ویدک مذہب پر عمومی سوالات

This article has been translated by Aatish (آتش).

Original post in English is available at http://agniveer.com/common-questions-vedic-religion/

آئیے گذشتہ مضمون “ویدوں کا دین کیا ہے” میں ذکر کۓ گۓ غلط فہمیوں کا تجزیہ کریں اور ویدک مذہب کے کچھ عرفانی نقطوں کو جاننے کی کوشش کریں۔

 ویدک مذہب ہندو عقائد سے مختلف کیسے ہے؟

اس کے کئ وجہ ہیں –

– اگر آپکا ماننا ہے کہ ہندو عقائد کا 4 ویدوں سے کوئ رشتہ ہے، پھر بھی ان ویدوں میں لفظ “ہندو” کا کوئ نام و نشان نہیں۔ یہ تو بہت ہی حالیہ اصطلاح ہے۔ لہذا وید ہندواسم کے والدین کے صورت میں علیحدہ ہیں۔

– ہندواسم کے مختلف تشریحات ہوتے ہیں، جن میں سے ایک ہے بر صغیر ہندوستان اور اسکے ثقافت سے وفاداری۔ لیکن ویدک دین ہر انسان کے لۓ ہے – چاہے وی بھارتورش کا ہو یا زامبیا کا، یا سویڈن کا یا پھر سعودی عرب کا۔

– یہ سچ ہے کہ ہندو مذہب کے بنیادی جوہر ویدک مذہب سے حاصل کیا گیا ہے۔ پھر بھی اس بنی آدم کو ویدک بلایا جاۓ گا جسنے کبھی بھی ہندوستان کا دورہ نہ کیا ہو، یا جسنے کبھی بھی کسی ہندوستانی متن پڑھا نہ ہو، لیکن جو اس بنیادی ویدک اصول کا عمل جاری رکھتا ہو کہ باطل کو رد کرتا رہے اور حق کو قبول کرتا رہے۔

مختسرا، ایک اصلی ہندو ویدک ہو سکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ  ہر ویدک ہندواسم سے متعلق ہو۔

   کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئ 4 ویدوں پر ایمان لانے سے انکار کرے اور پھر بھی وہ ویدک کہلاۓ؟

جی ہاں۔ اسکے کئ وجوہات ہیں۔

– پورے ویدوں میں ایسا ایک بھی منتر نہیں ہے جو دور سے بھی کہنا ہے کہ صرف وہ لوگ جو ویدوں میں یقین رکھتے ہیں ویدک مذہب کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہاں، ایسے منتر ضرور ہیں جو توضیح کرکے ہمیں اس نتیجہ کی طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ ویدک دین اور 4 ویدوں کے مندرجات — دونوں ایک ہی چیز کا حوالہ دیتے ہیں۔

– چار وید ہستی کے عالی سطحوں کے کلیدی کوڈ پر مشتمل ہیں۔ وہ فزکس کے تفصیلی نصوص جو بہت واضح تصورات کے علاوہ کئ مرموز باتوں پر مشتمل ہیں، جن پر صرف مکمل ریاضت اور افہام و تفہیم کے بعد مہارت حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس ویدک دین کا بنیاد یا سرچشمہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے چھٹے کلاس کے طالب علم کا ہنسی مزاق اڑایا جاۓ گا اگر وہ آئنسٹائن کے رلٹوٹی  تھیوری کے کتابچہ (جو کہ گوگل سے ڈاؤنلوڈ کیا جا سکتا ہے) کو رٹ کر یہ اعلان کرے کے فزکس پر مہارت حاصل کیا، ویسے ہی اگر کسی نے ویدوں پر یقین کرنے کا اعلان کر لیا قبل از این کہ وہ ان کے بارہ میں معرفت حاصل کر لے، ہنسا جاتا ہے۔

آج کل زیادہ تر لوگ جو ویدوں پر عمل کرنے کا دعوی کرتے ہیں اسی زمرہ میں سے ہیں۔ بور اسی لۓ انکے اونچے لمبے دعووں کے باوجود دیکھنے میں آتا ہے کہ معشاے میں انکے اثرات اور طاقت کا حالت قابل حقارت ہے۔

ویدوں کا ایک ایماندار ایر ہوشیار پیروکار سادگی سے یہ دعوی کر سکتا ہے کہ منطقی طور پر دستیاب معلومات کے تجزیہ کرنے سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ وید چند انسانوں کی طرف سے کچھ  بے ترتیب مخلوق نہیں ہے۔ اسکے بجاۓ وہ بنیادوں سے لیکر عالی سطح کے علم کا انبار کا حامل ہے۔ اور اگر یہ  نہیں سمجھا جائے، تو ہر دوسرے نظریہ میں تضادات اور الجھنیں پیدا ہو جایںگے حتی کہ ایک حد تک صحیح اور غلط کا تفریق کرنا مشکل ہو جاے گا۔ اور اسی لۓ ویدوں کے معنی کی تلاش میں کوشش جاری رکھنا چاہیۓ۔

لیکن یہاں تک صرف ایک خیال کے مسلسل عمل کے نتیجے کے طور پر پہنچا جا سکتا ہے، نہ کہ اس ہٹ سے اندھا شروعات۔

– اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہے – گزشتہ علم، ماضی کے تجربات، سوچ کی صلاحیت، ترجیحات وغیرہ – جو کہ ایک فرد کی سوچ کے عمل کو رنگ دیتا ہے، اور اس وجہ سے یہ سب کے لئے واضح نہیں کہ ویدوں کو الہی یا حتمی نصوص کے طور پر قبول کر لیا جاۓ جس طرح ہم میں سے چند ایک کے لئے ہو۔

– سوامی دیانند نے ایک بار کہا کہ سب لوگ علماء تو نہیں بن سکتے لیکن سبھی لوگ یقینا دھارمک (ایماندار) بن سکتے ہیں۔ تو اگر ایک شخص بہترین ارادوں کے ساتھ اور ایمانداری سے ویدوں کی اچوکتا سے انکار کرے، وہ شخص تب بھی ویدک عمل کر رہا ہوگا۔ اصل میں ایسے لوگ ان اندھے جھوبڈ کے مقابلے زیادہویدک ہیں، جو ویدوں کی پیروی صرف اس وجہ سے کیا کرتے ہیں کہ انکو ایسابتایا گیا ہے۔ اگر ایسے اندھے پیروکار کہیں اور جگہ جنم لیتے تو وہ کسی اور متن کا اندھا پیروی کر لیتے۔

– اگر ویدوں میں یقین ویدک مذہب کے پیروکار ہونے کے لئے ضروری ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو جنکو وید جغرافیہ یا غربت وغیرہ کی وجہ سے دستیاب نہ ہو، وہ ویدک مذہب کے پیروکار نہیں ہو سکتے۔ اس طرح ویدک مذہب صرف خوش قسمت والوں کا دین بن جاتا ہے۔ اور اس وجہ سے، ویدوں میں ہی پایا خدای تعالی کا دعوی کہ ویدوں کے علم تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے، صنفی یا پیشے یا پیدائش کے قطع نظر، یہ غلط ہو جاتا ہے!

