ہی نہیں بچیگی!

2
۔ اؤر بھی، یہ کرِیا (verb) دو سے جیادا لوگوں کے لِئے آئی ہے (بہُوچن)، کِسی ایک آدمی کے لِئے نہیں! تو اِس ترہ اِس لپھز سے ایک آدمی کو لینا نامُمکِن ہے!

جاکِر بھائی:

منتر میں جو سؤ اَشرپھِیوں کی بات ہے، وو مُہمّد پیگمبر کے ساتھِیوں اؤر شُرُو کے اِیمان لانے والوں کے لِئے ہے جِس وقت مکّا میں ہالات ٹھیک نہیں تھے…۔

اَگنِویر:

1
۔ یہ ایک اؤر مؤجّا (چمتکار) ہی سمجھنا چاہِئے کِ اَچانک سونے کی اَشرپھِیاں مومِنوں میں تبدیل ہو گیّں! لیکِن جاکِر بھائی اِس مؤجّے کا جِکر کُران میں تو نہیں ہے، تو کیا اَب آپ پر بھی اِلہام …۔۔؟ اَلّاہ اِمان سلامت رکھے!

2
۔ کِسی اِسلامی کِتاب میں سہابا اؤر شُرُو کے اِیمان والوں کی گِنتی سؤ تک نہیں گیی! کُچھ سیرت چالیس تک ہی بتاتی ہیں۔ دیکھیں http://www۔religionfacts۔com/islam/history/prophet۔htm

جاکِر بھائی:

دس ہاروں کا متلب یہاں 10 سہاباّوں سے ہے۔ یے وے ہیں جِنکو کھُد پیگمبر نے یہ کھُش کھبری سُنائی کِ وے سب جنّت میں داکھِل ہوںگے-اَبُو بکر، اُمر، اُتھمان، اَلی، تلہا، جُبیر، اَبدُر رہمان اِبن آاُپھ، ساد بِن اَبی وکاس، ساد بِن جید، اؤر اُبیدا

اَگنِویر:

1۔ وہی مؤجّا! گلے کے ہار = سہابا

2
۔ ویسے یے 10 گلے کے ہار مُوسا کے دس اُسُول (Ten Commandments) کیوں ن مانے جاّیں؟

3۔ یہاں رُک کر ہم اَپنی مُسلمان ماتاّوں اؤر بہنوں سے ایک بات کہیںگے۔ اُوپر دِئے گئے دس لوگوں میں سے ایک بھی اؤرت نہیں ہے، جِسکی جنّت جانے کی کھبر مُہمّد نے اَپن مُہں سے سُنائی تھی۔ آپ سوچ لیں کی آپکی اِجّت اِسلام میں کِتنی ہے۔ ہمیں اِس پر اؤر کُچھ نہیں کہنا۔

جاکِر بھائی:

سںسکرت کے اَلپھاز گو کا متلب ہے لڑائی کے لِئے جانا۔ گاے بھی “گو” کہی جاتی ہے اؤر وہ لڑائی اؤر اَمن دونوں کی نِشانی ہے۔ منتر میں دس ہزار گایوں سے مُراد اَسل میں مُہمّد کے اُن دس ہزار ساتھِیوں سے ہے جو فتیہ مکّا میں اُنکے ساتھ تھے جو کِ دُنِیا کی پہلی ایسی فتیہ (جیت) تھی جِسمیں کوئی کھُون نہیں بہا۔ جہاں یے دس ہزار ساتھی گاے کی ترہ ہی اَچّھی آدت والے اؤر پیارے تھے وہیں دُوسری ترپھ یے تاکتور اؤر بھیانک تھے جیسا کِ کُران کے سُورا پھتہ میں آیا ہے کِ “جو مُہمّد کے ساتھ ہیں وے کاپھِروں کے کھِلاپھ تاکتور ہیں، لیکِن آپس میں ایک دُوسرے کا کھیال کرنے والے ہیں” [کُران 48:29
]

اَگنِویر:

1
۔ سںسکرت کے کؤن سے اُسُول سے گو کا متلب “لڑائی پر جانا” نِکلتا ہے؟ کہیں جاکِر بھائی اَںگریجی کے “go” سے تو جانے کا متلب نہیں نِکال رہے؟ ویسے سںسکرت میں گو لپھز کے کئی ماینے ہیں جیسے گاے، دھرتی، گھُومنے والی چیج وگیرہ۔ لیکِن اِس منتر میں گو کا متلب گاے ہی ہے کیوںکِ یہاں بات لینے دینے کی ہے۔

گاے کا دان کرنا ویدِک دھرم کا بہُت پُرانا رِواج ہے جو آج بھی کاپھی چلتا ہے۔ جِتنے بھی ویدِک دھرم کے بڑے لوگ ہُئے، وے سب گاے اؤر باکی جانوروں کی ہِپھاجت کرنے کے لِئے جانے جاتے تھے۔ یہاں تک کِ گاے ویدِک سبھیتا کے ریڑھ کی ہڈّی سمجھی جاتی ہے۔ اِیشور بہُت جلد وہ دِن دِکھائے کِ کوئی دہشتگرد کاتِل چاہے اَلّاہ کے نام پے اؤر چاہے دیوی کے نام پے پھِر کبھی کِسی ماسُوم کے گلے ن چیر سکے۔

2۔ کھیر، بات یہ ہے کِ وید میں ہر جگہ سب جانوروں کی اؤر خاس تؤر سے گاے کی ہِپھازت کرنا راجا اؤر لوگوں پر جرُوری بتایا گیا ہے۔ جاکِر بھائی کے ہِساب سے بھی گاے مُہمّد کے ساتھِیوں کی ترہ پیار کرنے لایک اؤر ہِپھازت کرنے لایک ہے۔ لیکِن مُہمّد اؤر اُنپر اِیمان لانے والے مُسلمان تو گاے کے سبسے بڑے مارنے والے لوگ ہیں۔ اِید پر گاے کاٹنا بہُت سواب (پُنے) دینے والا کام سمجھا جاتا ہے۔ تو بات یہ ہے کِ اَگر دس ہجار گایوں سے مُہمّد کے ساتھِیوں سے مُراد ہے تو مُہمّد یا کوئی اؤر مُسلمان گاے کو نہیں مارتے۔ پر ایسا نہیں ہے۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کِ جاکِر بھائی کی دس ہزار گاے والی بات بھی من گھڑںت، سںسکرت کے اِلم سے بیکھبر، اؤر منتک پر کھارِج ہو جانے والی ہے۔

3
۔ جاکِر بھائی کے ہِساب سے اِس منتر میں آنے والے لپھز “گو” کا متلب لڑائی کی نِشانی، اَمن کی نِشانی، اؤر لڑائی کے لِئے جانا ہے! یانی ایک ہی وقت میں یہ لپھز noun بھی ہے اؤر verb بھی! جاکِر بھائی اِس نئے اِلم کے کھوجکار ٹھہرتے ہیں اؤر اِس لِئے اُنکو بہُت مُبارکباد!

جاکِر بھائی:

اِس منتر میں لپھز “ریبھ” آیا ہے، جِسکا متلب ہے تاریف کرنے والا اؤر اِسکا اَربی میں ترجُما کرنے پر “اَہمد” بنتا ہے جو مُہمّد (سلل
o) کا ہی دُوسرا نام ہے۔

اَگنِویر:

1۔ اؤر ریبھ سے مُہمّد تک کا بھی سفر ایسا ہی ہے جیسا سفر جہر سے اِسلام تک تھا! جہر = مؤت = پُورا آرام = اَمن چین = اِسلام

اِسلِئے، جہر = اِسلام

2۔ اِسی ترہ- بِسمِلّا ہِرّہمانِرّہیم = دیانںد کی جے

اؤر کیا کہیں اِس اُل جلُول ترک پر!

جاکِر بھائی:

اَتھروّید [20/21/6]- “او سچّے لوگوں کے سوامی! ……جب تُم دس ہجار دُشمنوں سے بِنا لڑائی کِیے جیتے…۔

یہ منتر اِسلام کی تاریکھ کی جانی مانی لڑائی، اَہجاب کی لڑائی کا جِکر کرتا ہے جو مُہمّد کے جیتیجی ہی لڑی گیی تھی۔ اِسمیں پیگمبر بِنا کِسی لڑائی کے ہی جیت گئے تھے جیسا کی کُران [33:22] میں لِکھا ہے۔

اِس منتر میں لپھز “کرو” کا متلب ہے اِبادت کرنے والا، اؤر جب اِسکا ترجُما اَربی میں کرتے ہیں تو یہ اَہمد بنتا ہے جو مُہمّد کا دُوسرا نام ہے۔

منتر میں آیے دس ہجار دُشمن اَسل میں مُہمّد کے دُشمن تھے اؤر مُسلمان کیول تادات میں تین ہجار تھے۔ اؤر منتر کے آکھِری لپھز “اَپرتِ نِ بھاشیا” کے ماینے ہیں کِ

دُشمنوں کو بِنا لڑائی کے ہی ہرا دِیا گیا۔

اَگنِویر:

اَسلی ترجُما (پںڈِت کھیم کرن): “او سچّے لوگوں کو بچانے والے! تُم اُنسے کھُش ہوتے ہو جو دُشمنوں کو لڑائی میں اَپنی جاںباجی اؤر ہؤںسلے سے سبکو کھُش کر دیتے ہیں۔ اَپنے بیہترین کاموں سے دس ہزار دُشمن بِنا کِسی تکلیپھ کے ہرا دِئے گئے ہیں۔

1۔ اَگر یے منتر اَہزاب کی لڑائی کی بات کرتا ہے تو اِسمیں پیگمبر کے لشکر (سینا) کی تاداد کیوں نہیں دی گیّ؟

2
۔ منتر میں آیے لپھز “دش سہسر” ویدوں میں کئی ٹھِکانوں پر آیے ہیں، اؤر اِسکے ماینے بہُت بڑی تاداد کے ہیں۔ کئی بار نا گِنے جا سکنے والے بھی!

