ویدوں میں نجات کا تصور

This translation has been contributed by Aatish. Original post in English is available at http://agniveer.com/salvation-hinduism/

This article is also available in Gujarati at http://agniveer.com/salvation-hinduism-gu/

اس سبق میں ہم نجات کے تصور کے بارے میں جانکاری حاصل کرینگے، جسے مکتی یا موکش کہتے ہیں. مکمّل تفہیم کے لئے بہتر ہے کہ ویدک ایشور، روح، اور پرستش کے موضوع پر مضامین پڑھ لیجئے.

موکش کے موضوع پر ایک روحانی مضمون میں ہمنے بہادر مہارانا پرتاپ کا عکس کیوں چھپا ہے، اسے سمجھنے کے لئے پورا مضمون پڑھ لیجئے.

سوال – مکتی یا موکش کیا ہوتا ہے؟

جواب – مکتی یعنی آزادی.

سوال – کس طرح کا آزادی؟

جواب – مکتی کا مطلب اس آزادی سے ہے جسے ہر ذات حاصل کرنا چاھتا ہے. دوسرے لفظوں میں، افسوس، دکھ اور مصیبتوں سے آزادی.

سوال – اس آزادی کے بعد کیا ہوتا ہے؟

جواب – اس آزادی کے بعد ذات نہایت مسرت میں سرشار ہو جاتا ہے، اور پھر ایشور کے الہام پر جیتا رہتا ہے. یہ سب سے زیادہ مطمئن اور لطف اندوز مقام ہے جس سے  بندہ نوازا جا سکتا ہے. یہ بھی نوٹ کیجئے کے ایک عمومی غلط فہمی کے بار عکس، مکتی ایسا کوئی حالت نہیں جو بے ہوشی یا نیند یا سشپتی کے مانند ہو. مکتی نیند کا متضاد حال ہے – ایسا حال جو کہ بالاترین آگاہی اور ہوشمندی کی کیفیت سے سرشار ہے.

سوال – لیکن ایشور تو ہمارے اندر ابھی بھی زندہ ہے. یعنی ہم اب بھی ایشور کے الہام میں جی رہے ہیں. پھر مکتی میں کیا خاص بات ہے؟

جواب – اگر آپ خدا اور روح کے موضوع پر کے گئے اظہار خیال کو یاد کرینگے، ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ روح کا اپنا ایک مخصوص ارادہ ہے، اور اپنا ایک محدود علم بھی. جیوں ہی روح اپنے ارادے کا صحیح استمعال کر کے جوحالات کو دور کرتا رہتا ہے، تیوں ہی وہ مزید خوشی اور مسرت حاصل کرتا رہتا ہے، اور کائنات کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو کر فعالیت میں مصروف رہتا ہے. اسی لئے یہ سفارش کیا گیا ہے کے روح کو خدا کی تقلید کے مختلف طور طریقے سیکھ لینی چاہئے، اور اس ایک طریقه سے اعمال انجام دیتے رہے جو کہ کائنات کے کلّی مقصد کے ساتھ ہمکاری کرتا ہو.

زندگی کا مقصد یہ ہے کے بنی آدم کو ایسے اعمال فراہم کرنے کے قابل بنایں اسے کائنات کے مقصد سے ہم آہنگ کریں. جاب یہ ہم آہنگی ایک دہلیز تک پہنچ جاۓ، تب روح کو دوبارہ جنم لینے کے مزید اسباب نہیں ہوتے. لہٰذا وہ جنم اور موت، خوشی اور غم وغیرہ کے چکّر سے آزاد ہو جاتا ہے، اور انتہائی مسرّت کا صاحب بن جاتا ہے.

اس طرح مکتی کا معنی ہے کائنات کے مقصد سے ہم آہنگی اور ہم کاری. ایشور ہمیشہ ہمیں الہام سے بخشتا ہے، وہ ہمہ گیر ہے، اور ہمارے اندر بھی ہے. لیکن جب ہم اس حقیقت کی شناخت میں کامیاب ہو کر اس کے مطابق اعمال انجام دیتے ہیں، تب ہی ہم مکتی پاتے ہیں.

سوال – وہ کیا بات ہے جو ہمیں اسی پل مکتی سے روک رہا ہے؟ ایشور ہمیں اسی وقت مکتی کیوں نہیں بخش دیتا؟

جواب – پہلے ہم دوسرے سوال کا جواب میں کہیںگے – جو بھی بہترین ہو، ایشور وہی کرتا ہے. وہ منمانی یا غیر منطقی عمل نہیں کرتا.

ہماری فطرت ہی ایسی ہے کہ مکتی پانے کا واحد طریقہ ہے جہالت کو بر طرف کرنا. اور جہالت کو دور کرنے کا واحد طریقہ ہے درست اعمال کو انجام دینا۔ اچھے اعمال کی ریاضت کا طریقہ اس فرصت سے گذر کر پیدا ہوتا ہے جب شخص ایک اچھے ماحول میں جنم لیتا ہے جو کہ انکے اہلیت کے لحاظ سے موزوں ہو. اور ایشور اسی طرح مسلسل ماحول مھیّہ کیا کرتے ہیں جب تک ہم مہارت حاصل کرکے مکتی کے منزل تک نہیں پہنچتے ہیں. لہٰذا وہ بہترین انداز سے توفیق کے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے، تا کہ ہم مکتی حاصل کر سکیں.

اب پہلے سوال کے بابت، آئیے روح کے صفات کا جائزہ لیتے ہیں، بنسبت ایشور اور پرکرتی (طبیعت)-
پرکرتی ست ہے – وہ صاحب وجود ہے.
روح ست اور چت ہے – اسکا وجود ہے، اور ہوش بھی (زندہ، حرکت کے قابل، وغیرہ).
ایشور ست، چت، اور آنند ہے – انکا وجود ہے، ہوش بھی، اور مسرّت کا سر چشمہ بھی ہے.

اب روح ذاتی طور پر مسرّت کا مالک نہیں ہے. کوشش کرکے اسکو مسرّت کی اور پیشرفتی کرنا پڑتا ہے. کیونکہ ایشور مسرّت کا مالک ہے، تو اسکا مطلب یہ ہوا کے اسکو ایشور کی طرف حرکت کرنی چاہئے.

آئیے اب ویدک فلسفہ کی ایک اور اہم اساس کے نزدیک چلتے ہیں، علم = مسرّت.

کیونکہ ایشور لا محدود علم کا مالک ہے، لہٰذا لامتناہی خوشی بھی انکے پاس ہے.

لیکن روح کا احتمال اور قابلیت محدود ہے، اسکا علم محدود ہے. انکے حدود بدلتے رہتے ہیں، اور یہ بدلاؤ انکے اعمال کے مطابق ہوتا ہے، جنکا معیار کرم کے قوانین کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں، جو کہ ایشور کے زیر اہتمام نافذ کیے جاتے ہیں.

لہٰذا مسرّت حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے کہ روح اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے، اپنے نیک اعمال کے ذریعہ جو حدود کو وسعت دیتے دیتے انکو آخر ہٹا دیں.