– حقیقت میں، چار ویدوں کا پورا تصور یہ ہے کہ ان کا علم ہمارے اندر پہلے سے ہی اسی طرح موجود ہے جیسا کہ تیلیاں ایک پہیۓ کے مرکز سے جڑے ہوۓ ہیں۔ ہمارے ذہن کے اختیارات کو ہوشیاری سے ورزش دیکر، ہم اس علم کا انکشاف کر سکتے ہیں جو ہمارے اندر پنہان ہے۔ یہاں یجر وید 5۔34 کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ تو 4 ویدوں کا بیرونی مطالعہ بھی اس اندرونی علم کے انکشاف کا ایک طریقہ ہے۔ ظاہری ویدیں کو رٹکر یا کسی کلمہ کو چلا چلا کر بھی یہ کرنا ممکن ہے۔ یا پھر باطل کو مسلسل رد کرنے کا سب سے زیادہ فطری اور پیدائشی خصوصیت کے ساتھ شروع کرتے کرتے، علم حاصل کرنے اور بنیادی ارکان تعمیر کرنے کے لئے قابل قدر اعمال کرتے رہنا، یہ ہوشیار طریقہ ہے۔ اور پھر اپنے اندرونی آواز کی ہدایت کے مطابق آگے بڑھکر ظاہری 4 ویدوں پر بھی مہارت حاصل کرنا  یا اور بھی جو کچھ ضروری ہو اسے پیدا کرنا تا کہ عالی رتبہ حاصل ہو، وہ ہوشیار روح ایسے عمل کرتا جاۓ۔

آج کے تناظر میں یہ طریقہ بہت زیادہ قدرتی اور ہم میں سے بیشتر کے لئے عملی ہے۔ سوامی دیانند جیسے شخص بھی جو کہ ویدوں کے معروف ترین عالم بنے، اس نقطہ نظر کی پیروی کرتے تھے۔

جب کہ ویدوں کے کئ منتر کے معانی کم و بیش بدیہی تعبیر رکھتے ہیں جنکو ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں، ہر منتر کک گہرا معانی بھی ہوتا ہے جسکا تفاہم صرف مزید ذہنی تربیت اور کنٹرول کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک منتر ہے جو کہتا ہے کہ جس طرح صرف ایک وفادار بیوی اپنے شوہر سے قریب ہو سکتی ہے، ویسے ہی ویدوں کے معانی صرف مستحق انسانوں کے سمجھ میں آتا ہے۔ تو زمین پر کوئی شخص ویدوں کو کامل طور پر سمجھنے کا مناسب دعوی نہیں کر سکتا ہے۔ ہر کوئی صرف ایک ابتدائی طالب علم ہے۔ اسی لۓ کسی کو یہ مجاز نہیں کے وہ دوسروں پر سب سے پہلے ویدوں کے لئے – جو کہ حتمی معیارات ہیں -  بیعت کا شرط ڈالیں۔ یہ اس بےوقوفی کی طرح ہوگا کہ اگر کسی بچے کو ابتدائ تعلیم کے دبستان میں داخلہ سے انکار کیا جاۓ صرف اسلۓ کہ اسے یہ یقین نہ ہو کہ –

Sin^2 y + Cos^2 y = 1!

توہاں، الوہی یا حکمت کے معیارات کے مجموعی طور پر چار ویدوں میں یقین ہوناہم میں سے بہت لوگوں کے لۓ بعد میں ایک فطری نتیجہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہویدک دین کے مکتب میں داخل ہونے کا اولین شرط نہیں ہے۔

اولین شرط صرف ایک ہے – باطل کو رد کرنے سے حق کو قبول کیا جاۓ۔

 

  کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئ خدا پر ایمان لانے سے انکار کرے اور پھر بھی وہ ویدک کہلاۓ؟

جی ہاں، اور اسکے وجوہات مندرجہ بالا کے طور پر تقریبا ایک ہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایک اضافی وجہ ہے –

– ویدوں کا خدا بائبل، قرآن یا پرانوں کے خدا سے مختلف ہے۔ زیادہ تر لوگ جب خدا میں یقین کرنے سے انکار کرتے ہیں، دراصل وہ مذہب کے نام میں پھیلے ہوۓ وہم اور اندھا اعتقاد کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ مغرب میں خدا اور مذہب کی بدنامی صرف بائبل کے خدا کے لۓ ہے۔ یہ مناسب ہے کیونکہ بائبل کے خدا کی بہت سی متضاد خصوصیات ہیں اور بعضی اوقات ایک بشر انسان کی طرح کارروائیوں کا سلسلہ پر رچا گیا ہے۔ لیکن ویدوں کا خدا مختلف ہے۔ در حقیقت، یہ لفظ “خدا” شاید مناسب نہیں ہے ویدوں کے ایشور کے تصور کے لۓ۔

ویدوں کا تصور زیادہ فطری اور بدیہی ہے – جہان کے تغییر ناپذیر قوانین کا ایک منبع ہے، جو قوانین اس دنیا اور ہم پر حاکم ہیں۔ فزکس کے دانشور اسے محض طبیعت کے قوانین قرار دیں۔ اب ویدوں کا ہوشمند پیروکار اس منظر کا ایک مثبت پہلو روشن کرتا ہے یہ کہکر کہ ان ناقابل تعییر  قوانین کا سر چشمہ اس طرح فعال ہے کہ ہم نیکی اور صحیح اعمال کے ذریعہ اپنے خوشی میں اضافہ  کر سکتے ہیں۔ ہمیں نہ تو یتیموں کی طرح جوکھم میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور نہ ہی ہماری اعمال کے پھل سے بچنے کے لئے اجازت دی ہے۔ تو وہاں ایک اچھی طرح سے قائم خوشبینی کا سبب ہے کہ فطرت کے قوانین انصاف اور مدد کو یقینی بنانے ہیں۔ ہم اتنے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہم نے ارد گرد کی دنیا میں اور ہماری پیمجات رجحانات میں اس کو بہت واضح طور پر دیکھا ہے۔