3
۔ ویسے اِس منتر میں “کرو” جیسا کوئی لپھز ہی نہیں! نجدیک سے نجدیک ایک لپھز “کاروے” تو ہے پر اِسکا متلب ہے “کام کرنے والے کے لِئے” ن کِ “اِبادت کرنے والا” جیسا جاکِر بھائی نے لِکھا ہے! اَب کیوںکِ مُہمّد کا کوئی نام “کام کرنے والے کے لِئے” نہیں ہے تو اِس منتر میں اُنکے ہونے کی سب دلیل خ اک میں مِل جاتی ہیں۔

4۔ اَسل میں یہ منتر خاس تؤر سے رُوہانی (آدھیاتمِک) لڑائی، جو ہر وقت آدمی کے جیہن میں اَچّھائی اؤر بُرائی کے بیچ چلتی رہتی ہے، کے بارے میں بتاتا ہے اؤر اِسے جیتنے کا ہؤںسلا بھی دیتا ہے۔ اِسی وجہ سے بِنا کھُون کھرابے کے لڑائی جیتنے کی بات ہے۔ دُوسری ترپھ یہ سُوکت لڑائی میں اَچّھے داںو پیچ لگاکر بِنا کھُون بہائے اَپنے دُشمن کو جیتنے کا راستا بھی دِکھاتا ہے۔ پر اِسمیں، جیسا کِ ہم دِکھا چُکے ہیں، کوئی تاریکھی واکیا (ایتِہاسِک گھٹنا) شامِل نہیں ہے۔

جاکِر بھائی:

مکّا کے مُشرِکوں کی ہار کی داستاں اَتھروّید [20/21/9] میں اِس ترہ ہے- “او اِںدر! تُمنے بیس راجاّوں اؤر 60099 آدمِیوں کو اَپنے رتھ کے بھیانک پہِیوں سے ہرا دِیا ہے جو تاریف کِیے ہُئے اؤر اَناتھ (مُہمّد) سے لڑنے آیے تھے

مکّا کی آبادی مُہمّد کی واپسی کے وقت کریب ساتھ ہزار تھی۔ ساتھ ہی مکّا میں بہُت سے کبیلے اؤر اُنکے سردار تھے۔ وو کُل مِلاکر کریب بیس سردار تھے جو پُوری مکّا پر ہُکُومت کرتے تھے۔ “اَبندھُ” متلب بیسہارا جو کِ تاریف کِیے ہُاوں میں سے ہے۔ مُہمّد نے اَلّاہ کی مدد سے اَپنے دُشمنوں پر پھتہ پایّ۔

اَگنِویر:

1
۔ جاکِر بھائی کیا کِسی سیرت یا ہدیس سے یے 60000 آبادی والی بات بتانے کی جہمت گوارا کریںگے؟ یا پھِر جیسا ہمنے پہلے کہا کِ کیا جاکِر بھائی پر بھی اِلہام ……۔! اَلّاہ اِیمان سلامت رکھے!

2۔ اِس منتر کا لپھز در لپھز (شبدشہ) ترجُما یہ ہے کِ 60000 سے جیادا دُشمن اؤر اُنکے 20 راجا بھیںکر رتھوں کے پہِیوں تلے رؤںد ڈالے گئے۔ متلب دُشمنوں کے لشکر میں 60000 سِپاہی تھے۔ اِسکا متلب یہ کِ مکّا کی پُوری آبادی (جوان، بُوڑھے، بچّے، اؤرت) سب ہی اُس لڈائی میں پہِیوں تلے کُچل ڈالے گئے! تو اَگر اِس منتر میں مُہمّد ہے بھی تو وہ ایک بھیانک کاتِل، جِسنے بچّوں، اؤرتوں، بُوڈھوں کِسی کو نہیں چھوڑا، سابِت ہوتا ہے۔ کیا اَب بھی کوئی مُہمّد اؤر اِسلام کے اَمن کے پیگام پر سوالِیا نِشان لگا سکتا ہے؟

3۔ اَسل میں، مکّا کی لڑائی ایک چھوٹی سی کبیلوں کی جںگ تھی جِسمیں ہزار کے آس پاس مکّا کے اؤر تین سؤ کے آس پاس مُہمّد کے مُجاہِدین شامِل تھے۔ تو اِس لڑائی میں 60000 کی بات سوچنا ناماکُول بات ہے۔

2
۔ ऋگوید میں مُہمّد (سللo)

جاکِر بھائی:

اِسی ترہ کی بھوِشیوانی
ऋگوید (1/53/9) میں مِلتی ہے۔

سںسکرت لپھز جو یہاں آیا ہے وو ہے “سُشرما” جِسکا متلب ہے “تاریف کِیے جانے کے کابِل” جِسکا اَربی ترجُما مُہمّد ہی ہے۔

اَگنِویر:

اِسکا متلب بھی پِچھلے منتر جیسا ہی ہے یانی اُسّے بھی مُہمّد پُوری کابا کی آبادی کا کاتِل ٹھہرتا ہے۔

2
۔ منتر میں کہیں بھی “سُشرما” نہیں آیا!

3
۔ ایک لپھز “سُشروسا” جرُور ہے جِسکا متلب ہے “سُنّے والا” اؤر “دوست”، جِسکا اِس منتر میں مُہمّد سے کوئی تالُّک ہی نہیں!

3
۔ ساموید میں مُہمّد (سللo)

جاکِر بھائی:

پیگمبر مُہمّد ساموید (2/6/8) میں بھی پائے جاتے ہیں۔ “اَہمد نے اَپنے سوامی سے اِلہامی اِلم ہاسِل کِیا۔ میںنے اُسّے ویسا ہی نُور (پرکاش) ہاسِل کِیا جیسا کِ سُورج سے”۔ اِسّے پتا چلتا ہے کِ

اِس پیگمبر کا نام اَہمد ہے۔ کئی ترجُماکاروں (بھاشیکاروں) نے اِسے گلت سمجھا اؤر اِسے اَہم اَت ہی لِکھا اؤر اِسکا متلب نِکلا “میںنے ہی اَپنے پِتا سے اَسلی اِلم ہاسِل کِیا ہے”۔

پیگمبر کو اِلہامی اِلم ہاسِل ہُآ، جو کِ شرِیت ہے۔


شِ کو اِلم ہُآ مُہمّد کی شرِیت سے۔ کُران [34:28] میں لِکھا ہے- “ہمنے تُجھے بھیجا ہے سبکے لِئے ن کِ کِسی ایک کے لِئے، اُنکو سمجھانے کے لِئے اؤر چیتاونی دینے کے لِئے، پر اَدھِکتر لوگ سمجھتے نہیں”

اَگنِویر:

کوئی کُچھ سمجھا کیا؟ پہلے ہم بھی نہیں سمجھے تھے! پر سمجھ کر اَب اِس پر لِکھ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ ہماری راے دیکھ کر جاکِر بھائی کی باتوں کو سمجھ سکیں!

1
۔ جاکِر بھائی کو پہلے یہ سیکھنا چاہِئے کِ ویدوں کے ہوالے (reference) کیسے دِئے جاتے ہیں۔ ساموید کے ہوالے اِس ترہ نہیں دِئے جاتے۔ اِسلِئے جب اُنکو یہ منتر سہی ہوالوں کے ساتھ کہیں مِلے تو ہماری نجر کر دیں، ہم اِسکا بھی ہل کر دیںگے! ہمنے بہُت کھوجا پر یہ مںتر ہمے کہیں نہیں مِلا۔

2
۔ ایک بڑا سوال یہاں یہ ہے کِ جب وید اَہمد، سہابا، مُہمّد کے ساتھِیوں کی تاداد، مکّا کی آبادی، اُسکے سرداروں کی گِنتی وگیرہ بِلکُل ٹھیک سے بتاتے ہیں تو پھِر سیدھا “مُہمّد” نام کیوں نہیں لیتے؟ اَلّاہ مِیاں نے اِتنی اَپھرا تپھری کیوں مچا کے رکھی ہے؟ کیوں نہیں سیدھے سیدھے اِکٹّھے ایک ہی جگہ پر کُچھ منتروں میں مُہمّد کا نام اؤر اُسکی پُوری سیرت (جیون چرِتر) ڈال دیتا کی کاپھِروں کو یکین ہو جاتا کِ مُہمّد ہی اَسلی پیگمبر ہے اؤر جنّت کی چابی لِئے ہُئے ہے؟

کُچھ آکھِری باتیں!