اس عمل کا طریقہ کار یوں ہے

١. اعمال کے اثرات سنسکار کہلاتے ہیں (رجحانات و عادات)، اور یہ سنسکار روح ہے قابلیت کے حدود کا تعین کرتے ہیں. اہم نقطہ یہ ہے کے عمل کے ارتکاب کے اسی پل میں ہی ایک سنسکار کی تخلیق ہوتی ہے اور وہ جوڑا جاتا ہے. سنسکار کا مطلب ہے کے اسی طرح کے حالات اور ماحول میں اسی طرح کا عمل پر ٹوٹ کر دوبارہ ارتکاب کرنے کے امکان زیادہ ہو جاتے ہیں.

لہٰذا اگر آپ غلط اعمال کرتے ہیں – جیسے مکر و فریب، نفرت کرنا، وغیرہ – ان اعمال کو آیندہ بار بار کرتہ رہنے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے. یہ آپکی قابلیت کے حدود کو کم کر دیتا ہے، اور اسکے نتیجہ میں آپکے علم میں کمی ہوتا ہے، اور اس سے آپکے خوشی اور اطمینان بھی کم ہو جاتے ہیں. لہٰذا آپ مکتی سے ایک قدم اور دور چلے جاتے ہیں.

لیکن جب آپ نیک اعمال کو انجام دیتے ہیں – جیسے ہمدردی کرنا، صرف سچائی کا تجزیہ اور پذیرائی کرنا، عالی کردار اور سیرت کو تشکیل دینا، وغیرہ – تو پھر انہی اعمال کو مزید دوہرانے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے. اسکا انجام یہ ہے کہ زیادہ علم کو دریافت کرنے کی قابلیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور لہٰذا زیادہ خوشی اور اطمینان بھی نصیب ہوتا ہے. اس طرح آپ مکتی سے ایک قدم اور قریب چلتے آتے ہیں.

٢. اب اس سلسلہ میں ہر ایک عمل کا شمار ہوتا ہے (جس میں خیالات اور احساسات بھی شامل ہیں). یہ بھی یاد رکھئےگا کہ اگر آپ کسی عمل کو ایک بار بھی انجام دیں، تو اسے دوبارہ دوہرا کے خود کو اور بھی بے وقوف یا اور بھی ہوشمند بنانے کے امکان میں اضافہ ہوتا ہے.

٣. عام طور پر روح ہر پل اچھے اور برے اعمال کے درمیان ڈولتا رہتا ہے، کچھ قدم آگے بڑھتا ہے اور پھر کچھ قدم پیچھے کی طرف، ایک شرابی  کی طرح، اور اسی طرح انکے مکتی آنے میں دیر لگ جاتا ہے.

٤. لیکن ایک یوگی اپنے عزم اور ارادے کی طاقت کے ذریعہ برے اعمال سے پرہیز کرکے فعالانہ طور پر نیک اعمال کو انجام دیتے رہتا ہے. بتدریج یہ سلسلہ جاری رکھنے سے پرانے برے اعمال کے سنسکار کمزور ہوتے جاتے ہیں، اور انکے جگہ نیک اعمال قائم ہو جاتے ہیں. آہستہ آہستہ وہ یوگی اپنے برے سنسکار کے بیجوں کو ہی تباہ کر دیتا ہے. یہ ایک ایسی مقام اور حالت پیدا کرتا ہے جس میں اس یوگی سے کسی بھی صورت حال میں وہ برے اعمال دوہراۓ نہیں جاینگے. اس طرح، اسنے برے سنسکاروں کے بیجوں کو جلا کے رکھ دیا ہے (دگدھ بیج)، یعنی وہ ان برے سنسکار سے جال سے آزاد ہو چکا ہے جو اسے برے اعمال کرنے پر مجبور کرتے تھے.  وہ مکتی کی طرف مستقیم کوچ فرماتا ہے، ایک سپاہی کی طرح، اور کبھی پیچھے قدم نہیں رکھتا.

وہ ایشور کی مشیت اور منشا پر پوری طرح سے فدا ہو چکا ہے اور تسلیم کر چکا ہے، اور ایشور کے انتہائی مسرّت کو پا چکا ہے.

سنسکار کے بیجوں کو تباہ کرنے کے اس سلسلہ کے خاطر، کچھ عرصے کے لئے مسلسل لگن اور جد و جہد کا تقاضہ ہے، پورے جوش اور خود اعتماد کے ساتھ، اور  ایشور پر بھروسہ رکھ کر.

اس سلسلہ میں کنٹرول کا واحد بٹن جو ہمارے پاس ہے، وہ ہے ہمارا اپنا نیت اور ارادہ.

بیشتر لوگ اس نیت اور ارادے کو نظر انداز کرتے ہیں، اور اس طرح ان قوتوں کو صحیح ور کی طرف استمعال کرنے کے بجاۓ کٹھ پتلیوں کی طرح حالت اور ماحول کے دھاگوں کے اشاروں پر ناچتے رہتے ہیں. لہٰذا وہ خود اپنی ترقی کا گلا گھوٹ دیتے ہیں. یوگی لوگوں کا روش بار عکس ہے.

اسی لئے گیتا کا کہنا ہے کہ جو دنیا کے لئے جو دن نظر آتا ہے وہ یوگی کے لئے رات ہوتا ہے، اور جو دنیا کے لئے رات ہے وہ یوگی کے لئے دن.

جس قدر قوت اپنے ارادہ میں موجود ہے، اسی تیزی سے مکتی کے منزل تک پہنچوگے.

سوال – آپکا کہنا ہے کہ مکتی کے لئے علم کی ضرورت ہے. کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ مکتی حاصل کرنے کے لئے مجھے کائنات کے تمام امکانات اور عباد کی پوری جانکاری حاصل کرنا ہوگا؟

جواب – اگر آپ چاہیں بھی تو آپ تمام ہستی کو جان نہ پاویں. کیوں کہ آپ ایشور نہیں.

یہاں پر علم کی معنی ہے معرفت، نہ دنیاوی علوم اور فنون. لہٰذا ہمارا مطلب ان تصورات سے ہے جو کہ اندرونی علم سے ہمیں آشنا کرواتے ہیں، نہ کہ کسی جلد کو رٹ کر یاد کرنا.

رٹنا بھی مفید اور مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن صرف اس وقت کہ وہ ایسے تصورات کو بہتر بنانے میں استمعال کیا جاۓ.

یجر وید ٤٠.١٤ میں اسکا خوبصورت خلاصه ملتا ہے – جو شخص واضح طور پر ودیا (علم) اور اودیا (غیر علم) کی تصور کو پہچان لیں، وہ خود کی رہنمائی کرتے کرتے انکے مطابق اعمال کی ذریعہ موت کی بندگی سے آزاد ہو کر مکتی کی انتہائی مسرّت پا لیتا ہے.

سوال – تو پھر آپ کے تصوّر میں علم اور جہالت میں کیا فرق ہے؟

جواب –  یوگ درشن ٢.٥ میں اس تصور کا زیبا ترین توضیح کیا گیا ہے.