لیکن کسی دانشور کے لۓ جنکو کہ ایک ایسا معاشرہ میں پرورش کیا گیا جس میں عالی وجود کے بالکل مختلف تصور ہے – ایک آدم نما شخصیت، یا من موجی بادشاہ، یا ایک جادوگر وغیرہ – وہ دانشور ایسے ویدک خدا کا تصور بڑی مشکل سے ہضم کر پاۓ گا۔ اور اس کے لئے لفظ خدا کو اس کے معنی سے الگ اور ویدوں کے نقطہ نظر میں ایک نئے معنی دینا مشکل ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر، آریا ایک بہت ہی عظیم لفظ ہے۔ لیکن جرمنی میں لوگ ہٹلر کے برداشت کی وجہ سے کسی قسم کی نسل پرستی کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے کسی نہ کسی طرح کی کوشش کریںگے۔ ایسے الفاظ بعض لوگوں میں مشکل جذبات کو متحرک کرتے ہیں، اور ان کے پچھلے روابط کے وجہ سے وہ آسانی سے نئے معنی کی تعریف کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔

اس طرح الحاد بھی حقیقت کے متلاشی سالک کا ایک قدرتی اور بجا طور پر منافرت کی  ہدایت ہو سکتہ ہے،  جو کہ اس کے ذہن اور دل و دماغ کو بے بنیاد تصور سے واپس بلاتا ہے۔ تو ملحد ہونے کی وجہ سے وہ اب بھی ویدک مذہب کے ایک وفادار پیروکار کے طور پر کام کر رہا ہے۔

دوسرےلفظوں میں، حقیقت کے جستوجو میں لادینیت یا ملحد یا خدا کے کسی دوسرے وہم وگمان کا حامی بھی ایک ویدک شخص ہے، اگر ان تصورات میں عقیدہ ایمانداری کےبعد لایا گیا جو اپنے تمام تجربہ، مہارت، اور ذہانت کے ساتھ جسکا اس وقت تکمالک ہو، پرکھ کر سمجھ میں آۓ۔

 ہون، سندھیا وغیرہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا کوئ ان صحت مند طریقوں کو اپنانے کے بغیر ویدک ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، اور اسکے وجوہات کا ذکر اس سے پہلے کۓ گۓ ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں چند اضافی وجہ ہے –

– ہون اور سندھیا بہت ہی صحت مند رواج ہیں لیکن ان کی طور طریقہ جغرافیہ اور وقت کے پابند ہیں۔ ہون کا مطلب ہے مفید مصنوعات کو جلا کر ماحول کو پاک کرنا۔ سندھیا توجہ، تمرکز اور مضبوط روحانی طاقتوں کو حاصل کرنے کے لئے خود تجویز کا ایک روپ ہے۔ اب ویدوں نے ان کے انعقاد اور عمل کا ایک مخصوص طریقے کی توصیف نہیں کیا ہے۔ ان کے روپ اور طریقے صدیوں سے مختلف شکلوں میں ڈھال دیۓ گۓ ہیں۔ لہذا ویدک دین کف ایسے کسی رسم و رواج سے منسلک کرنا انکے روح و جوہر کے خلاف ہوگا۔

– لیکن ہاں، ہون اور سندھیا صحت مند دماغ، جسم، اور ماحول کے لۓ صدیوں سے مروج طاقتور تراکیب ہیں۔ اپنے عقل کی سطح اور معیار اور ماضی کے تجربات کے مطابق، ان کی اہمیت اور حق کو سمجھنے کے لۓ اور اپنی فطرت اور مرضی کے مطابق اپنی سطح پر مناسب طریقہ کار کو نکالنے کے لئے وقت لگ سکتا ہے۔ لیکن جب تک ایسا ہو، صرف ایک کٹر دماغ کسی کو  ویدک مذہب سے خارج کرواۓ گا۔ اسکے بر عکس، کٹر دماغ والوں کے لۓ ویدک مذہب میں کوئ جگہ نہیں۔

تو جبکہیہ کہنا معقول ہوگا کہ سندھیا، ہون، صبح صبح جاگنا، دانتوں کو برش کرنا،باقایدہ ورزش کرنا ، مناسب بہداشت اور صاف ستھرے عادات پر بنا ایک طرززندگی منطقی انسان کی نیک نیتی کے نشانیاں ہیں، لیکن کسی کو ویدک مذہب میںداخل ہونے سے صرف اسلۓ روکا نہیں جا سکتا کہ اس کا کلجر ایر معاشرتی پسمنظر نے ان عملیات کے فوائد کا قدر جاننے سے محروم رکھا ہے۔

اس کے علاوہ، ویدوں نے ہم سب کے لئے سینکڑوں صحت مند سفارشات کۓ ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ہون اور سندھیا ان عملیات کے درمیان ہیں جن پر کم زور دیا گیا ہے۔ دیگر فضیلتوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے، جیسے صبح صبح معمول کا پابند ہونا، سخت ورزش کے ذریعہ ایک مضبوط جسم کی پرورش کرنا، اصول اور اخلاقیات کے معاملات میں ایک انچ بھی سمجھوتہ نہ کرنا، قوم کی ترقی اور اسکے دشمنوں کی تباہی کے لۓ مستعدی سے کام کرنا، وغیرہ۔ تو پھر کچھ چیدہ چیدہ سفارشات (جیسے 5 میل دوڑنا اور روزانہ 40 دنڈ کی ورزش) پر مشتمل کوئ دوسرا آئین بناکر ویدک مذہب سے ہون اور سندھیا کرنے والوں کو بھی خارج کیا جا سکتا ہے!