1۔ کیا اَلّاہ کو اَپنے آکھِری رسُول کا نام نہیں پتا تھا کِ اِشاروں میں لوگوں کو سمجھا رہا تھا کِ اُوںٹ کی سواری کریگا اؤر 60000 لوگوں کو کُچل دیگا، وگیرہ؟

2۔ اَگر ہجاروں سال پہلے ہی اَلّاہ نے وید میں یہ لِکھ دِیا تھا کِ کُچھ لوگ کُچلے جایّںگے اؤر کُچھ جنّت میں بھیجے جایّںگے تو پھِر اُسنے سبکے لِئے جنّت ہی جنّت کیوں نہی لِکھی؟

3
۔ جب وید کی باتیں ایکدم مُہمّد (سللo) کی جِندگی سے میل کھا رہی ہیں (جاکِر بھائی کِ نزروں میں!) تو پھِر وید کو اِلہامی کِتاب مانّے میں کیا تکلیپھ ہے؟

4۔ اَگر وید اِلہامی ہے تو جاکِر بھائی کِتابوں کے نام وید سے شُرُو ن کرکے تؤریت سے کیوں شُرُو کرتے ہیں؟ اؤر کُران میں وید کا نام کیوں نہیں؟

5۔ اَگر وید اِلہامی نہیں تو جھُوٹھی کِتاب سے مُہمّد اؤر اَلّاہ کی مجاک اُڑانے کی ہِماکت جاکِر بھائی نے کیسے کی اؤر سب اُلیما اِس پر کھاموش کیوں ہیں؟

6۔ اَب جب یہ بات کھُل گیی ہے کِ وید میں مُہمّد مانّے کی کیمت مُہمّد کو ایک پُوری کؤم کا کاتِل مانّے کی ہے تو کیا اَب بھی یہ سؤدا جاکِر بھائی کو قُبُول ہے؟

7۔ ویدوں میں مُہمّد کا پھلسپھا اَسل میں کادِیانی مُلّاّوں کا ہے۔ ویسے بھی جاکِر بھائی بِنا بتایے کادِیانِیوں کی کِتابوں سے سامان لیکر اَپنی کِتابیں بناتے ہیں تو کیا کادِیانِیوں پر اُنکا گھر جیسا ہک سمجھا جایے؟ اَگر ایسا ہے تو پھِر جاکِر بھائی نے آج تک یے راج ہمسے کیوں چھِپائے رکھا کِ وو ایک کادِیانی ہیں؟

آکھِر میں ہماری جاکِر بھائی اؤر اُنکے سب ساتھِیوں اؤر چاہنے والوں سے یہی گُجارِش ہے کِ سب جھُوٹھی بھوِشیوانِیوں اؤر پیگمبروں کو چھوڑ کر اَپنے اَسلی گھر وید کے دھرم میں آ جاّیں۔ جہاں جنّت/سُکھ کی چابی کِسی مُہمّد کے پاس نہیں پر ایک اِیشور کے پاس ہے۔ جہاں تاریپھ کرنے کے کابِل کیول وہی ایک اِیشور ہے ن کِ کوئی پیگمبر۔

وہ ایک ہے، جو کِ پُوری کاینات کو سںبھالے رکھتا ہے، جو سب کے اَندر گھُسا ہُآ، سبکے باہر پھیلا ہُآ، ہازِر ناجِر، بِنا جِسم، ساری کُوّتوں کا ایک اَکیلا مالِک، کامِل، ن کبھی پیدا ہُآ، ن کبھی مریگا، سدا رہنے والا اؤر سبکا سہارا اِیشور ہی ہے۔ اُسکے اَلاوا اؤر کِسی کی اِبادت ہم ن کریں۔ [یجُروید]

بِچھُڑے بھائیّوں (ہِندُستانی مُسلمانوں) سے बिछुड़े भाइयों (हिन्दुस्तानी मुसलमानों) से

0

تُو ہے سمجھتا اَکس ئے کھُدا ہے مُسلمان

دھرتی پے ایک بںدا ئے کھُدا ہے مُسلمان

جیتے جی تو ہے لاڈلا کھُدا کا مُسلمان

مر کر کے بھی جایّگا جنّت کو مُسلمان II

کہنا ن مُجھے کُچھ ہے کبیلا ئے اَرب سے

نا واستا اَبھی کِسی اومان تُرک سے

ہے جِسّے میرا اَب تلک بھی کھُون کا رِشتا

کہنا ہے اُسی ہِںد کے سب چاںد تاروں سے
II

رہتے تھے ہم یاں ساتھ سب ساجھا تھا ہمارا

ن میرا ن تیرا تھا یے سب کُچھ تھا ہمارا

ایک ماں کی ہی گودی میں سدا کھیلتے تھے ہم

اِسّے بھی بڑھکے ایک ہی تھا دھرم ہمارا
II

تھے اِلم میں بڈھے ہُئے تاکت میں بیبدل

شوہرت میں تھا کمال تھی تکنیک بیبدل

گںگا سی ندی ایسی بیبس کھڑا زمزم

آسمانوں پے چڑھتا وو ہِمالا تھا بیبدل
II

پر پھِر یہاں پے راجا آپس میں لڑ پڑے

گیروں پے چڑھنے تھے کدم اَپنوں پے چل پڑے

یے دیکھ لُٹیرے اُٹھے مگرِب سے چل پڑے

کرنے کو پھتہ ہِںد وو مکّا سے چل پڑے
II

آکر کے ہِںد میں کہا پھیلا دو یاں اِسلام

ہو کُپھر ختم کر دو یہاں دارُول اِسلام

مانے نہیں جو بات تو شمشیر چلاّو

مانے جو بات کر لو اُسے لشکر ئے اِسلام
II

پھِر کیا تھا گھسیٹا ماّوں کو سڑک پے

رؤںدا پھِر اَسمتوں کو بہنوں کی سڑک پے

بیچا اِنہیں جاکر اَرب گُلام کی ترہ

ہیوانِیت کا ناچ تھا کھُوںکھار سڑک پے
II

آدمی کو سرے آم تھا کاٹا جاتا

کاٹنے سے پہلے اِتنا تو پُوچھا جاتا

ہوگے کِ مُسلمان یا پھِر مُردا

بس ہاں یا نا پے پھیسلا یے ہو جاتا
II

اِس ترہ ہِںد میں ہُآ ہِندُو سے مُسلمان

جاں کھُد کی بچانے کو بنا ہِندُو مُسلمان

بھُول کر بھی ماں باپ بہن بیٹی کو

پڑھ لاش پے کلیما بنا ہِندُو مُسلمان
II

تُم رہنا ن دھوکھے میں تُم نسل ہو اَربی

سوچو تو جرا کؤن ہو ہِںدی یا تو اَربی

پُوچھو تو کھُد سے ہو کیا نہیں رام کے سپُوت؟

ہو کیوں سمجھتے اَپنی تاریکھ ہے اَربی؟
II

او میرے پیارے بھائیاوں اَب تو جرا سوچو

کیوں مانتے اِسے ہو، کاتِل ہے یے سوچو

جِسنے کِیا جُدا تُمہے ماں باپ بھائی سے

ہے کِس کدر یے دین رہمان کا سوچو
II

آ پھِر سے گلے مِل کے پُرکھوں کو دِکھا دیں

دو بھائی مِلیں پھِر یے ماتا کو دِکھا دیں

ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے پھِر سے وو ہی مستی

دُنِیا کو بھی تھوڑا سا رُلا دیں اؤ ہںسا دیں
II

– آرے مُساپھِر

वेदों में पैगम्बर

अक्सर इस्लाम के कादियानी फिरके के बड़े बड़े मौलाना और आज की मुस्लिम दुनिया के जाने पहचाने डॉ जाकिर नाइक अपनी तकरीरों (भाषण) और किताबों में अक्सर ये कहते मिलते हैं कि हिन्दू किताबों जैसे वेद और पुराणों में मुहम्मद पैगम्बर के आने की भविष्यवाणी है. पाठक जाकिर नाइक की वेबसाइट पर यहाँ http://www.irf.net/index.php?option=com_content&view=article&id=201&Itemid=131
उनके दावे को पढ़ सकते हैं. हम इस लेख में यह जानने की कोशिश करेंगे कि वेद में पैगम्बर मुहम्मद के होने का यह दावा कितना पुख्ता है और कितना धोखे से मुसलमान बनाने की नापाक साजिश.

पुराण और दूसरी किताबों के दावे आगे के लेख में दिए जायेंगे. इससे पहले कि हम जाकिर नाइक के हवालों (प्रमाण) और मन्तक (तर्क) पर अपनी राय दें, हम कुछ अल्फाज़ (शब्द) वेद के बारे में कहेंगे.