اس میں ٤ تصورات کو اودیا یا غیر علم بتایا گیا ہے.

١. عارضی چیز کو مستقل سمجھنا، اور اس کے بر عکس حقیقی چیز کو فانی قرار دینا.

مثال کے طور پر اس غلط فہمی کا شکار ہو جانا کے یہ جسم اور ظاہری دنیا ہمیشہ قیام رہیگا، اور آتما، روح اور ایشور، جو کہ حقیقی ہیں، انکو نظر انداز کرنا. ہم میں سے بیشتر لوگ اسی فسوں میں پھنسے ہوئے ہیں، اور اسی جہالت کے مطابق فعال ہیں.

٢. نا پاک کو پاک سمجھنا اور پاک کو نا پاک.

مثال کے طور پر اس جسم کو پاک سمجھنا، جو کہ خون، گندی اخراجات، پیشاب، وغیرہ سے بھرا ہوا ہے، اور اسی فسوں میں کسی جسم کی نفسانیت، شہوانیت، اور آراستگی پر مٹ مارنا یا ہوس کرنا. اور اسی ضمن، صداقت، اخلاقیات، برہم چریا، خودداری، ہمدردی، وغیرہ جیسے صفات کو نظر انداز کرنا.

٣. دکھ کو سکھ سمجھنا، اور بر عکس سکھ کو اذیت سمجھنا.

مثال کے طور پر خوشی کی جھوٹے امید میں خود کے لئے اس طرح کا رویہ اختیار کرنا جو کہ ہوس، خشم و غصّہ، لالچ، فریب اور فسوں، شیفتگی، رنج و افسردگی، پشیمانی، جلن، نفرت، آلسی پن، غرور اور گھمنڈ، وغیرہ جیسے گندی رذیلتوں پر مشتمل ہو. اور دکھ یا رنج کا سبب سمجھ کر نادانی سے خودداری، ہمدردی، سکوں، محنت، صداقت، سادگی، وغیرہ کو رد کرنا.

٤. بجان شے کو ہوشمند سمجھنا، یا بر عکس صاحب ہوش کو بجان سمجھ بیٹھنا.

مثال کے طور پر اس جسم اور دماغ کو جاندار سمجھنا، اور ہوشمند روح اور ایشور کو نظر انداز کرنا.

اودیا کا مخالف ودیا یا علم ہوتا ہے. 

جب یہ ودیا یا علم واضح طور پر قائم ہو جاتا ہے، تو اسکے بعد موت اور جنم کے اس گردش میں جکڑے رہنے کا اور کوئی مقصد باقی نہیں رہتا ہے. تب روح آزاد ہو کر مکتی یا ہمیشہ کے لئے مسرّت حاصل کر لیتا ہے.

 Vedic-Concept-of-Salvation

سوال – دکھ یا مصیبت یا عذاب سے آپکا کیا مطلب ہے ؟

جواب –  دوبارہ، یوگ درشن ٢.٣-٩ میں دکھ کا بہت مختصر و مفید توضیح دیا گیا ہے.

اسکے مطابق ٥ طرح کے کلیشیادکھ ہوتے ہیں -

١. اودیایاجہالت، جسکا ذکر یہاں ہو چکا ہے. اس کو دوسرے تمام دکھوں کی ماں قرار دیا گیا ہے، اور دوسرے تمام مصیبتوں کی بنیاد.

٢. اسمیتا،یانفس۔  یعنی دماغ، عقل یا جسم کو اپنی انا سمجھ لینا، اور اس کے بابت غرور محسوس کرنا، یا خود کے بارے میں برتری یا حقارت محسوس کرنا. اس غلط تصور کو ریاضت (ابھیاس)، عقل (وویک)، اور ترک دنیا (ویراگیا)  کے ذریعہ تباہ کرنی چاہیے.ی

٣راگ یا دلبستگی، یعنی سنسکاروں میں پھنسے رہنا، جو کہ وہ رجحانات ہیں جو حصّی واردات کے ذریعہ کچھ لمحوں کے مسرّت کا احساس اور ان احساسات کے لئے لالچ پیدا کرتی ہیں.

٤دویش یا نفرت، یعنی ان حالات کے خلاف نفرت کا شکار ہونا جو کہ گزشتہ کسی وقت میں ہمارے لئے حصّی درد یا غم کا بآِث رہا ہو.

٥. ابھینویش، یعنی موت کا خوف. اس خواہش کو پاس رکھنا کہ ہم کبھی بھی موت سے ملاقات نہ کریں، یا ہمیشہ کے لئے زندہ رہے. ہر جیو — چینٹی سے لیکر ہوشیار عالم — موت سے ڈرتے ہیں اور کسی بھی حد تک موت سے بچنے کا بندوبست کرتے ہیں. یہی پنار جنم یا تجدید حیات کا سبسے اہم ثبوت ہے. جب ہم سمجھ لیں کے صرف جسم مرتا ہے اور روح ہمیشہ ایشور کی مہربانی سے محفوظ رہتا ہے، اس وقت یہ خوف ختم ہو جاوے.

سوال – تو پھر مکتی یا نجات کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟

جواب – ہم پہلے بھی اس کے اصول اور جوہر کا ذکر کر چکے ہیں. ذرا سی زمینی الفاظ میں دوبارہ اسکی توضیح کیا جاۓ.

- اندرونی آواز کے مطابق ایشور کی ہدایت اور رہنمائی کی پیروی کرتے رہنا، پوری سمجھ اور حق شناسی کے ساتھ، گھمنڈ اور غرور سے آزاد ہو کر.

- بری رجحانات سے پرہیز کرنا، جیسے گناہ، بری عادات، غصّہ، مایوسی، پشیمانی، برے سوحبت اور معاشرے، نشہ، لت، وغیرہ.

- فعالانہ طور پر حقیقت جو ہونا، ہمدردی، تمام جہاں کی بہبود کا خواہشمند ہونا، نظم و ضبط کا پابند ہونا، صحتمندی، ایشور کے پرستش، دھیان اور مراقبہ کا ابھیاس، اور ہر چیز میں بہترین کوشش کرنا.

- ایماندار، مخلص اور بغیر کسی تعصّب ہونا.

- فرائض سے کبھی بھی فرار نہ کرنا، جو کہ ایشور نے معاشرے اور جہاں کے لئے مقرّر کیا ہے.

ان سب کے تفصیلات پر ہم بعد میں توسیع کرینگے. لیکن دانشمند لوگ اسی اظہار خیال سے آیندہ راہ کا نقشہ سمجھ گئے ہونگے.

سوال – مکتی کے حال میں روح یا آتما پر کیا گزرتا ہے؟ کیا وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے، سمندر میں ایک قطرے کی طرح؟

جواب – اگر روح کو اپنا شناخت کھونا ہی تھا، تو وہ اب تک کھو چکا ہوتا، اور ہم اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بات چیت نہیں کر رہے ہوتے. کیونکہ وقت کا کوئی نقطۂ آغاز نہیں. اسکا مطلب ہے کہ اب تلک بے شمار پل گزر چکے ہیں اس وقت سے جب ہم اپنی شناخت کھو نہیں چکے. تو پھر آیندہ بھی اس خود شناخت کھونے کے امکان مکممل طور پر صفر ہے.