سادہ سی بات یہ ہے کہ یہ سب مخصوص مضامین کے اگلے سطح ہیں، نہ کہ ویدک مذہب میں وارد یا خارج ہونے کے معیار اور شرائط۔    

 یعنی ممکن ہے کہ آریا سماج کے ارکان ویدک مذہب کے پیروکار نہ ہوں؟

بنیادی طور پر آریا سماج عظیم افراد کے ایک ایسے معاشرے کا مطلب ہے۔ لہذا اس نقطہ نظر سے، تمام لوگ جو ویدک دین کی پیروی کرتے ہیں وہ آریا سماجی ہیں۔

اب سوامی دیانند سرسوتی نے انیسویں صدی کے آخر میں آریا سماج شروع کیا تھا تا کہ دانشورانہ لوگ قدردان اعمال میں متحد ہو جایں۔ اس طرح ان کے معیار اس وقت سب سے ابتدائی نہیں تھے بلکہ میانہ سطح کا تھا، تاکہ انکے شاگرد نہ صرف صحیح اصول کے پیروکار کے طور پر اداکاری فرمایں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان اصولوں کے اساتذہ بھی بن جایں۔ تو ویدک مذہب کے تمام میانہ اور اعلی درجے کے طلباء نے آریا سماج کو تشکیل دی۔ انہوں نے اس طرح آریا سماج کے دس نقاط پر اصولوں کا پرچم اسطوار کیا۔

لیکن انہوں نے مختلف ذرائع سے زیادہ سے زیادہ بنیادی طالب علموں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے دوسرے مختلف اقدامات میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا جو کہ آریا سماج کے تمام اصولوں کو اپنانے کو تیار  نہیں تھے لیکن جنکے نیت صحیح اور نیک تھے – یعنی وہ ویدک دین کے پیروکار تھے۔ اس طرح ان کی پروپکارنی سبھا میں چیف جسٹس راناڈے بھی شامل تھے، جو نیک انسان تھے لیکن آریا سماج کے رکن نہیں تھے جیسا کہ سوامی دیانند نے اسے تیار کیا تھا۔

مختصر سی کہانی یہ ہے کہ جو بھی آریا سماج کے دس اصولوں میں اخلاص اور سمجھداری سے وشواس رکھتے ہیں، وہ لوگ بے شک ویدک مذہب کے پیروکار ہیں۔ ایسے لوگ در اصل معاشرے کے مینارہ نور ہوتے ہیں، اور انہوں نے یہ سچائی کو مختلف اقدامات براے معاشرتی سدھار  اور آزادی کے انقلاب کے ساتھ ثابت کر دکھایا۔ سوامی دیانند معاشرہ اور وقت کے فوری تقاضوں اور نیازمندوں سے مخاطب تھے، اور آریا سماج ان اہلکاروں پر مشتمل تھا جو کے ویدک مذہب کے قابل شاگرد تھے اور علمبرداری کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جنکا عقل، دانش اور موحبّت ایک حد سے زیادہ ہو چکا تھا۔ جو بقیہ معاشرہ کے قاعد بننے کے قابل تھے۔

لیکن یہ بات ان عظیم ارواح کو ویدک مذہب کے عظیم پیروکار ہونے سے بند نہیں کرتا جو کے آریا سماج کے دس اصولوں کے پابند نہیں بن پاے، جسکے کئی وجوہات ہیں جنکا ذکر پچھلے حصّے میں کیا گیا ہے۔ لہذا آزادی کے تمام انقلابی، سماجکے سدھار کے تمام نمائندگان، اور سپاہیوں کے جھنڈ جو اپنے مادری وطن کےلئے شہید ہوئے، یہ سب ویدک مذہب کے فاخر مثالیں ہیں۔ تمام دانشور جنہوں نے اس دنیا کے رازوں  کو کشف کرنے کے لئے ایک ایماندار اور صادق رویہ اپنا کر کامیاب ہوئے، وہ بھی ویدک مذہب کے روشن مثالیں ہیں۔

نوٹ کیجئے کے ایسی بات کبھی نہیں ہے کے ایک شخص یا ویدک دین کا پیروکار ہے یا نہیں ہے. یہ بات مسلم اور عیسائی کے لئے سچ ہے. کوئی یا تو مسلم ہے یا پھر غیر مسلم. عیسائی یا غیر عیسائی.  لیکن ایک شخص اپنے زندگی کے ایک پہلو میں ویدک ہو سکتا ہے، اور زندگی کے دوسرے پہلو میں غیر ویدک. اس کے علاوہ، پیروی کے درجات  وقت در وقت بدل سکتا ہے. تو پھر ویدک دین ایک روشنی ہے. ایسا کوئی بھی جگہ نہ ہو جہاں فوٹان  (روشنی کے ذرّات) کی تعداد صفر ہو. لیکن روشنی کی شدّت وقت اور جگہ جگہ پر مختلف درجات کا ضرور ہو سکتا ہے۔

سادگی کے خاطر ہم ان شخص کو ویدک مذہب کے پیروکار قرار دیتے ہیں جو اس علم کی روشنی کو فعالانہ طور پر اپنے زندگیوں میں دعوت دیتے ہیں، چاہے انکا موجودہ اندھیروں کا حالت کیسا بھی ہو۔ وہ لوگ جو کم از کم سورج کی روشنی کے خاطر اپنے کھڑکیوں کو کھولنے کی کوشش کرتے ہیں، اس بات سے قطع نظر کے وہ کتنے تنگ اور پھنسے  ہواۓ ہوں۔

آریا سماج کی طرف پھر سے لوٹتے ہوئے، یہ لفظ آریا سماج کا مطلب جدید دور میں بہت الجھا ہوا ہے. اسکے معنی اب بھی معزز انسانوں کا معاشرہ ہے اور آج بھی ایسے بہت سے ارکان ہیں جو ان دس اصول کے عاشق ہیں جنکی تشکیل سوامی دیانند جی نے کی تھی. یہ لوگ واقعی ویدک دین کے عظیم مثالیں ہیں – عالی درجے کے طلبا ! لیکن یہ محض افراد ہیں۔