आज तक की वेद की तारीख (इतिहास) में किसी वेद के मानने वाले ने वेद में मुहम्मद तो क्या किसी पैगम्बर का नाम नहीं पाया. जितने ऋषि (वे पाकदिल इंसान जिन्होंने वेद के रूहानी मतलब अपने पाक दिल में ईश्वर/अल्लाह की मदद से समझे और दुनिया में फैलाए) अब तक हुए, सब ने वेद में किसी किस्म की तारीख (इतिहास) होने से साफ़ इनकार किया है. इससे किसी आदमी के चर्चे वेद में मिलना नामुमकिन है. इसके उलट वेद तो हर जगह, हर वक़्त, और हर सूरत ए हाल (देश काल और परिस्थिति) में एक सा सबके लिए है. वेद में जरूर कुछ नाम मिलते हैं, जैसे कृष्ण. लेकिन इसका ये मतलब नहीं कि वेद लाल कृष्ण आडवाणी की भविष्यवाणी करते हैं! इसका तो यही मतलब हुआ कि लोगों ने वेद में से कुछ अल्फाज़ (शब्द) अपने नाम के लिए चुन लिए. जैसे कोई मुहम्मद नाम का आदमी आज कहे कि कुरान तो उसके बारे में है और उस पर ही उतरती है तो इस पर उसके दिमाग पर अफ़सोस ही जताया जा सकता है!

खैर, इस लेख में हम यह बहस भी नहीं करेंगे कि वेद में इतिहास और भविष्यवाणी हैं कि नहीं! हम यहाँ यह साबित करेंगे कि अगर वेद में मुहम्मद पैगम्बर की कहानी सच्ची है तो वे एक पैगम्बर न होकर हज़ारों जिंदगियों को ख़ाक करने वाले एक दहशतगर्द थे, और साथ ही यह भी कि उनको गाय का मारा जाना गवारा नहीं था!

तो हमारा कहना जाकिर नाइक से ये है कि या तो वेद में मुहम्मद को मानना छोड़ दो और अगर नहीं तो मुहम्मद पैगम्बर को एक कातिल दहशतगर्द क़ुबूल करो जिसने मक्का के सारे इंसानों का कतल कर डाला, जैसा कि हम आगे दिखाएँगे! इतना ही नहीं, गाय का गोश्त सब मुसलमानों पर हराम ठहरता है क्योंकि पैगम्बर गाय को बचाने वाले थे और उसका मरना उनको गवारा नहीं था!

यह बात ऐसी ही है जैसे मुहम्मद को भविष्य पुराण में साबित करके जाकिर भाई ने मुहम्मद को एक भूत (ghost) और राक्षस (demon) जो कि शैतान के बराबर हैं, क़ुबूल किया है जो कि त्रिपुरासुर नाम के राक्षस का अगला जन्म था! इससे जाकिर भाई न सिर्फ मुहम्मद पैगम्बर को एक शैतान और राक्षस बताते हैं बल्कि तनासुख (पुनर्जन्म) में भी यकीन करते हैं!

अब हम नीचे जाकिर भाई की वेबसाइट पर दिए मन्त्रों के तर्जुमे (अनुवाद) देंगे और फिर उस पर उनका नुक्ता ए नजर (दृष्टिकोण) भी. और उसके नीचे हम उनकी सोच पर अपनी राय देंगे.

१. अथर्ववेद में मुहम्मद (सल्लo)

जाकिर भाई:
अथर्ववेद के २० वीं किताब के १२७ वें सूक्त के कुछ मन्त्र कुंताप सूक्त कहलाते हैं. कुंताप का मतलब होता है सब दुखों को दूर करने वाला. इसलिए जब इसको अरबी में तर्जुमा (अनुवाद) करते हैं तो इसका मतलब “इस्लाम” निकलता है.
अग्निवीर:
१. इस मन्तक (तर्क) के हिसाब से तो दुनिया की हर रूहानी (आध्यात्मिक) और हौंसला अफजाई करने वाली किताब का मतलब इस्लाम होगा!
२. इससे यह भी पता चलता है कि मुहम्मद पैगम्बर के चलाये हुए दीन और इसका अमन का पैगाम तो पहले ही वेदों की शक्ल में मौजूद था!

जाकिर भाई की यह बात काबिल ए तारीफ़ है कि उन्होंने इस्लाम की पैदाईश को वेदों से निकाल कर यह साबित कर दिया कि वेद ही असल में सब अच्छाइयों की जड़ हैं और सबको वेदों की तरफ लौटना चाहिए!

जाकिर भाई:
कुंताप का मतलब पेट में छुपे हुए पुर्जे (अंग) भी होता है. लगता है कि ये मंत्र कुंताप इसलिए कहलाते हैं कि इनके असली मतलब छिपे हुए थे और बाद में खुलने थे. कुंताप का एक और छिपा हुआ मतलब इस धरती की नाफ (नाभि, navel) यानी एकदम बीच की जगह से है. मक्का इस धरती की नाफ कही जाती है और ये सब जगहों की माँ है. बहुत सी आसमानी किताबों में मक्का का जिक्र उस घर की तरह हुआ है जिसमें अल्लाह ने सबसे पहले दुनिया को रूहानी (आध्यात्मिक) ताकत बख्शी. कुरान [३:९६] में आया है-

“मक्का पहला इबादत (पूजा) का घर है जो इंसानों के लिए मुक़र्रर किया गया जो सब वजूद (अस्तित्त्व) वालों के लिए खुशियों और हिदायतों से भरपूर है”
इसलिए कुंताप का मतलब मक्का है.

अग्निवीर:
१. जाकिर भाई से यह गुजारिश है कि किसी लुगात (शब्दकोष) में कुंताप का मतलब “पेट के छिपे हुए पुर्जे” दिखा दें!
२. अगर मान भी लिया जाए कि जाकिर भाई एम बी बी एस की खोज ठीक है तो इन “छिपे हुए पुर्जों” का नाफ (नाभि) से क्या ताल्लुक है? पेट में आंत, लीवर वगैरह तो छुपे होते हैं लेकिन केवल नाफ ही छुपी नहीं होती! तो फिर कुंताप =छुपा हुआ का मतलब नाफ=न छुपा हुआ कैसे होगा?
३. वैसे गोल धरती का ‘बीच’ उसके अन्दर होता है न कि उसकी सतह पर! तो जब मक्का भी सतह पर है तो वह गोल धरती की नाभि नहीं हो सकती, लेकिन चपटी (flat) धरती की जरूर हो सकती है! अब फैसला जाकिर भाई पर है कि चपटी धरती पर रहना है कि गोल धरती पर! वैसे बताते चलें कि इस्लाम धरती को गोल मानता ही नहीं. इसी वजह से पूरी कुरान में एक भी आयत ऐसी नहीं जिसमें धरती को गोल माना गया है!

(इस्लाम में मक्का को इतना ऊंचा दर्जा दिए जाने के पीछे कुछ तारीखी वजूहात (ऐतिहासिक कारण) हैं. इस्लाम के वजूद से पहले भी मक्का की पूजा होती थी और वो लोगों में इतनी गहराई से बैठी थी कि मुहम्मद साहब इसका विरोध करके अपना मजहब नहीं फैला सकते थे. यही वजह है कि सातवें आसमान पर बैठे अल्लाह की इबादत करने का दावा करने वाले मुसलमान भाई दिन में पांच बार काबा को सर झुकाते हैं और जिन्दगी में एक बार वहां जाकर उसके चक्कर काटने से जन्नतनशीं होने के सपने देखते हैं! काबा को चूमना, उसके चक्कर काटना वगैरह सब बातें मक्का के मुशरिक पहले से ही करते थे और मुहम्मद साहब को भी इसको जारी रखना पड़ा, भले ही ये बातें सच्चे अल्लाह की इबादत से दूर हैं.)

४. जाकिर भाई का मन्तक (तर्क) कहता है
कुंताप = पेट के छिपे हुए पुर्जे = नाफ (नाभि) = केंद्र = धरती का केंद्र = मक्का
इसलिए,
कुंताप = मक्का

तो अब जाकिर भाई के इस मन्तक से देखते हैं कि क्या होता है
जहर = मौत = पूरा आराम = अमन चैन (शांति या peace ) = इस्लाम (जाकिर साहब खुद ही कहते हैं की इस्लाम का मतलब peace होता है, अपने कार्यक्रम का नाम भी Peace कान्फरेन्स रखा है)
इसलिए, जहर = इस्लाम

हम अपने दानिशमंद (बुद्धिमान) भाईयों और बहनों से पूछते हैं कि जाकिर भाई के मन्तक इस्लाम का रुतबा (स्तर) बढाने वाले हैं या उसका मजाक बनाने वाले?