سچ بات یہ ہے کہ روح اپنی شناخت ٹھیک اسی طرح برقرار رکھتا ہے جیسے لوہے کا توپ جو آگ میں گرم ہوکر سرخ ہے. اسکا شناخت برقرار ہے لیکن وہ اندر اور بہار سے ایشور کے مسرّت میں مست و غرق ہے.  لہذا وہ اسی طرح اپنی خود آگاہی کھو بیٹھتا ہے جس طرح ہم بھی خود آگاہی کھو دیتے ہیں جب ہم کسی لطف اندوز سر گرمی میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں. لیکن یہ بالکل اپنی شناخت کا متلاقاً کھو دینا تو نہیں ہے.

سوال – مکتی میں روح کہاں جیتا ہے؟

جواب – روح ایشور میں جیتا ہے، جو تمام زمان و مکان میں حاضر و ناظر ہے. صاحب علم ا کامل کے ہدایت کے سایہ میں پوری طرح سے پناہ لئے، روح کے حرکات اور مواقع پر مزید کوئی بھی حدود نہیں رہ جاتے.

سوال – کیا مکتی کے حال میں روح کا کوئی مادی جسم ہوتا ہے؟

جواب – نہیں، انکے لیے مادی جسم میں اور کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتا ہے. مادی جسم مکتی کی طرف بڑھنے کے لئے ضروری ہے، مکتی کے بعد نہیں.

سوال – جسم کے بغیر روح ایشور کے مسرّت کس طرح ملاحضہ کر سکتا ہے؟

جواب – روح کے وہ بنیادی قوّتیں جس سے کہ وہ جسمانی اعضاء حس کا استمعال کرتا ہے، وہ سارے قوّتیں انکے پاس موجود رہتی ہیں. قوّت ارادے کے ذریعہ روح براہ راست سن سکتا ہے، اور اسی طرح چھونا، دیکھنا، ذائقہ چکھنا، بو کرنا، اور فکر کرنا، یہ سارے صلاحیت انکے پاس براہ راست موجود ہوتی ہیں. مادی جسم کی محدودیت ابھی ضروری نہیں رہا، انکے لئے جسنے تمام حدوں کو توڑ کر مکتی حاصل کر لیا ہو.

اس بارے میں ویدانت ٤.٤.١٠-١٢ ،  کٹھوپنشد ٢.٣.١٠ ، اور چھندوگیا اپنشد ٨.٧.١ ، ٨.١٢.٥-٦ ، اور ٨.١٢.١ پڑھ لیجئے گا.

سوال – کیا مکتی ابدی ہے، یعنی کیا اسکا کوئی خاتمہ نہیں ہے؟

جواب – نہیں، مکتی ابدی نہیں، اسکا بھی ایک خاتمہ ہے. اگر وہ لا-زوال ہوتا، تو اس دنیا میں اس وقت ایسا کوئی اہتما نہیں بچا رہتا جو مکتی کی کوشش میں ہنوز جد و جہد کر رہا ہوتا (حالیہ بندشوں سے چھٹکارا). کائنات کا سارا مقصد ہی بے ربط اور غیر متعلقہ ہو جاتا. اور اگر اب تلک ہم مکتی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو پھر مستقبل میں بھی اسکے امکان نہیں ہیں.

کیوں کہ اہتما کا کوئی جنم اور کوئی نقطۂ آغاز نہیں. لہذا، ویدوں، گیتا، اپنشدوں، اور باقی سارے شاستروں کے مطابق ہماری ہستی ابدی اور لا متناہی وقت سے برقرار رہی ہے. اگر لامتناہی وقت میں ہم مکتی پا نہ سکے، تو پھر کبھی بھی حاصل نہیں کر پاینگے.

لہذا، مکتی ابدی نہیں ہے.

اس طرح، جب مکتی کا ایک مرحلہ اور مدّت ختم ہو جاتا ہے، تو روح واپس اس دنیا کو لوٹ آتا ہے اور دوبارہ مکتی کی طرف اپنا سفر شروع کرتا ہے.

تاہم انسانی زندگی کے اندازے سے مکتی کا مدّت اور دوام بہت دراز ہوتا ہے. منڈاکا اپنشد کے مطابق، یہ مدّت کائنات کی تخلیق کے ٣٦٠٠٠ چکر کے زمان کے وسعت کے برابر ہوتا ہے. اس تخلیق کے ہر ایک چکر کا عمر ٤٣.٢ * ٢٠٠٠ ملیں سال ہوتا ہے.

تو جب شاسترا کہتا ہے کے مکتی کا کوئی خاتمہ نہیں، اسکا مطلب ہے کہ مکتی کے اس حالیہ  دور تمام ہونے تک اہتما دوبارہ جنم اور موت کا چکر میں نہیں گریگا.

سوال – کیا ویدوں میں کوئی ثبوت ہے کہ مکتی لا متناہی نہیں؟

جواب – رگ وید ١.٢٤.١-٢ کا حوالہ دیتے ہیں -

سوال – کس کو ہم سب سے زیادہ پاکیزہ مانیں؟ تمام دنیا میں سب سے بڑھکر روشن ذہن والا کون ہے؟ بہترین مسرّت یا مکتی فراہم کرنے کے بعد، اس دنیا میں دوبارہ ماں اور باپ کون میسّر کرواتا ہے؟ 

 

جواب – وہ خود روشن، ابدی، ہمیشہ آزاد رہنے والا ایشور ہی تنہا پاکیزہ ترین کہلاتا ہے. مکتی یا عالی ترین خوشی کی نعمت کے بعد وہی ہمارے لئے دوبارہ اس دنیا میں ماں اور باپ مقرّر کرتا ہے.

چھاندوگیا اپنشد (٨.١٥.١ اور ٤.١٥.١) پر شنکر اچاریہ اپنی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اہتما برہمہ لوک یا مکتی میں تب تک بار قرار رہتا ہے جب تک اسکا دور ختم نہیں ہوتا. اس اپنشد کی آیات ٦.٢.١٥  پر اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اہتما مکتی کے حال میں کئی سالوں تک تہ سکتا ہے. شت پتھ براہمن ١٤.٦.١.١٨ کے حوالے سے وہ وضاحت کرتے ہیں کہ اگر اہتما مکتی کے بعد واپس نہیں لوٹتے تو منتر میں حرف “ایھا” با معنی ہو جاتا ہے.

سوال – مکتی کو ابدی ماننے میں خطا کیا ہے؟

جواب -

١. یہ تصوّر ویدوں کے خلاف ہے، بالا نوشتہ حوالے کے مطابق.

٢. روح نہ کبھی جنم لیتا ہے، اور اسکی ہستی ابدی ہے. پھر بھی وہ مکتی نہیں پا سکا. لہذا، بطور خود مکتی نا ممکن ہو جاتا ہے اگر وہ بھی ابدی ہے. غیر مکتی کے حالت میں ہمارا وجود ہی سب سے برا سبوت ہے کے مکتی ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتا.