لیکن آریا سماج نامی ایک ادارہ یا تنظیم بھی ہے جو ڈھیر سارے مندروں اور تنظیمی شعبہ پر مشتمل ہے. جو باللیووڈ میں مشہور ہے اس لئے کے نکاح کے منظروں کے لئے وہ پروہت کا انتظام کرواتے ہیں. اور جنکا فرار شدہ عاشقوں کے بیاہ کروانے سے کافی بڑا درامد ہے. آریا سماج کا یہ بے جرّت رویہ سوامی ڈینندا کے وراثت کا ایک مزاق ہے، اور اسکا ویدک مذہب سے کوئی رشتہ نہیں. وہ شاید اپنے ہوں اور سندھیا کرتے ہونگے، اور “ویدک دین زندہ باد” کا نعرہ لگاتے ہونگے، اور عوامی جلسے کا اہتمام کرتے ہونگے جس میں بڑے سیاستدان اور ثروتمند تاجر شریک ہوتے ہونگے. لیکن انکے اصلی تولید سے انکی نیت صاف معلوم ہوتا ہے. ویدوں میں ایک بنیادی اصل ہے کہ جو لوگ زیادہ علم اور صلاحیت کے مالک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ لوگ سزا  بزرگ کے مستحق بھی ہوتے ہیں. اس مضمون پر توجّہ فرمائیے –

http://agniveer.com/4272/manu-smriti-and-punishment/

ایک اور اصل ہے کے فریبی کو لفظوں سے بھی نوازا نہیں جانا چاہیے. تو پھر یہ آریا سماج – جو کے ایک بزرگ، بے ترتیب کٹی پارٹی ہے –  سب سے کم نمبر کا مستحق ہے اگر انکے تمام آبادی کو ویدک دھرم سے مطابقت کے لحاذ سے پرکھا جاۓ۔

ہماری یہ تجویز ہے کہ آپ کٹی پارٹی والےجماعتوں سے دور رہیں اگر آپ ویدوں کے اتخاذ سے اپنے زندگی اور سماج کی روحکو تبدیل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

میںاگنویر ویبسائٹ یا ستیارتھ پرکاش (نور حق) میں لکھے تمام باتوں سے متفقنہیں ہوں. میرے متفاوت خیالات ہیں. میرے لئے پرستش کا ایک دوسرا طریقہزیادہ موثر ہے. پھر بھی کیا میں ویدک دین کا پیروی کر سکتا ہوں؟

جیسے کے پہلے بتایا گیا ہے، آپکو اپنا حق ہے کہ آپکے خیالات الگ ہوں یا اگنویر اور ستیارتھ پرکاش  — جو کے اگنویر پر بیشتر تصوّرات کا منبع ہے — کے بر خلاف تصور اختیار کریں، اور صرف انکے خلاف نہیں بلکہ چار ویدوں کے خلاف بھی. واحد شرط صرف یہ ہے کے آپ یہ عمل بلا تعصّب اور ایمانداری سے کریں. کسی چیز کا دفاع کرنے کا سبب صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ہم ایسے ہی بہت مہینوں یا سالوں سے مانتے چلے آ رہے ہیں، یا کیونکہ ہمنے اس کی طرفداری میں ایک عام اشتہار یا حلف یا بیان جاری کیا تھا، یا کیونکہ یہ ہمارے پیشہ کی بنیاد سے جڑی ہوئ ہیں، یا اسلئے کے اگر ہم اپنا موقف بدل دن تو ہمارا مزاق اڑا جایگا یا ہم پر تشدّد برسایا جایگا. کسی موقف کا دفاع کرنے کا سبب صرف یہ ہے کے ہم سچائی سے اس کو صحیح مانتے ہیں. اور اسکے باوجود بھی ہم ایک دروازے کو خلا چھوڑے جاتے ہیں تا کے آیندہ کل شاید نیے معلومات کا پتا لگ سکے اور ان پر مزید غور کیا جا سکے۔

یہ ایک قدرتی طریقہ ہے جسے ہم سب اپناتے ہیں تا کہ بالغ بن سکیں. ورنہ چار سال کے عمر کے بعد جب ہماری مغز پوری طرح سے نشو و نما پا چکا ہوتا، ہم مزید تراققی نہیں کر پاتے اور وہیں کے وہیں نادان رہ جاتے. تو تمام  ویدک دین اس بات پر استوار ہے کے ہم فطرت کے ساتھ ہمیشہ ہم آہنگ رہیں، اور کبھی بھی گھمنڈ اور غیرت کو اس بیچ نہ لایں۔

ویدک مذہب کا دوسرے گروہ اور مذاھب سے کیا فرق ہے؟

– دوسرے سارے مذاھب بستہ معاہدے یا بند پککگے کی شکل میں بیچے جاتے ہیں. آپکے کچھ بنیادی عقیدے ہوتے ہیں، چند پیغمبر، کچھ پنڈت یا علما، چیدہ چیدہ رسم و رواج، اور کچھ پیش گوئی یا مستقبل کے بارے میں خبریں. یا تو آپ ان ساری منجملہ باتوں کو قبول کر لیں یا پھر آپ کو باہر کیا جایگا. اگرچہ آپ ان عقیدتوں کے مجموعہ سے سرفچند باتوں مے وشواس رکھتیہ ہیں، پھر بھی جماعت میں آپکو ان ساری باتوں پر امان لانے کا اعلان کرنا ہوگا. تو یہ جھوٹ  کو تشویق دینے کا ایک رویّہ ہے. آپ ان باتوں کو بیعت دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں جسکا آپ نہ تصدیق کر سکتے ہیں، نہ منطق سے سمجھ سکتے ہیں، نہ معقول قرار دے سکتے ہیں، یا پھر آپ کو باہر کیا جایگا۔

وڈک مذہب کی تخلیق مناسبت کو نظر میں رکھتا ہے. آپ صرف ان باتوں میں عقیدت کا اظہار کرتے ہیں جنکو آپ منطقی طور پر صحیح، معقول اور بدیہی پاتے ہیں، اور جسے آپ اسی وقت سمجھ پاتے ہیں. آپ کسی بھی کتاب، سنت، ولی، عقیدت، وغیرہ پر بیعت دینے سے انکار کر سکتے ہیں، اس شرط پر کے آپ یہ اخلاص کے ساتھ کہ رہے ہوں۔

– دوسرے سارے گروہ دوتائی منطق کمیں بندھے ہوئے ہیں. یا تو آپ ان میں سے ایک بن جو، یا پھر آپ کافر یا اچھوت کہلاتے ہیں. ویدک مذہب ایک گروہ نہیں ہے. آپ فطری طور پر ویدک ہیں. اور آپکے نیات کے مطابق آپ کم یا زیادہ ویدک ہوتے ہیں، اپنے زندگی کے مختلف پہلووں میں. یہ آپکے اور اس قوت عالیٰ کے درمیان کی بات ہے ( چاہے اسے جو بھی نام دو — خدا یا ایشور یا طبیعت کے قوانین وغیرہ )، اور کسی اور کو یہ حق نہیں کے وہ اس بات پر قضاوت کریں کے آپ اس دین کے اہلکار ہیں یا نہیں۔