जाकिर भाई:
कुछ लोगों ने इस कुंताप सूक्त के तर्जुमे (अनुवाद) किये हैं, जैसे एम ब्लूमफील्ड, प्रोफ़ेसर राल्फ ग्रिफिथ, पंडित राजाराम, पंडित खेम करण वगैरह.
अग्निवीर:
१. इन लोगों में से पहले दो तो ईसाई मजहब फैलाने के मकसद से किताबें लिखने वाले ईसाई थे. वेद के मामलों में ऐसे लोगों के मनमाने मतलब कोई मायने नहीं रखते.
२. वैसे इन लोगों ने कभी भी किसी मंत्र में मक्का या मुहम्मद या इनसे जुड़ी किसी बात का जिक्र तक नहीं किया! केवल एक लफ्ज़ “ऊँट” ही था जो इन लोगों के तर्जुमे और जाकिर भाई के तर्जुमे में एक सा है! जाकिर भाई ने सब मन्त्रों में जहाँ कहीं भी “ऊँट” आया है वहां जबरदस्ती मक्का और मुहम्मद को घसीट लिया है. यह अभी आगे साबित हो जाएगा. इस लेख को पढने वाले भाई बहन इन सब मन्त्रों पर ग्रिफिथ के तर्जुमे को http://www.sacred-texts.com/hin/av/av20127.htm यहाँ पर पढ़ सकते हैं और खुद फैसला कर सकते हैं कि जाकिर भाई सच बोल रहे हैं कि झूठ. हम नीचे पंडित खेम करण के किये तर्जुमे (अनुवाद) को दिखा कर आपसे पूछेंगे कि जाकिर भाई सच के उस्ताद हैं कि झूठ और मक्कारी के! आप इस तर्जुमे को http://www.aryasamajjamnagar.org/atharvaveda_v2/atharvaveda.htm यहाँ पढ़ सकते हैं.

जाकिर भाई:
कुंताप सूक्त मतलब अथर्ववेद [२०/१२७/१-१३] की ख़ास बातें हैं-
मन्त्र १. वह नाराशंस या जिसकी तारीफ़ की जाती है, मुहम्मद है. वह कौरम यानी अमन और उजड़े हुओं का राजकुमार, जो ६००९० दुश्मनों के बीच भी हिफाजत से है.
मन्त्र २. वह ऊँट पर सवार रहने वाला ऋषि है जिसका रथ (chariot) आसमानों को छूता है.
मन्त्र ३. वह मामह ऋषि है जिसको १०० सोने की अशर्फियाँ, १० हार, तीन सौ घोड़े और दस हज़ार गाय दी गयी हैं.
मन्त्र ४. ओ इज्जत देने वाले!
अग्निवीर:
असली तर्जुमा (पंडित खेम करण)
मन्त्र १. नाराशंस मतलब लोगों में तारीफ़ पाने वाला ही असली तारीफ़ को पायेगा. ओ कौरम (धरती पर राज करने वाले), हम बहुत तरह के तोहफे उन जांबाज (वीर) लोगों से पाते हैं जो दहशतगर्द कातिलों को ख़त्म करते हैं.

मन्त्र २,३. उसके रथ में तेज चलने वाले बहुत से ऊँट और ऊंटनी हैं. वह सौ अशर्फियों, दस हारों, तीन सौ घोड़ों और दस हजार गायों को मेहनतकशों (उद्यमी मनुष्यों) को देने वाला है.

मन्त्र ४. इस तरह से अच्छी बातें फैलाते रहो जैसे पंछी सदा पेड़ों से चिल्लाते रहते हैं.

अब तक जाकिर भाई और बाकी के तर्जुमाकारों में यह अंतर है कि जाकिर भाई ने कुछ लफ्ज़ अपनी तरफ से डालकर मुहम्मद पैगम्बर के वेदों में होने का रास्ता बनाया है जबकि औरों को जैसे यह खबर भी नहीं कि अरब में कोई तारीफ़ पाने लायक पैगम्बर अभी अभी होकर गुजरा है! हाँ एक बात जो दोनों तर्जुमों में एक सी है और वो है “ऊँट“!
अब देखें कि जाकिर भाई आगे क्या कहते हैं!

जाकिर भाई:
इस संस्कृत के लफ्ज़ नाराशंस का मतलब है “तारीफ पाया हुआ”, जो कि अरबी के लफ्ज़ “मुहम्मद” का तर्जुमा ही है.
अग्निवीर:
१. अरबी बिस्मिल्लाह यानी “बिस्मिल्ला हिर्रहमानिर्रहीम” को हिंदी में बदलने पर “दयानंद की जय” ऐसा मतलब निकलता है! इसका मतलब यह हुआ कि कुरान दयानंद की तारीफ़ से ही शुरू होती है! तो फिर हमारे मुसलमान भाइयों को कोई तकलीफ नहीं होनी चाहिए अगर कल हिन्दू यह कहने लगें कि कुरान में दयानंद के आने की भविष्यवाणी है!
२. और नाराशंस से मुहम्मद तक का सफ़र ऐसा ही है जैसा सफ़र जहर से इस्लाम तक था! जहर = मौत = पूरा आराम = अमन चैन = इस्लाम
इसलिए, जहर = इस्लाम

जाकिर भाई:
संस्कृत के लफ्ज़ “कौरम” का मतलब है “अमन को फैलाने और बढाने वाला”. पैगम्बर मुहम्मद “अमन के राजकुमार” थे और उन्होंने इंसानियत और भाईचारे का ही पैगाम दिया. “कौरम” का मतलब उजड़ा हुआ भी होता है. मुहम्मद साहब भी मक्का से उजाड़े गए और मदीने में जाना पड़ा.
अग्निवीर:
१. “कौरम” का मतलब है “जो धरती पर अमन से राज करता है”. अब देखें, तारीख (इतिहास) गवाह है कि पैगम्बर मुहम्मद की जिंदगी खुद कितनी अमन चैन में गुजरी थी! कितनी अमन की लड़ाईयां उन्होंने लड़ीं, कैसे मक्का फतह किया और किस अमन का पैगाम कुरान में काफिरों के लिए दिया है, यह सब बताने की जरूरत नहीं!
२. वैसे जिस तरह मुहम्मद साहब मक्का से उजाड़े गए, उसी तरह कृष्ण जी भी मथुरा से उजाड़े गए और उन्हें द्वारिका में जाना पड़ा. कृष्ण के मायने भी “तारीफ किये गए” और “शांति दूत” मतलब अमन का पैगाम देने वाले हैं, फिर तो ये मन्त्र उन पर भी लागू होता है!
३. और कौरम से मुहम्मद तक का सफ़र भी ऐसा ही है जैसा सफ़र जहर से इस्लाम तक था! जहर = मौत = पूरा आराम = अमन चैन = इस्लाम
इसलिए, जहर = इस्लाम

जाकिर भाई:
वह ६००९० दुश्मनों से बचाया जाएगा, जो कि मक्का की उस वक़्त की आबादी थी.
अग्निवीर:
हमारा सवाल है कि कौन से आबादी नापने की तकनीक से जाकिर भाई ने अब से चौदह सौ साल पहले की मक्का की आबादी खोज निकाली? कहीं यह कोई इल्हाम तो नहीं?

जाकिर भाई:
वह पैगम्बर ऊँट की सवारी करेगा. इससे यह जाहिर होता है कि यह कोई हिन्दुस्तानी ऋषि नहीं हो सकता, क्योंकि किसी ब्राह्मण को ऊँट की सवारी करना मनु के उसूलों के खिलाफ है. [मनुस्मृति ११/२०२]
अग्निवीर:
१. पंडित खेम करण के तर्जुमे के हिसाब से उस रथ में बीस ऊँट और ऊंटनी होंगे. अगर यह बात है तो कौन सी सीरत और हदीसों में लिखा है कि मुहम्मद साहब ऐसे किसी रथ पर सवार भी हुए थे? और क्या पूरी इंसानी तारीख में केवल पैगम्बर मुहम्मद ही वाहिद (इकलौते) इंसान थे जो ऊँट की सवारी करते थे? अगर नहीं तो आपको इस मन्त्र में सिर्फ उनका नाम ही क्यों सूझा?
२. मन्त्र एक राजा के बारे में है ना कि ब्राह्मण के बारे में. तो इसलिए मनु के उसूल इस मन्त्र पर घटते ही नहीं क्योंकि मनु का श्लोक ब्राह्मण के लिए ही है!

जाकिर भाई:
मन्त्र में ऋषि का नाम मामह है. हिन्दुस्तान में किसी ऋषि या पैगम्बर का नाम यह नहीं था…… कुछ संस्कृत की किताबें इस पैगम्बर का नाम मोहम्मद बताती हैं…..असल में इससे मिलता जुलता लफ्ज़ और मतलब तो पैगम्बर मुहम्मद पर ही घटता है.
अग्निवीर:
१. मन्त्र में लफ्ज़ “मामहे” है न कि “मामह”! जाकिर भाई ने किस किताब में इसका मतलब मुहम्मद या मोहम्मद देखा यह बात बड़े पते की है क्योंकि-

मन्त्र में “मामहे” लफ्ज़ एक क्रिया (verb) है ना कि कोई संज्ञा/आदमी (noun)! इस पूरे मन्त्र में केवल यही एक क्रिया (verb) है और कोई नहीं! अगर इस लफ्ज़ “मामहे” से किसी आदमी का मतलब लेंगे तो पूरे मन्त्र का कोई तर्जुमा ही नहीं बन सकता क्योंकि फिर इस मन्त्र में कोई क्रिया (verb) ही नहीं बचेगी!