٣. روح کے اعمال محدود ہیں. محدود اعمال کے پھل لا محدود نہیں ہو سکتے.

٤. اگر مکتی ہمیشہ کے لئے ہوتا، تو اس دنیا کا آخر خاتمہ ہو جاتا، جب تمام ارواح مکتی حاصل کر لیتے. کیوں کہ روح کا کوئی جنم نہیں ہوتا، تو پھر دیگر ارواح کے پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں. اور اگر روح کا تخلیق ممکن ہوتا، تو پھر انکی تباہی بھی نا گریز ہے.

٥. اگر مکتی کے ادوار  نہیں چکراتے، تو پھر مکتی کا حال خود ایک قفس بن جاتا، جس میں سے روح واپس نہیں لوٹ سکتا.

٦. اگر ہمیشہ کے لئے بار قرار رہے، تو مسرّت کا قدر بھی کم ہو جاتا ہے. نوٹ کیجئے کے اہتما ایشور نہیں ہے جو کہ اس مسرت کو مکمّل طور پر جان سکتا ہے. مسرت کا لطف اٹھانے کی ظرفیت بھی اہتما میں محدود ہی ہے. لہذا، صرف مکتی کا باز آنا ارواح کے فطرت کے لئے انصاف ہے.

سوال – اگر مکتی سے بھی واپسی مقرّر ہے تو پھر کوشش کیوں کریں؟ آخر یہ بھی تو فانی ہی ہے!

جواب – روح کا علم و ظرفیت محدود ہے. لہذا جو اسکے اندازے سے بالاتر ہے، اسے فانی یا موقّتی نہیں کہا جا سکتا.

اس زمین پر ہم بری کوشش کرتے ہیں کے خوشیوں کا اہتمام ہوں، ١ گھنٹے کے لئے، ١ دن کے لئے، کچھ مہینوں کے لئے، یا کچھ سالوں کے لئے. صرف ١٠٠ سال کی زندگی کے لئے ہم اتنا انتظام اور ترقیب سازی کرتے ہیں، یہ جان کر کے اسکا خاتمہ ہونے والا ہے. آج کھا کر کل کی غذا کے لئے فوری طور پر بند و بست کر لیتے ہیں.

جب اتنے مختصر مدّت کے لئے ہم کوشش کرتے رہتے ہیں، تو پھر کیوں نہ اس وسیع اور عالیشان دور کے لئے بھی جو کہ ہمارے لئے غیر قابل ا تصور ہے، تیّاری اور کوشش کریں؟

سوال – مجھے آپکے دلیل نمایاں لگتے ہیں. لیکن میں مکتی کا دوسرا تصور کا حامی ہوں. مَثَلاً مجھے ابھی تک یہ اعتقاد نہیں کہ مکتی ابدی ہے. میں یہ بھی مانتا ہوں کہ روح اور ایشور اصل میں ایک ہیں. دوسرے بھی کچھ ایسے نقاط ہیں جو آپکے نظریہ سے الگ ہیں. کیا کیا جاۓ؟

جواب -

١. ایسے اختلافات فقط اصطلاحات اور محاوروں سے ابھرتے ہیں جو کہ ایسے تصورات کو سمجھانے کے لئے دے جاتے ہیں، اور جنکو درست سمجھنے کے لئے الی ترین قسم کا ذہنی کونٹرول کی ضرورت ہے.

٢. مکتی کا اصلی روپ صرف اس وقت پتا چلیگا جب ہم وہاں تک پہنچ جایں. لیکن ایک بات واضح اور غیر مبہم ہے – کہ یہ جہاں جو نظر آ رہا ہے، وہ سب کچھ نہیں. اس جہاں کے اس پار کچھ اور بھی ہے، اور ہماری ہستی جنم اور مرگ سے فراتر ہے. لہذا، سبھی کو مکتی کے لئے جینا چاہیے.

٣. اس سے مزید دانش صرف ذاتی کوشش اور خود شناسی سے آے گا.

لہذا، اگرچہآپکے خیالات الگبھی ہیں، فکر مت کرئے. اختلاف نظر اور تصورات کے روپ اور ترتیب سے قطع نظر،  اس مکتی کو پانے کے لئے تمام حالیہ فرائض اور زممداریاں ہم دونوں کے لئے دقیقاً ایک ہی ہیںجہالت کو مٹانے کی جد و جہد.

لہذا، سامنے راہ ایک ہی ہے ہم دونوں کے لئے، چاہے منزل کے بارے میں ہماری  سوچ مختلف ہی کیوں نہ ہوں.

جو بھی ہو، یقیناً ہمارے لئے بہترین اور فائدے مند ہوگا. تو آئے ملکر کوشش کریں اس مشترکہ راہ پر.

سوال – مکتی ایک جنم میں حاصل ہوتا ہے یا کئی جنم لگ جاتے ہیں؟ 

جواب – کئی جنم لگ جاتے ہیں. کیونکہ ہر سنسکار کے خاتمہ کے لئے ایک مقرّر مدّت اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے. لیکن یہ بات نوٹ کیجئے کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کتنے جنم اس جستجو میں بتا چکے ہیں. لہذا ہمیں زوردار کوشش کرنی چاہیے کے اسی زندگی میں مکتی حاصل کر لیں. آخر کوششوں کی زور اور توانائی میں ہی اس فرض کی تکمیل ہوتی ہے.

سوال – اگر متعدد جنم لیتے ہیں، تو گزشتہ جنموں کی یاد داشت کیوں نہیں ہے ہمارے پاس؟

جواب -

١. روح کا مہدوں علم ہے اور اسلئے دماغی ذخیرہ کے علاوہ اسے اور کچھ یاد نہیں ہوتا. پچھلے جنموں کو چھوڑو، ہمیں ماں کی کوکھ میں بتایے وقت کا بھی کچھ یاد نہیں، بچپن کا بھی ٹوٹے پھوٹے یادوں کا ذخیرہ ہے، سپنے بھی اکثر یاد نہیں رہتے، بیتے سالوں کے کرداروں کی یادداشت بھی مسلسل نہیں. اگر میں پوچھوں کے اس جنم کے ١٢ سال بعد، چوتھے ماہ کے تیسرے دن کے ٣ بج کر ٥ منٹ کو اپنے کیا کیا یا سوچا تھا، تو آپ بلکل جواب نہیں دے پاینگے. حقیقت یہ ہے کے کچھ گھنٹوں پہلے کے خیالات کا بھی آپ حساب نہیں دے پاینگے. کیا اسکا مطلب ہے کے آپ اس وقت موجود نہیں تھے؟

٢. ہم ایشور کو شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ہمیں بیتے جنموں کا یاد نہیں ہے، تا کہ ہم تازگی کے ساتھ اس جنم میں کام کر سکیں. اسی زندگی کے بیتے کرداروں، خیالات اور حادثوں کی یاد سے ہم مایوس ہو جاتے ہیں، اور انکو بھول جانے کی کوشش کرتے ہیں. اب سوچئے اگر بیتے ساری زندگیوں کا درد کو ہم یاد کر سکتے تھے. محض انکو یاد کرتے کرتے ہم مر جاتے!