– ویدک دین انسانیت کے قدیم ترین کتابوں سے مستقیما دریافت کیا گیا ہے – چار وید. وہ صرف ازلی اور ابدی باتوں پر مشتمل ہے اور ان ساری معاملات کو فرد اور معاشرہ کے حکمت اور دانش پر چھوڑ دیتی ہے جو جغرافیہ یا وقت سے جڑے ہوئے ہیں. اسکے علاوہ، وہ ان چار وید کی اور بیعت کا تقاضہ بھی نہیں کرتا. وید کا مطلب ہے علم یا معرفت. تو پھر زندگی کا کوئی بھی روش جو علم کی جسوجو میں فعال ہے، وہ ویدک ہے۔

– آپ کبھی بھی بیک وقت مسلم اور عیسائی نہیں ہو سکتے. لیکن آپ مسلم یا عیسائی یا ہندو یا یہودی ہونے کے ساتھ ساتھ ویدک بھی ہو سکتے ہیں۔

حالانکہ دوسرے مذاھب کا مطلب ہے کے آپانکےمفروضات کے کچھ نقاط پر اندھا وشواس کریں، ویدوں کا مطلب ہے کے آپ بہادری سے صداقت پر عمل کریں۔

 یعنیتمہارا یہ ویدک مذہب کا کوئی معیار، کوئی بنیاد، کوئی چارچوب نہیں ہے. ہربندہ منمانی کر کہ پھر بھی ویدک ہو سکتا ہے. چھی! بہتر ہے کے ائساعیت یااسلام جیسے زمرہ بندی میں شریک ہوکر تھوڑا سا نظم و ضبط سیکھ لیں۔

اس طرح کا سوچ صرف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کے ہم دماغ کے قیدی بن چکے ہیں۔ وہ قیدی جو کے ایک تاریک جیل میں بند کر دیا گیا ہے، اس سے خود مختاری کا سورج برداشت نہیں ہوتا. ایسے کئی واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ زندان سے نکلتے قیدیوں کو زندگی کی آزادی اتنا ناراحت محسوس ہوتا ہے کے وہ خود کشی کر بیٹھتے ہیں. حتیٰ کہ وہ تب تک پیشاب بھی نہیں کر پاتے جب تک کسی نے سیٹی نہ بجایا ہو ! یقیناً ویدک مذہب قید سے چپکنے والوں کے لئے نہیں ہے۔

لیکن ویدک مذہب کا یہ بھی مطلب نہیں کے آپ بے ترتیب، آلسی یا بے ضابطہ ہوں۔ اس کے بر عکس، وہ ہر پہلو سے عقلمند ضابطہ کا اشارہ کرتا ہے. تو پھر ویدک مذہب کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہوس کے شوخیوں میں لپٹے رہو، صرف اسلئے کے اس لمحے کے لئے آپکو اس میں ذوق اور حقیقت نظر آتا ہو. اسکے بجاۓ، آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ اپنے عقل سے ان اعمال کے نتائج پر دھیان دیں، اور اس پر “اگر – کیا ہوگا” قسم کا تجزیہ کریں. اگر اس دنیا کا ہر شخص میری طرح ہوس کا شکار ہو جاۓ تو کیا ہوگا؟ اگر کوئی میرے اپنے بہن یا ماں کے لئے ہوس کرے تو کیا ہوگا؟ اگر کوئی اور کو قتل کرنے سے اسی طرح کا مزہ حاصل ہو جیسے مجھ کو اس ہوس سے مل رہا ہے تو پھر اسکے کیا مضمرات ہیں؟ وغیرہ وغیرہ. اور اس نتیجہ پر پہنچ جائیے کہ سچائی یہ ہے کہ آپ اپنے ذہن کے مالک ہیں. اور یہ کہ ذہن پر قابو پاکر آپ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی کام یا چیز میں لطف اٹھا سکتے ہیں. تو پھر اپنے ذہن کا ایک ہوشیار مالک کی طرح، میں ان چیزوں میں کئی زیادہ مزے کی تلاش کرونگا جو میرے لئے طویل مدّت میں طاقت، زندہ دلی، اور توانائی حاصل کریں، نہ کہ الٹا کم ظرف ہوتا جاؤں. میں ان اعمال میں مزہ ڈھونڈونگا جن میں اگر دنیا کے سارے لوگ بھی لطف اٹھانا شروع کر لیں، تو اس جہاں کی زینت اور خوشی میں اضافہ ہوتا رہیگا۔

ایسے دانشورانہ نشو و نما میں کچھ گروہی رسم و رواج سے کئی زیادہ نظم و ضبط پایا جایگا۔

میں کہاں سے شروع کروں؟

– آپ ویدک ہو کر کسی بھی گروہ یا معاشرہ سے نیک اور اچھے رسم و رواج اپنا سکتے ہیں. ویدک ہونا کسی بھی پہلو سے آپکے عیسائی یا مسلم یا منکر ہونے سے متصادم نہیں کرتا. بس نیک رسوم اور عادات کو اپنا لو اور باقی چیزوں کو محض rad کر دو. ویسے بھی آپ یہی کر رہے ہیں. اس دنیا کا کوئی بھی شخص بائبل یا قرآن کے ہر خط کی پیروی نہیں کر سکےگا. ایسا ہونا تکنیکی طور پر نا ممکن ہے. تو پھر آپ ابھی بھی کتاب کو اپنے حالات کے مطابق باز ترتیب دیتے ہو. اس رجحان کو ایک قدم آگے بڑھائے. اسکے بجاے کے آپ مجبور ہوکر کتاب یا سنّت کو ٹوٹا پھوٹا اپنا رہے ہو، اپنے ضروریات کے مد نظر بہترین طریقے سے چن چن کر اپنا لو۔