२. और भी, यह क्रिया (verb) दो से ज्यादा लोगों के लिए आई है (बहुवचन), किसी एक आदमी के लिए नहीं! तो इस तरह इस लफ्ज़ से एक आदमी को लेना नामुमकिन है!

जाकिर भाई:
मन्त्र में जो सौ अशर्फियों की बात है, वो मुहम्मद पैगम्बर के साथियों और शुरू के ईमान लाने वालों के लिए है जिस वक़्त मक्का में हालात ठीक नहीं थे….
अग्निवीर:
१. यह एक और मौजजा (चमत्कार) ही समझना चाहिए कि अचानक सोने की अशर्फियाँ मोमिनों में तब्दील हो गयीं! लेकिन जाकिर भाई इस मौजजे का जिक्र कुरान में तो नहीं है, तो क्या अब आप पर भी इल्हाम …..? अल्लाह इमान सलामत रखे!
२. किसी इस्लामी किताब में सहाबा और शुरू के ईमान वालों की गिनती सौ तक नहीं गयी! कुछ सीरत चालीस तक ही बताती हैं. देखें http://www.religionfacts.com/islam/history/prophet.htm

जाकिर भाई:
दस हारों का मतलब यहाँ १० सहाबाओं से है. ये वे हैं जिनको खुद पैगम्बर ने यह खुश खबरी सुनाई कि वे सब जन्नत में दाखिल होंगे-अबू बकर, उमर, उथमान, अली, तल्हा, जुबैर, अब्दुर रहमान इब्न आउफ, साद बिन अबी वकास, साद बिन जैद, और उबैदा…
अग्निवीर:
१. वही मौजजा! गले के हार = सहाबा
२. वैसे ये १० गले के हार मूसा के दस उसूल (Ten Commandments) क्यों न माने जाएँ?
३. यहाँ रुक कर हम अपनी मुसलमान माताओं और बहनों से एक बात कहेंगे. ऊपर दिए गए दस लोगों में से एक भी औरत नहीं है, जिसकी जन्नत जाने की खबर मुहम्मद ने अपन मुहँ से सुनाई थी. आप सोच लें की आपकी इज्जत इस्लाम में कितनी है. हमें इस पर और कुछ नहीं कहना.

जाकिर भाई:
संस्कृत के अल्फाज़ गो का मतलब है लड़ाई के लिए जाना. गाय भी “गो” कही जाती है और वह लड़ाई और अमन दोनों की निशानी है. मन्त्र में दस हज़ार गायों से मुराद असल में मुहम्मद के उन दस हज़ार साथियों से है जो फ़तेह मक्का में उनके साथ थे जो कि दुनिया की पहली ऐसी फ़तेह (जीत) थी जिसमें कोई खून नहीं बहा. जहाँ ये दस हज़ार साथी गाय की तरह ही अच्छी आदत वाले और प्यारे थे वहीँ दूसरी तरफ ये ताकतवर और भयानक थे जैसा कि कुरान के सूरा फतह में आया है कि “जो मुहम्मद के साथ हैं वे काफिरों के खिलाफ ताकतवर हैं, लेकिन आपस में एक दूसरे का ख्याल करने वाले हैं” [कुरान ४८:२९]
अग्निवीर:
१. संस्कृत के कौन से उसूल से गो का मतलब “लड़ाई पर जाना” निकलता है? कहीं जाकिर भाई अंग्रेजी के “go” से तो जाने का मतलब नहीं निकाल रहे? वैसे संस्कृत में गो लफ्ज़ के कई मायने हैं जैसे गाय, धरती, घूमने वाली चीज वगैरह. लेकिन इस मन्त्र में गो का मतलब गाय ही है क्योंकि यहाँ बात लेने देने की है.
गाय का दान करना वैदिक धर्म का बहुत पुराना रिवाज है जो आज भी काफी चलता है. जितने भी वैदिक धर्म के बड़े लोग हुए, वे सब गाय और बाकी जानवरों की हिफाजत करने के लिए जाने जाते थे. यहाँ तक कि गाय वैदिक सभ्यता के रीढ़ की हड्डी समझी जाती है. ईश्वर बहुत जल्द वह दिन दिखाए कि कोई दहशतगर्द कातिल चाहे अल्लाह के नाम पे और चाहे देवी के नाम पे फिर कभी किसी मासूम के गले न चीर सके.

२. खैर, बात यह है कि वेद में हर जगह सब जानवरों की और ख़ास तौर से गाय की हिफाज़त करना राजा और लोगों पर जरूरी बताया गया है. जाकिर भाई के हिसाब से भी गाय मुहम्मद के साथियों की तरह प्यार करने लायक और हिफाज़त करने लायक है. लेकिन मुहम्मद और उनपर ईमान लाने वाले मुसलमान तो गाय के सबसे बड़े मारने वाले लोग हैं. ईद पर गाय काटना बहुत सवाब (पुण्य) देने वाला काम समझा जाता है. तो बात यह है कि अगर दस हजार गायों से मुहम्मद के साथियों से मुराद है तो मुहम्मद या कोई और मुसलमान गाय को नहीं मारते. पर ऐसा नहीं है. यह इस बात की दलील है कि जाकिर भाई की दस हज़ार गाय वाली बात भी मन घड़ंत, संस्कृत के इल्म से बेखबर, और मन्तक पर खारिज हो जाने वाली है.

३. जाकिर भाई के हिसाब से इस मन्त्र में आने वाले लफ्ज़ “गो” का मतलब लड़ाई की निशानी, अमन की निशानी, और लड़ाई के लिए जाना है! यानी एक ही वक़्त में यह लफ्ज़ noun भी है और verb भी! जाकिर भाई इस नए इल्म के खोजकार ठहरते हैं और इस लिए उनको बहुत मुबारकबाद!

जाकिर भाई:
इस मन्त्र में लफ्ज़ “रेभ” आया है, जिसका मतलब है तारीफ़ करने वाला और इसका अरबी में तर्जुमा करने पर “अहमद” बनता है जो मुहम्मद (सल्लo) का ही दूसरा नाम है.
अग्निवीर:
१. और रेभ से मुहम्मद तक का भी सफ़र ऐसा ही है जैसा सफ़र जहर से इस्लाम तक था! जहर = मौत = पूरा आराम = अमन चैन = इस्लाम
इसलिए, जहर = इस्लाम
२. इसी तरह- बिस्मिल्ला हिर्रहमानिर्रहीम = दयानंद की जय

और क्या कहें इस उल जलूल तर्क पर!

जाकिर भाई:
अथर्ववेद [२०/२१/६]- “ओ सच्चे लोगों के स्वामी! ……जब तुम दस हजार दुश्मनों से बिना लड़ाई किये जीते….”
यह मन्त्र इस्लाम की तारीख की जानी मानी लड़ाई, अहजाब की लड़ाई का जिक्र करता है जो मुहम्मद के जीतेजी ही लड़ी गयी थी. इसमें पैगम्बर बिना किसी लड़ाई के ही जीत गए थे जैसा की कुरान [३३:२२] में लिखा है.
इस मन्त्र में लफ्ज़ “करो” का मतलब है इबादत करने वाला, और जब इसका तर्जुमा अरबी में करते हैं तो यह अहमद बनता है जो मुहम्मद का दूसरा नाम है.
मन्त्र में आये दस हजार दुश्मन असल में मुहम्मद के दुश्मन थे और मुसलमान केवल तादात में तीन हजार थे. और मन्त्र के आखिरी लफ्ज़ “अप्रति नि भाष्या” के मायने हैं कि
दुश्मनों को बिना लड़ाई के ही हरा दिया गया.
अग्निवीर:
असली तर्जुमा (पंडित खेम करण): “ओ सच्चे लोगों को बचाने वाले! तुम उनसे खुश होते हो जो दुश्मनों को लड़ाई में अपनी जांबाजी और हौंसले से सबको खुश कर देते हैं. अपने बेहतरीन कामों से दस हज़ार दुश्मन बिना किसी तकलीफ के हरा दिए गए हैं.”

१. अगर ये मन्त्र अहज़ाब की लड़ाई की बात करता है तो इसमें पैगम्बर के लश्कर (सेना) की तादाद क्यों नहीं दी गयी?
२. मन्त्र में आये लफ्ज़ “दश सहस्र” वेदों में कई ठिकानों पर आये हैं, और इसके मायने बहुत बड़ी तादाद के हैं. कई बार ना गिने जा सकने वाले भी!
३. वैसे इस मन्त्र में “करो” जैसा कोई लफ्ज़ ही नहीं! नजदीक से नजदीक एक लफ्ज़ “कारवे” तो है पर इसका मतलब है “काम करने वाले के लिए” न कि “इबादत करने वाला” जैसा जाकिर भाई ने लिखा है! अब क्योंकि मुहम्मद का कोई नाम “काम करने वाले के लिए” नहीं है तो इस मन्त्र में उनके होने की सब दलील ख़ाक में मिल जाती हैं.
४. असल में यह मन्त्र ख़ास तौर से रूहानी (आध्यात्मिक) लड़ाई, जो हर वक़्त आदमी के जेहन में अच्छाई और बुराई के बीच चलती रहती है, के बारे में बताता है और इसे जीतने का हौंसला भी देता है. इसी वजह से बिना खून खराबे के लड़ाई जीतने की बात है. दूसरी तरफ यह सूक्त लड़ाई में अच्छे दांव पेच लगाकर बिना खून बहाए अपने दुश्मन को जीतने का रास्ता भी दिखाता है. पर इसमें, जैसा कि हम दिखा चुके हैं, कोई तारीखी वाकया (ऐतिहासिक घटना) शामिल नहीं है.