لہذا، بیتے جنموں کی یادداشت ایشور کا محکمہ ہے. ہماری محکمہ ہے کہ ارادے کی حرکت سے جہالت کو دور کریں، پاکیزہ اور الشان اعمال کے ذریعہ.

سوال – جب ہم گزشتہ اعمال کو یاد بھی نہیں کر سکتے، تو پھر ایشور ہمیں انکی سزا کیوں دلواتا ہے؟

جواب – جب آپکو بخار ہوتا ہے، آپ علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں. آپکو یہ جانکاری نہیں ہے کے اس بخار کا کیا سبب ہے، یا کس طرح وہ آپ پر آ گرا. لیکن آپ بالکل اس بات کا اعتراف کر لیتے ہیں کے کوئی خطہ ہو چکا ہے جسکی وجہ سے یہ بخار آ پہنچا ہے.

اسی طرح، ایشور کے کرم کا قانون کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری نہیں کے ہمیں گزشتہ اعمال کی یادداشت ہو. اس دنیا میں بے شمار اقسام دیکھنے کو ملتے ہیں، مختلف سماجی حیثیت، صحت، انواع، وغیرہ. اور ہم اس یقین پر پہنچ سکتے ہیں کہ سب کچھ اتنے منصوبہ بندی اور ترتیب کے ساتھ چلتا ہے، اور انکے اتنے پیچیدہ تفصیلات ہیں، کہ جدید سائنس کے بڑے لاف و گزاف کے باوجود ہم اب تک سطح کے ١% کو بھی کرید نہیں پاے ہیں.

دنیا کے اقسام اور منصوبہ بندی کے اندازہ لگاکر ہم اس اختتام پر پہنچتے ہیں کہ اس عظیم نقشے بنانے والے نے ہمارے لئے مختلف حالات فراہم کیا ہے، ہمارے گزشتہ اعمال کے مطابق.

ہوشیار لوگ جو اندرونی تجزیہ کرتے ہیں، وہ اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ اچھے اعمال کے نتائج فورا ملتے ہیں، اور برے اعمال کے مضر تائج بھی کم مدّت میں مل جاتے ہیں. تو پھر اس جریان کو اس زندگی سے طولانی دور کیوں نہیں دیا جا سکتا؟

لہذا، اگرچہ ہمیں بیتے زندگیوں کا کچھ یاد نہیں، یہ کائنات خود اس حقیقت کا گواہ ہے کہ ایشور مسلسل ہمارے اعمال کے مطابق ہمیں مختلف اقسام کے حالات فراہم کرتا رہتا ہے، اس زندگی کے بیت جانے کے بعد بھی، اور آیندہ جنم کے شروعات کے بعد بھی.

سوال – جب بے شمار زندگیوں کی فرصت ہے، اور جب ایشور ایک کے بعد دوسرا زندگی دیتا رہیگا، تو پھر مکتی کے لئے کیا جلدی ہے؟ میں اپنے موجودہ حال میں بھی خوش ہوں. تو ایسے ہی رہنے دیجئے.

جواب – لگتا ہے ایسے سوال کسی ہوشیار ایم. بی. اے. طالب علم نے کیا ہو جو ابھی ابھی اقتصادیات کے کالج سے نکلا ہو! لیکن ایشور ان سے بھی ہوشیار ہے.

اس دنیا میں یا تو آپ ترقی کرتے ہیں، یا آپکا زوال ہوتا رہتا ہے. استحکام بغیر ترقی بھی زوال کی طرف بڑھتا رہتا ہے. اس جہاں کو ہی دیکھ لیجئے، آپ ایک ننھے سے بچے کے ساتھ کھیلنا پسند کرتے ہیں. وہ کتنا پیارا اور خوبصورت ہے. لیکن اسکے دلکش اور دلنشیں صفات کو صرف کچھ مہینوں تک ہم منا سکتے ہیں. تصور کیجئے اگر یہ بچا سالوں تک ننھا اور طفلانہ ہی رہے، تو کیا ہوگا؟ ہم سب گھبرا جاینگے اور یہ احساس ابھرتا ہے کہ یہ کوئی عجیب سا بیماری ہے. ہم سب چاہتے ہیں کے بچے صحتمند طریقه سے بڑھے ہوتے چلیں، اور ایشور بھی ہمارے لئے اپنے مخلوقات کے ذریعہ یہی چاہتا ہے.

تجارتی معاملات میں بھی اگر کوئی کمپنی یا شرکت سال در سال ایک ہی سطح پر کارکردگی کرتا رہے اور اس کارکردگی میں اضافہ نہ ہو، تو اس کی تشخیص اور ارزش میں کافی نقصان ہونے لگتا ہے.

اسی طرح اگر ہم فعالانہ طور پر ترقی میں لگاتار زور نہ ڈالیں، تو اصل میں ہمار نقصان ہوتا رہتا ہے. لہذا، اگلا جنم اس جنم سے بدتر ہوگا. انسانی زندگی کے حصول کا جواز پیش کرنے کے لئے بھی ہمیں فعالانہ کوشش کرنا پڑتا ہے.

سوال – کیا حیوانات کو مکتی نہیں ملتا؟

جواب – جی ہاں، انکو مکتی ملتا ہے. کیونکہ ہر مخلوق میں روح برابر اور یکساں ہوتا ہے. لیکن وہ مکتی کی جد و جہاد صرف انسانی جنم میں کر سکتے ہیں.

یاد رکھیے، انسان واحد مخلوق ہے جو قوت ارادے کے بل پر نجات حاصل کرنے کی قابلیت رکھتا ہے. باقی انواع مخلوقات مراکز علاج یا شفا خانے جیسے ہیں، جہاں وہ صرف اپنے اعمال کے نتائج بھگت سکتے ہیں، تا کہ انکے الجھے ہوئے سنسکار پاک ہو جاۓ.

لہذا، جو انسان کسی لات یا عادات میں الجھ چکا ہو، وہ اسی نوع کے مخلوق کے جسم میں جنم لیتا ہے، تا کہ اسے ان اثرات سے چھٹکارہ ملنے کا موقع دیا جاۓ. جب یہ سنسکار ایک دہلیز تک کم ہو جاۓ، تب وہ انسانی زندگی شروع کر لیتا ہے جس میں اور کوشش اور جد و جہاد کا موقع دیا جاتا ہے.

اسی لئے تمام بنی نوع انسان کو اس ہدف سے زوردار کوشش کرنی چاہئے کہ وہ پھر سے انسانی زندگی سے نوازا جاۓ، اور اپنا سفر جاری رکھ سکے. انسانی جنم سے زیادہ قیمتی چیز نہیں ملتا، اور ہمیں اس سنہرے توفیق کا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے.