بے رحمی سے ہر تصور اور ہر رسم پر سوالیہ نشان لگاو اور پوچھو – میں انکی تقلید کیوں کر رہا ہوں؟ محض اس لئے کے میں یہاں پیدا ہا، یا اس خطّہ میں معاشرتی طور پے ماخوذ کیا گیا، یا اسکا کوئی اور گہرا وجہ بھی ہے؟ اسکے جو بھی غلط جواب ابھرتے رہے، انکو رد کر دو. جو بھی منطق سے متضاد ہو. اور اس طرح آپ حق کے اور قریب آنے لگیںگے – ایک منفرد مذہب جو اپنے اپنے لئے خود تخلیق کیا ہوگا – جو خاص آپکے لئے بنایا گیا ہے۔

آپ اس مخصوص مذہب کو زندگی بھر تنظیماور تعدیل دیتے رہ سکتے ہیں. یہ ایک بہترین اور پر جزبہ شوق ہی نہیں، بلکےیہ آپکو اپنی اصلی ذات کو پہچاننے میں مددگار ثابت ہوگا. اس عمل میں آپ ہرقدم ویدک مذہب کے پیروکار ہونگے۔

تو آپ وہیں سے شروع کیجئے جہاں سے آپ راحت اور سکوں محسوس کریں، اور ہر وقت داروں بینی اور تجزیے سے کام چلاکر ہر عمل میں صرف نظم اور ضبط ہی نہیں، بلکہ ظرافت بھی لائیگا۔

– ایک اور طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ تمام مذاھب کے تمام نیک نقاط کو جمع کرکے ان میں سے زمرہ بندی سے تعلّق رکھنے والے نقاط کو رد کر دیں. مصال کے طور پر، سبھی مذاھب سچائی، امن، صداقت، ہمدردی وغیرہ کی بات کرتے ہیں. ان نقاط کو جمع کر لو اور یہ غنچہ خود ایک شاندار نقطۂ آغاز بن سکتا ہے آپکے مخصوص مذہب کے لئے، جو کے برّاق اور موثر ہوگا۔

– جو لوگ خود ساختگی کے بجاے اپنے نظم و ضبط کی جگہ ایک ریڈی میڈ متبادل کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں، انکے لئے آریا سماج کے اصول ایک بہترین نقطۂ آغاز ہے. ستیارتھ پرکاش یا نور حق کا ایک کاپی اپنے لئے مانگا لیجئے یا ہمسے رابطہ قایم کیجئے!

لہذا آپ نظم و ضبط کا ایک نہایت معقول سانچے کو اختیار کر سکتے ہیں، جو نہ صرف معمول تیار کرتا ہے بلکہ آپکے زندگی میں صحت اور عقل کی روشنی بھی لاتا ہے. تو بس ستیارتھ پرکاش یا نور حق کو ڈاونلوڈ کیجئے. اس کا غور سے جائزہ لیجئے، بخصوص ساتویں باب سے لیکر آگے. اگنویر پر بھی سارے مضامین پڑھ لیجئے. یہ آپکے شروعاتی قدموں کے لئے کافی علم فراہم کریگا تا کہ آپ اپنے طبیعت کی تسخیر کی طرف کوچ فرما سکے. اگر آپ کو کوئی شبہ ہو تو ہم سے رابطہ قایم رکھیں یا اگنویر کے کے ذہن میں کوئی سوالات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔

http://agniveer.com/contact/

نوٹ کیجئے، یہ بھی صرف ایک تجویز ہے، اس میں کچھ لازمی نہیں. ویدک مذہب کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں فقط معرفت ہے، زبردستی نہیں! ان مضامین اور ستیارتھ پرکاش کا کام صرف یہ ہے کے ان عمومی سوالات کی تالیف اور تجزیہ پیش کریں جو ہمارے ذہن میں وقفہ وقفہ پیدا ہوتے ہیں، لیکن جن پر ہم بحث کرنے سے ڈرتے ہیں۔

ویدک مذہب سے مجھے کیا کیا فوائد حاصل ہونگے؟

یہ بالکل اسی طرح کا سوال ہے جیسے کہ مجھے اب یا ہوا سے کیا کیا فوائد دستیاب ہونگے. آپکا فکری بقا کا انحصار آپکے دانش کی افزائش پر ہے. اور انسانوں کے لئے وہ خوشیاں جو دانش کی افزائش سے حاصل ہوتی ہیں، دوسرے لذّتوں سے کہیں گنا زیادہ ہے. یہی وجہ ہے کے انسانوں نے تمدّن کی تشکیل میں کامیابی حاصل کیا ہے، ورنہ سارا وقت محض خانے پینے کے معاملات، جنسی ملوث، اور سونے کے انتظام میں ضایع کرتے، دوسرے حیوانات کی طرح۔

لہٰذا ویدک مذہب سعادت کے ان درجات کے تالوں کو توڑیگا جنکا تصور بھی آپکو ہنوز نہ ہوں۔

ویدک مذہب اپنے ارادوں کو اپنے اہداف تک پہنچانے کا طریقہ سکھاتا ہے. ویدک مذہب کا شاگرد کسی بھی بات کو قسمت کے حوالے نہیں چھوڑتا. آپ خود خواہش کرتے ہیں، اور آپ ہی حاصل کرتے ہیں. آپ ذہنی قدرت کے ذریعہ اپنے خواہشاتکو کامیابی تک پہنچانے کا طریقہ سیکھیںگے. ویدک دین کے علاوہ دوسرا کوئیبھی طریقہ کار اس مہارت کو بہتر نہیں سکھا سکتا۔

ویدک مذہب آپکو کاملا بے خوف بنا دیتا ہے. آپ پہچان جاینگے کے آپکے نیات کے علاوہ ایسا اور کچھ بھی نہیں جو آپکو ضرر پہنچا سکے. اور آپ جانتے ہیں کے آپکے نیات آپکے کنٹرول میں ہیں. تو پھر ویدک شخص کی جسارت دوسروں میں نہیں پایا جاۓ گا. کوئی بھوت، کوئی جن، کوئی نحس، کوئی لعنت، کوئی نظر، کوئی خطرہ یا تہدید، کوئی ڈراکولا، کوئی ڈائن، کوئی جیوتش، یا انکے ہاتھ کی لکیریں اسے متاثر نہیں کر سکتے. وہ بے باکی کا اوتار ہے۔