जाकिर भाई:
मक्का के मुशरिकों की हार की दास्ताँ अथर्ववेद [२०/२१/९] में इस तरह है- “ओ इंद्र! तुमने बीस राजाओं और ६००९९ आदमियों को अपने रथ के भयानक पहियों से हरा दिया है जो तारीफ़ किये हुए और अनाथ (मुहम्मद) से लड़ने आये थे”
मक्का की आबादी मुहम्मद की वापसी के वक़्त करीब साथ हज़ार थी. साथ ही मक्का में बहुत से कबीले और उनके सरदार थे. वो कुल मिलाकर करीब बीस सरदार थे जो पूरी मक्का पर हुकूमत करते थे. “अबन्धु” मतलब बेसहारा जो कि तारीफ़ किये हुओं में से है. मुहम्मद ने अल्लाह की मदद से अपने दुश्मनों पर फतह पायी.
अग्निवीर:
१. जाकिर भाई क्या किसी सीरत या हदीस से ये ६०००० आबादी वाली बात बताने की जहमत गवारा करेंगे? या फिर जैसा हमने पहले कहा कि क्या जाकिर भाई पर भी इल्हाम …….! अल्लाह ईमान सलामत रखे!
२. इस मन्त्र का लफ्ज़ दर लफ्ज़ (शब्दशः) तर्जुमा यह है कि ६०००० से ज्यादा दुश्मन और उनके २० राजा भयंकर रथों के पहियों तले रौंद डाले गए. मतलब दुश्मनों के लश्कर में ६०००० सिपाही थे. इसका मतलब यह कि मक्का की पूरी आबादी (जवान, बूढ़े, बच्चे, औरत) सब ही उस लडाई में पहियों तले कुचल डाले गए! तो अगर इस मन्त्र में मुहम्मद है भी तो वह एक भयानक कातिल, जिसने बच्चों, औरतों, बूढों किसी को नहीं छोड़ा, साबित होता है. क्या अब भी कोई मुहम्मद और इस्लाम के अमन के पैगाम पर सवालिया निशान लगा सकता है?

३. असल में, मक्का की लड़ाई एक छोटी सी कबीलों की जंग थी जिसमें हज़ार के आस पास मक्का के और तीन सौ के आस पास मुहम्मद के मुजाहिदीन शामिल थे. तो इस लड़ाई में ६०००० की बात सोचना नामाकूल बात है.

२. ऋग्वेद में मुहम्मद (सल्लo)

जाकिर भाई:
इसी तरह की भविष्यवाणी ऋग्वेद (१/५३/९) में मिलती है.
संस्कृत लफ्ज़ जो यहाँ आया है वो है “सुश्रमा” जिसका मतलब है “तारीफ़ किये जाने के काबिल” जिसका अरबी तर्जुमा मुहम्मद ही है.
अग्निवीर:
इसका मतलब भी पिछले मन्त्र जैसा ही है यानी उससे भी मुहम्मद पूरी काबा की आबादी का कातिल ठहरता है.
२. मन्त्र में कहीं भी “सुश्रमा” नहीं आया!
३. एक लफ्ज़ “सुश्रवसा” जरूर है जिसका मतलब है “सुनने वाला” और “दोस्त”, जिसका इस मन्त्र में मुहम्मद से कोई ताल्लुक ही नहीं!

३. सामवेद में मुहम्मद (सल्लo)

जाकिर भाई:
पैगम्बर मुहम्मद सामवेद (२/६/८) में भी पाए जाते हैं. “अहमद ने अपने स्वामी से इल्हामी इल्म हासिल किया. मैंने उससे वैसा ही नूर (प्रकाश) हासिल किया जैसा कि सूरज से”. इससे पता चलता है कि
इस पैगम्बर का नाम अहमद है. कई तर्जुमाकारों (भाष्यकारों) ने इसे गलत समझा और इसे अहम् अत ही लिखा और इसका मतलब निकला “मैंने ही अपने पिता से असली इल्म हासिल किया है”.
पैगम्बर को इल्हामी इल्म हासिल हुआ, जो कि शरियत है.
ऋषि को इल्म हुआ मुहम्मद की शरियत से. कुरान [३४:२८] में लिखा है- “हमने तुझे भेजा है सबके लिए न कि किसी एक के लिए, उनको समझाने के लिए और चेतावनी देने के लिए, पर अधिकतर लोग समझते नहीं”
अग्निवीर:
कोई कुछ समझा क्या? पहले हम भी नहीं समझे थे! पर समझ कर अब इस पर लिख रहे हैं. हो सकता है आप हमारी राय देख कर जाकिर भाई की बातों को समझ सकें!
१. जाकिर भाई को पहले यह सीखना चाहिए कि वेदों के हवाले (reference) कैसे दिए जाते हैं. सामवेद के हवाले इस तरह नहीं दिए जाते. इसलिए जब उनको यह मन्त्र सही हवालों के साथ कहीं मिले तो हमारी नजर कर दें, हम इसका भी हल कर देंगे! हमने बहुत खोजा पर यह मंत्र हमे कहीं नहीं मिला.
२. एक बड़ा सवाल यहाँ यह है कि जब वेद अहमद, सहाबा, मुहम्मद के साथियों की तादाद, मक्का की आबादी, उसके सरदारों की गिनती वगैरह बिलकुल ठीक से बताते हैं तो फिर सीधा “मुहम्मद” नाम क्यों नहीं लेते? अल्लाह मियां ने इतनी अफरा तफरी क्यों मचा के रखी है? क्यों नहीं सीधे सीधे इकट्ठे एक ही जगह पर कुछ मन्त्रों में मुहम्मद का नाम और उसकी पूरी सीरत (जीवन चरित्र) डाल देता की काफिरों को यकीन हो जाता कि मुहम्मद ही असली पैगम्बर है और जन्नत की चाबी लिए हुए है?

कुछ आखिरी बातें!

१. क्या अल्लाह को अपने आखिरी रसूल का नाम नहीं पता था कि इशारों में लोगों को समझा रहा था कि ऊँट की सवारी करेगा और ६०००० लोगों को कुचल देगा, वगैरह?
२. अगर हजारों साल पहले ही अल्लाह ने वेद में यह लिख दिया था कि कुछ लोग कुचले जायेंगे और कुछ जन्नत में भेजे जायेंगे तो फिर उसने सबके लिए जन्नत ही जन्नत क्यों नही लिखी?
३. जब वेद की बातें एकदम मुहम्मद (सल्लo) की जिन्दगी से मेल खा रही हैं (जाकिर भाई कि नज़रों में!) तो फिर वेद को इल्हामी किताब मानने में क्या तकलीफ है?
४. अगर वेद इल्हामी है तो जाकिर भाई किताबों के नाम वेद से शुरू न करके तौरेत से क्यों शुरू करते हैं? और कुरान में वेद का नाम क्यों नहीं?
५. अगर वेद इल्हामी नहीं तो झूठी किताब से मुहम्मद और अल्लाह की मजाक उड़ाने की हिमाकत जाकिर भाई ने कैसे की और सब उलेमा इस पर खामोश क्यों हैं?
६. अब जब यह बात खुल गयी है कि वेद में मुहम्मद मानने की कीमत मुहम्मद को एक पूरी कौम का कातिल मानने की है तो क्या अब भी यह सौदा जाकिर भाई को क़ुबूल है?
७. वेदों में मुहम्मद का फलसफा असल में कादियानी मुल्लाओं का है. वैसे भी जाकिर भाई बिना बताये कादियानियों की किताबों से सामान लेकर अपनी किताबें बनाते हैं तो क्या कादियानियों पर उनका घर जैसा हक समझा जाये? अगर ऐसा है तो फिर जाकिर भाई ने आज तक ये राज हमसे क्यों छिपाए रखा कि वो एक कादियानी हैं?

आखिर में हमारी जाकिर भाई और उनके सब साथियों और चाहने वालों से यही गुजारिश है कि सब झूठी भविष्यवाणियों और पैगम्बरों को छोड़ कर अपने असली घर वेद के धर्म में आ जाएँ. जहाँ जन्नत/सुख की चाबी किसी मुहम्मद के पास नहीं पर एक ईश्वर के पास है. जहाँ तारीफ करने के काबिल केवल वही एक ईश्वर है न कि कोई पैगम्बर.