سوال – لیکن جہالت میں بھی خصی اور سکوں ملتا ہے. دولتمند آدمی ایش و آرام والی بستر میں سوتا ہے، لیکن وہ خوش نہیں. دوسری طرف ایک مزدور پتھریلا زمین پر چین کی نیند سوتا ہے. جنگل میں حیوانات بے فکر اور خوش رہتے ہیں. لیکن انسان مسلسل فکرمند رہتے ہیں. تو پھر علم اور تفکر کے بجاۓ جہالت بہتر ہے.

جواب – یہ بچگانہ منطق ہے.

١. دولتمند کو مزدوری کی زندگی اختیار کرنے کا موقع دیجئے، اور مزدور کو  جھٹ سے دولتمند بننے کا. وہ دولتمند آدمی کبھی نہیں مانگا، لیکن مزدور فورا اس موقعے کو چھین لیگا. اگر دونو کو ایک جیسا خوشی ہوتا، تو ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی جگہ سے ہٹتا نہیں.

٢. کوئی بھی عقلمند آدمی جانور نہیں بننا چاہتا، کیونکہ انسان جانوروں کے نسبت عالی طرح کے خوشیاں کا تجربہ کر سکتا ہے، جسکا جانوروں کو تصور بھی نہیں.

٣. دولتمند کی ناخوشی کا سبب دولت نہیں، بلکہ تفکر کا غلط طریقہ ہے. یہ غلط طریقہ انکے اپنے کرم اور اعمال کا نتیجہ ہے.

٤. جہالت خوشیوں کے حصول پر حدود ڈالتا ہے. آتماؤں کا فطرت ہی یہ ہے کے وہ کم علم سے علم زیاد کی طرف بڑھتے جاۓ. ایک سال کے بچے کے بازیچے سے آپکو ابھی خوشی نہیں ملتا کیونکہ آپکا علم اور دانش بڑھ چکا ہے. جو لوگ جہالت کو خوشی مانتے ہیں، ان کو در اصل اودیا (یعنی جہالت) کے بارے میں ٹھیک معلومات نہیں ہے.

لیکن اگر آپ عالی ودیا (علم) کی جستجو کرتے رہیں، تو آپکو مزید خوشی بھی ملتا رہیگا. اسکے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں.

سوال – سورگ / نرک یا جنّت / جہنّم کے کیا معنی ہے؟

جواب – سوا کا مطلب خوشی سے ہے. خوشیاں پانا سورگ ہوتا ہے.

دکھ پانا نرک ہوتا ہے.

ان کا حوالہ کسی فرضی مقام یا جگہ سے نہیں. یہ وہ احوال ہیں جنہیں ہم اسی وقت خود کے لئے بناتے ہیں، کوششوں اور ارادوں کے ذریعہ.

اور جب ہر لمحہ سورگ کی جستجو مے رہنے کی عادت کو تشکیل دیتے ہیں، تب جہالت کے جڑ مٹ جاتے ہیں اور ہم ایشور کا انتہائی سکوں اور مسرّت پا لیتے ہیں.

ہم اشتیاق کے ساتھ لوگوں سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ موت کے بعد ملنے والی جنّت یا جہنّم جیسے فرضی زمان و مکان کے بھرم یا فسون کو اسی وقت ترک کر دیں. آپ اس بات کو ماننا بینڈ کر دیجئے کہ جو بھی آپکے تصوّرات یا عقیدہ سے موافقت نہیں رکھتا، وہ جہنّم میں ہمیشہ کے لئے سزا بھگتنے کو مجبور ہوگا. تمام عقیدوں اور تمام اقوام سے محبّت یا کم سے کم برداشت کرنا سیکھو، اس حد تک کے وہ مجرمانہ سلوک یا بدمعاشی نہ کریں. تمام روحوں کے لئے ہمدردی رکھنا ایک ناگزیر شرط ہے، جسکے بنا پر حال ہی میں جنّت پایا جا سکتا ہے، اور پھر مکتی یا موکش میں ایشور کی سعادت.

سوال – اچھا. میں سمجھ گیا کہ نجات کے لئے جہالت کو تباہ کرنا ضروری ہے. کیا یہی وجہ ہے کہ دور کہیں بس کر دھیان اور تمرکز کا ریاضت کرنا پڑتا ہے تا کہ نجات مل جاۓ؟

جواب – وید کا علم کا معنی یہ نہیں ہے کہ کچھ آیت رٹ لیں یا چند تصورات کو ذہنی طور پر سمجھ لیں. بلکہ اسکے معنی جامع ادراک یعنی پوری سمجھ سے ہوتا ہے، خیالات سے، قول سے اور فعل سے — علم، فعل اور تفکّر میں.

یہ سائیکل چلانا سیکھنے کے جیسے ہوتا ہے. فقط سائیکل کے شکل اور اسکے فعالیت کے بارے میں کتاب پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں. پریکٹس اور عمل کی ضرورت ہے. اسکے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں.

اسی طرح، نجات کے لئے یہ ضروری ہے کے اسی دنیا میں جیو، کمل کے پھول کی طرح، ارد گرد کے کیچڑ جدا، اور سسٹم یا اسکے ماحول کو پاک کرنے کی کوشش میں لگے رہیں. فرار ہوکر دھیان یا میڈیٹشن کے پیچھے بھاگنا، جب کہ آپکے فرائض کا تقاضہ یہ ہے کہ یہیں شامل ہوکر جت جاؤ، یہ تو بے حسی کی طرف لئے جاتا ہے — مکتی کے ٹھیک مخالف.

ایک محدود عرصے کے لئے شاید تنہائی فائدے مند ہو سکتا ہے، ایک مخصوص مقصد کے لئے. لیکن دیگر ارواح سے تعاون کے بغیر مکتی پانا نا ممکن ہے. ویدوں میں ایسے بے شمار سوکتہ ہیں جو صرف تعاون اور ہمکاری کے اس موضوع پر دھیان دیتے ہیں. جو لوگ اس بنیادی شرط کو نظر انداز کرتے ہوئے تنہائی میں مکتی کی کوشش کرتے ہیں، وہ تو صرف اداسی اور غم میں ڈوب رہے ہوتے ہیں.

سوال – تو پھر ان تمام سنیاسیوں اور دانشور منیوں کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے، جو کہ جنگلوں اور ویرانیوں میں جا کر دھیان اور پرستش کیا کرتے تھے؟ کیا وہ بھی فرار پسند انسان تھے؟

جواب – اگر آپ اس زمانے کے سنیاسیوں اور راہبوں کا ذکر کر رہے ہیں، تو یہ مکمّل طور پے واجب ہے کے وہ کچھ عرصے کے لئے سماج سے دور چلے جایں تا کہ تر و تازہ ہوکر واپس لوٹ آ سکے. یا پھر بڑھاپے کی وجہ سے سماج میں فعالانہ طور پے شریک ہونے کی قابلیت نہیں رکھتے، اور اس لئے وہ کہیں اور سکوں اور خود مختاری کے ساتھ اپنا سادھنا میں لگے رہتے ہیں، یہ بھی واجب ہے.

لیکن اگر وہ تندرست ہوتے ہوئے بھی مستقل خلوت اور اکیلاپن کی راہ چنتے ہیں، تو یہ سراسر بے حسی اور فرار کا راستہ ہے. ویراگیا (لا تعلقی) صرف خواہشات سے ہونی چاہیے، کردار سے نہیں.