ویدک مذہب آپ کے لئے ایک مثبت روح، دور اندیش اور مستقبلی شخصیت یقینی بناتا ہے. ویدک شخصیت کبھی بھی گناہ کے احساسات کے جال میں نہیں پھنستا. وہ جانتا ہے کے اسکا صورت حال گزشتہ پل تک کے نیات اور ارادوں کی عکاسی ہے. اور اسکا حالیہ نیت اسکے مستقبل کی تشکیل انجام دیگا. لہٰذا وہ اپنے موجودہ لمحے کو استمعال کرتا ہے تا کہ ایک مثبت نیت کو نافذ کر کے ایک روشن مستقبل کو یقینی بنا سکے. وہ ماضی کے فکر میں کبھی مبتلا نہیں رہتا اور نہ  ہی گناہوں اور خطاؤں کے افسوس یا پشیمانی کی جال میں پھنس کر جد و جہد ترک کر دیتا ہے۔

ویدک مذہب آپکے رشتوں کو دلچسپی اور خوشیاں سے بھر دیتا ہے. آپ سبھی چیزوں کو علیٰ قوت کی طرف سے آپکے گزشتہ عظیم نیات کے بدلے میں ایک تحفه ماننے لگتے ہیں. آپ تمام رشتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، مخلص طور پر محبّت کرتے ہیں اور انکے بارے میں نیک خیالات کیا کرتے ہیں کیونکہ یہی خوشیوں کے حصول کا واحد طریقہ ہے. آپ اپنے خاندان، معاشرہ اور دنیا کے خوشی کے لئے ارزشمند اعمال انجام دیتے ہیں. اور یہ عمل خود مزید خوشی پیدا کرتا ہے. اس طرح آپکے خوشی میں تکثیر چالو رہتا ہے. یہ دنیا آپکے لئے ایک فردوس بن کر رہ جاتا ہے، محبّتوں اور کامیابی سے سے بھرپور۔

ویدک مذہب آپکو انسان کامل بنا دیتا ہے. کیونکہ آپ ارادوں کے قدرت کے سطح پر کام کرتے ہیں، آپ اپنی مہارت کو ایک استعداد سے دوسرے استعداد میں منتقل کر سکتے ہیں. آپ ایک ماہر بحر العلوم بن کر رہ جاتے ہیں۔

بی وقوف اور نادان اعمال سے ویدک دین آپکو قدرتی طور پے بتدریج مصونیت عطا کرتا ہے. اسکے بعد آپکو کسی جادوئی طاقت کے ڈر سے یا آیندہ جنّت کے عالیشان شہوتوں کے سپنے دیکھ کر ہوس، لالچ، مایوسی، غصّہ، حسد، وغیرہ کے ساتھ مسلسل جنگ نہیں لڑنا پڑیگا. اسکے برعکس، ویدک مذہب سکھاتا ہے کہ یہ نادان اعمال در اصل جاسوس ہیں جو کہ بزرگترین مصیبتوں کو اندر لانے کی سازش رچ رہے ہوتے ہیں. اسکے بجاے آپ ان سے زیادہ صحتمند اور زیادہ لطف اندوز اعمال میں مختصر اور طویل مدّتی لذّت کے خاطر مصروف ہو جاتے ہیں. اب بار بار معافی مانگنے اور توبہ توبہ کرنے کی ضرورت نہیں. بس آپ ہوشیار اعمال کا لطف اٹھاتے رہینگے جب آپ سمجھ جاینگے کہ آپکو کیوں پاخانہ کی گندگی سے سمبھل کے بچنا چاہئے۔

اور سب سے اہم بات یہ کہ ویدک مذہب آپکو انتہائی سکون عطا کرتا ہے اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے. ہر پل کا مزہ ماضی کے برابر ہزار گنا زیادہ ہو جاتا ہے. یہ ایک ایسا مزہ ہے جو کہ حوصلہ، سرگرم اعمال، صحت، اور توانائی سے بھرپور ہے. آپکا خواب پر سکون، اور جاگنا آگاہی سے ہوشمند، آپکے اعمال متحرّک، آپکا تفکر خالص، آپکا صحت بے مثال، اور آپکا اشتیاق ارد گرد کے سبھی لوگوں کو متاثر کر رہا ہے. آپ سکون اور ذوق کی تعریف بن کر رہ جاتے ہیں۔

میں لکھتا جا سکتا ہوں. لیکن یہ پہلے ہی موجود ہے اور آپ اس کا اسی وقت تجربہ کر سکتے ہیں! تو پھر دیر کس بات کی! فورا سفر شروع کیجئے اور ایک قوی مرد بن جائیے. کرنا صرف یہ ہے کے مذکورہ ذیل باتوں پر وفاداری کا زوردار اعلان کریں –

میں وعدہ کرتا ہوں کہ میںرد باطل کا ایک مسلسل عمل کے ذریعہ، حق کی پذیرائ سب سے زیادہ مخلص انداز میں اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ہر لمحہ کرتا رہونگا۔

خدا کرے کہ آپ ویدک دین کی آغوش میں رگ وید کے اس آیت کے جیتے جاگتے راست مثال بن جایں –

میںایسی زبردست قابلیتوں کا صاحب بن چکا ہوں کہ اس دنیا کا کوئی بھی شخص مجھےروک نہیں سکتا. جیسے طاقتور گھوڑے رتھ کو جدھر چاہیں لے جاتے ہیں، اسی طرحمیں اپنے بلند خواہشات کو حاصل کر سکتا ہوں. میں آسانی سے بزرگ ترینرکاوٹوں کو تباہ کر سکتا ہوں. میں تاریخ کا دورہ بدل سکتا ہوں اور مستقبلکا ایک نمونہ کو شکل دے سکتا ہوں. یہ سب اس لئے ہوا ہے کہ میں نے حکمت اورعرفان کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔” (رگ وید 119۔10)

اگر آپ کو یقین ہے کے آپ ویدک مذہب کے وفادار پیروکار بن سکتے ہیں تو نیچے تبصرہ کے حصّے میں اپنے فیصلے کا اعلان کیجئے اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کریے. اس ضمنی بات کو یاد رکھیے کے خوشی کو بانٹنے سے اسکا اضافہ ہوتا ہے!

The 4 Vedas Complete (English)

The 4 Vedas Complete (English)

Buy Now

Print Friendly
Please read "Comment Policy" and read or post only if you completely agree with it. Comments above 2000 characters will be moderated. You can share your views here and selected ones will be replied directly by founder Sri Sanjeev Agniveer.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

 characters available

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>