वह एक है, जो कि पूरी कायनात को संभाले रखता है, जो सब के अन्दर घुसा हुआ, सबके बाहर फैला हुआ, हाज़िर नाजिर, बिना जिस्म, सारी कुव्वतों का एक अकेला मालिक, कामिल, न कभी पैदा हुआ, न कभी मरेगा, सदा रहने वाला और सबका सहारा ईश्वर ही है. उसके अलावा और किसी की इबादत हम न करें. [यजुर्वेद]

This article is also available in English at http://agniveer.com/528/prophet-vedas/

 

राम प्रसाद बिस्मिल

भारत माता के अमर सपूत राम प्रसाद बिस्मिल की आत्मकथा से कुछ प्रेरक प्रसंग| यह जीवनी उन्होंने अपनी फांसी के कुछ दिन पहले ही लिखी थी:
Written during his jail term, shortly before his death
————————————
माता

इस संसार में मेरी किसी भी भोग-विलास तथा ऐश्‍वर्य की इच्छा नहीं । केवल एक तृष्णा है, वह यह कि एक बार श्रद्धापूर्वक तुम्हारे चरणों की सेवा करके अपने जीवन को सफल बना लेता । किन्तु यह इच्छा पूर्ण होती नहीं दिखाई देती और तुम्हें मेरी मृत्यु का दुःख-सम्वाद सुनाया जायेगा । माँ ! मुझे विश्‍वास है कि तुम यह समझ कर धैर्य धारण करोगी कि तुम्हारा पुत्र माताओं की माता – भारत माता – की सेवा में अपने जीवन को बलि-वेदी की भेंट कर गया और उसने तुम्हारी कुक्ष को कलंकित न किया, अपनी प्रतिज्ञा पर दृढ़ रहा । जब स्वाधीन भारत का इतिहास लिखा जायेगा, तो उसके किसी पृष्‍ठ पर उज्जवल अक्षरों में तुम्हारा भी नाम लिखा जायेगा । गुरु गोविन्दसिंहजी की धर्मपत्‍नी ने जब अपने पुत्रों की मृत्यु का सम्वाद सुना था, तो बहुत हर्षित हुई थी और गुरु के नाम पर धर्म रक्षार्थ अपने पुत्रों के बलिदान पर मिठाई बाँटी थी । जन्मदात्री ! वर दो कि अन्तिम समय भी मेरा हृदय किसी प्रकार विचलित न हो और तुम्हारे चरण कमलों को प्रणाम कर मैं परमात्मा का स्मरण करता हुआ शरीर त्याग करूँ ।
———————————————————————————
सत्यार्थ प्रकाश

(यहाँ क्लिक करके सत्यार्थ प्रकाश डाउनलोड करें )
“देव-मन्दिर में स्तुति-पूजा करने की प्रवृत्ति को देखकर श्रीयुत मुंशी इन्द्रजीत जी ने मुझे सन्ध्या करने का उपदेश दिया । मुंशीजी उसी मन्दिर में रहने वाले किसी महाशय के पास आया करते थे । व्यायामादि के कारण मेरा शरीर बड़ा सुगठित हो गया था और रंग निखर आया था । मैंने जानना चाहा कि सन्ध्या क्या वस्तु है । मुंशीजी ने आर्य-समाज सम्बन्धी कुछ उपदेश दिए । इसके बाद मैंने सत्यार्थप्रकाश पढ़ा । इससे तख्ता ही पलट गया । सत्यार्थप्रकाश के अध्ययन ने मेरे जीवन के इतिहास में एक नवीन पृष्‍ठ खोल दिया । मैंने उसमें उल्लिखित ब्रह्मचर्य के कठिन नियमों का पालन करना आरम्भ कर दिया । मैं कम्बल को तख्त पर बिछाकर सोता और प्रातःकाल चार बजे से ही शैया-त्याग कर देता । स्नान-सन्ध्यादि से निवृत्त हो कर व्यायाम करता, परन्तु मन की वृत्तियां ठीक न होतीं । मैने रात्रि के समय भोजन करना त्याग दिया । केवल थोड़ा सा दूध ही रात को पीने लगा । सहसा ही बुरी आदतों को छोड़ा था, इस कारण कभी-कभी स्वप्‍नदोष हो जाता । तब किसी सज्जन के कहने से मैंने नमक खाना भी छोड़ दिया । केवल उबालकर साग या दाल से एक समय भोजन करता । मिर्च-खटाई तो छूता भी न था । इस प्रकार पाँच वर्ष तक बराबर नमक न खाया । नमक न खाने से शरीर के दोष दूर हो गए और मेरा स्वास्थ्य दर्शनीय हो गया । सब लोग मेरे स्वास्थ्य को आश्‍चर्य की दृष्‍टि से देखा करते थे ।”
(यहाँ क्लिक करके सत्यार्थ प्रकाश डाउनलोड करें )
———————————————————-
ब्रह्मचर्य

विद्यार्थियों तथा उनके अध्यापकों को उचित है कि वे देश की दुर्दशा पर दया करके अपने चरित्र को सुधारने का प्रयत्‍न करें । सार में ब्रह्मचर्य ही संसारी शक्तियों का मूल है । बिन ब्रह्मचर्य-व्रत पालन किए मनुष्य-जीवन नितान्त शुष्क तथा नीरस प्रतीत होता है । संसार में जितने बड़े आदमी हैं, उनमें से अधिकतर ब्रह्मचर्य-व्रत के प्रताप से बड़े बने और सैंकड़ों-हजारों वर्ष बाद भी उनका यशगान करके मनुष्य अपने आपको कृतार्थ करते हैं । ब्रह्मचर्य की महिमा यदि जानना हो तो परशुराम, राम, लक्ष्मण, कृष्ण, भीष्म, ईसा, मेजिनी बंदा, रामकृष्ण, दयानन्द तथा राममूर्ति की जीवनियों का अध्ययन करो ।
————————————————————————————————————————————————-
फांसी से तीन दिन पूर्व

अंतिम इच्छा
वर्तमान समय में भारतवर्ष की अवस्था बड़ी शोचनीय है । अतःएव लगातार कई जन्म इसी देश में ग्रहण करने होंगे और जब तक कि भारतवर्ष के नर-नारी पूर्णतया सर्वरूपेण स्वतन्त्र न हो जाएं, परमात्मा से मेरी यह प्रार्थना होगी कि वह मुझे इसी देश में जन्म दे, ताकि उसकी पवित्र वाणी – ‘वेद वाणी’ का अनुपम घोष मनुष्य मात्र के कानों तक पहुंचाने में समर्थ हो सकूं ।
आओ हम सब अपने भीतर के बिस्मिल को जगाएं|
पूरी आत्मकथा यहाँ पढ़ें

The 4 Vedas Complete (English)
The 4 Vedas Complete (English)
Buy Now

सत्यार्थ प्रकाश

5

स्वामी दयानंद सरस्वती का अमर ग्रन्थ जिसने बिस्मिल के जीवन का तख्ता ही पलट दिया| अग्निवीर की प्रेरणा का स्रोत|
http://agniveer.com/wp-content/uploads/2010/09/satyarth_prakash_opt4.pdf
http://www.scribd.com/doc/37535668/Satyarth-Prakash-Light-of-Truth
Satyarth Prakash – Light of Truth
 

ऋग्वेदादिभाष्यभूमिका

5

वेदों पर लिखा गया अब तक का सबसे महत्त्वपूर्ण ग्रन्थ| स्वामी दयानंद सरस्वती की अमर कृति| पढ़ें व प्रचार करें|
http://agniveer.com/wp-content/uploads/2010/09/RBBhumika-Complete.pdf
http://www.scribd.com/doc/37535992/Introduction-to-Vedas-Rigvedadibhashyabhumika
Introduction to Vedas – Rigvedadibhashyabhumika
Note: This version of of the book may have some errors and omissions, however the key essence is retained. For serious study and reference purpose, we strongly recommend a hard copy of Rigvedadibhashyabhumika published by Ram Lal Kapoor Trust, Sonipat edited by Pt Yudhishthir Meemansak.
Please also review Satyarth Prakash to get a fuller understanding of Vedic concepts.

The 4 Vedas Complete (English)
The 4 Vedas Complete (English)
Buy Now

ईशोपनिषद – वैदिक धर्म का सार

0

ईशोपनिषद का प्रामाणिक हिंदी भाष्य|
ईशोपनिषद से बढ़कर और कोई दर्शन का ग्रन्थ नहीं है| चाहे गीता हो, या अन्य उपनिषद्, या और कोई दर्शन शास्त्र – सब का आधार यही ईशोपनिषद है जो मूलतः यजुर्वेद का ४० वाँ अध्याय है| पंडित राजवीर शास्त्री कृत यह भाष्य स्वामी दयानंद के वेद भाष्य पर आधारित है|
इसे पढ़िए एवं अपने जीवन को एक क्रांतिकारी आनंददायक मोड़ दीजिये|
http://agniveer.com/wp-content/uploads/2010/09/isha_upanishad.pdf

The 4 Vedas Complete (English)
The 4 Vedas Complete (English)
Buy Now