اس طرح کا مصنوعی خلوت ایشور کی توہین ہے. اگر ایشور چاہتا تھا کہ تنہائی اور خلوت آپ کے لئے بہتر ہو، تو وہ آپکو کسی ویران یا سنسان سیارے پر جنم دیتے، نہ اس ہجوم اور مختلف جاوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا سماج میں، جہاں مسلسل مسئلے اور چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے. اسکے علاوہ، جو علم آپ حاصل کرتے ہیں، وہ بھی اسی دنے کے ساتھ تبادلہ سے ہی مویسّر ہے. اگر آپ اس تبادلہ کو روک دن، تو پھر مزید علم کی گنجائش نہیں.

اگر آپ ایک آدرش اور مثالی سماج میں پیدا ہوئے ہوتے، جہاں سب لوگ اپنے اپنے فرائض کو معقول طور پر نبھا رہے ہوں، تو شاید آپ کو یہ فرصت ہوتا کے آپ اندر کی دنیا کے اکتشاف کے لئے ہجوم سے دور کہیں ایک آشیاں ڈھونڈ نکلیں.

لیکن آج دنیا میں اتنا فساد، عدم تحمل، نفرت، غم و اندوہ، بے اخلاقی وغیرہ ہے، کہ صرف دماغی طور پے بیمار یا ڈرپوک شخص ان مشکلات سے بھاگ نکلنا چاہیگا، لیکن ایشور چاہتا ہے کہ ہم انکا سامنا کریں، ان پر عمل کریں، اور اس طرح ویراگیا حاصل کرکے جہالت کو مٹایں.

یہ افسوس کی بات ہے کے روحانیت کے نام میں ہمارے کارروائی پر مبنی دیش کے اہل کردار شہریوں کا ایک بڑا مجمع اپنے قومی فرائض کو چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں. اس روداد میں وہ نہ صرف اپنی ترقی میں تاخیر لا کر با حسی کی طرف دوڑتے ہیں، بلکہ دیش اور سماج کو بڑا نقصان پہنچاتے ہیں. یہی وطن فروشی کا سبسے دردناک چہرہ ہے جس سے ہم مواجہ ہیں.

اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں، تو بے شک یہ بات واضح ہو جاتا ہے کہ وہ تمام ریاکار بابا، گرو، اور سدھ جو ذہنی سکوں کی کھوج میں فرار کر چکے تھے، یا جو عرفان کے نام میں چھوٹی چھوٹی جادوئی کارناموں کی نمائش میں مبتلا رہتے تھے جب کہ یہ دیش اور سماج نہایت ہی ہنگامی دور سے گزر رہا تھا،  یہ لوگ در اصل روحانیّت کے بد ترین مثالیں ہیں. بد بختی سے ہمارے سماج آج بھی ایسے نمونیہ سے سیلاب زدہ ہے. یہی وجہ ہے کہ بجاۓ اسکے کہ اس قوم کو سبسے مضبوط روحانی بنیاد سے نوازا گیا ہے، وہ اب سبسے کمزور اور بے غیرت دیش ہے جو ہزار سال سے مسلسل تماچہ کھاتہ آ رہا ہے.

ہمارے اصلی رول ماڈل ایسے افسانے اور علامات ہونی چاہیے جنہوں نے دیش اور قوم کے چنوتیوں سے ٹکرا کر مقابلہ کیا، اور بزرگ قومی ارمان کے لئے اپنے خودی کو جلا کر قربان کیا. یہی مکتی کے اصلی طالب تھے، اور انہوں نے اپنے کردار سے ودیا اور ویراگیا جیسے تصورات کا ٹھوس ثبوت اور مثالیں پیش کئے. یہ ہمارے اصلی سنت ہیں. میں رانا پرتاپ، شیواجی، بسمل، اشفاقالله، نیتاجی، آزاد، اور سوامی دیانند جیسے بے شمار ویروں اور افسانوں کا ذکر کر رہا ہوں.

سوامی دیانند ہر روز میلوں دور دوڑتے تھے، اٹھک بیٹھک کی ورزش کرتے تھے، مدگار کی ریاضت کرتے تھے، اور سخت ٹریننگ زندگی بھر کرتے رہے. کیوں کہ مکتی کا تصور صرف مضبوط، قوی، اور کوشاں لوگوں کے لئے ہے.

یہ آرزو ہے کہ ہم سب اسی طرح کے قدرتمند، طاقتور، اور نا خود غرض مکتی کا ہدف سامنے رکھ کر مشن اپنے لیں، جو کہ صرف اپنے آپ کے لئے نہیں بلکہ سماج، دیش اور تمام انسانیت کے

The 4 Vedas Complete (English)

The 4 Vedas Complete (English)

Buy Now

لئے ہو! ایشور ہمیں وہ طاقت، اشتیاق اور پاکیزگی اسی وقت نوازیں!

Print Friendly

More from Agniveer

Comments

  1. rajesh Kumar sharma says

    sabhi ko hamara pardam jitney log milt he utnahi koyi nayi kahani bana dete he ham sabhi aak he sare sansar ko chalane bali sakti aak jobhi bade bade log dharti par aye bo insan ko samjhane ko dharti par aye aur chale gaye par insan nahi sudhra bo subhe se sam tak kitna galat karta he bo janta he me galat kar raha hu bhir bhi karta he matr paisa hi usko har chij ka rasta dikhta he insan paise ke pichhe bhagta he bhi usi paise se galat kam karta he char charpatni rakhta he aapni beti barabr koyi ladki hogi uskobhi galat tari ke se ham sabhi thik he to aaj bhi satyug he kisi ko mat sudharo aapne aapko sudharo jab ham sabhi sahi he to sab thik ho jaye ga galat se alag ho jai kuchh na bole aak din galat badlega sansar ko chalane bali jo sakti he bsne koyi jat ya majhab nahi banaya ye to ham ne banaya he bahi baje he jo barbad ho rahe he ham aapne aapko sudhare sab sudhar jaye ga koyi insan asa nahi he jo aapne aapko dekhta ho me kiya kahyu jab me sochta hu to yahi bolta hu insan paise me khojta he jesa atahe besahi chala jata he khud paresan dusroko paresan kartahe aur chala jata he me mera mereme khatm sabhi mil jaye to thik ho jaye dharm ke nampar dhande ban gaye he log aapne aapko nahi sudhar pata ham sochte he hamare bache achhe ho ham achhe nahi to bache kase achhe ho ham aapne aane aapko sudharna he yahi har bedka purnka kehna he tabhi me jo likh raha hu kese likhu samajh nahi aata par aap samjh jarul lena ham sab aak he akta me rahe koyi kahi kahe insan he insan banker madad karo jo parmpita parmatma ne diya he uska anad lo aur such bhogo

Please read "Comment Policy" and read or post only if you completely agree with it. Comments above 2000 characters will be moderated. You can share your views here and selected ones will be replied directly by founder Sri Sanjeev Agniveer.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

 characters available

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>